لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

3۔ عدد کی عادت رکھنے والی عورت

498۔ جو عورتیں عدد کی عادت رکھتی ہیں ان کی دو قسمیں ہیں:

1۔ وہ عورت جس کے حیض کے دنوں کی تعداد یکے بعد دیگرے دو مہینوں میں یکساں ہو لیکن اس کے خون آنے کے وقت ایک جیسا نہ ہو اس صورت میں جتنے دن اسے خون آئے وہی اس کی عادت ہوگی۔ مثلاً اگر پہلے مہینے میں اسے پہلی تاریخ سے پانچویں تاریخ تک اور دوسرے مہینے میں گیارہویں سے پندرہویں تاریخ تک خون آئے تو اس کی عادت پانچ دن ہوگی۔

2۔ وہ عورت جسے یکے بعد دیگرے دو مہینوں میں سے ہر ایک میں تین یا تین سے زیادہ دنوں تک خون آئے اور ایک یا اس سے زائد دنوں کے لئے بند ہو جائے اور پھر دوبارہ خون آئے اور خون آنے کا وقت پہلے مہینے اور دوسرے مہینے میں مختلف ہو اس صورت میں اگر ان تمام دنوں کی تعداد جن میں خون آیا ہے بمع ان درمیانی دنوں کے جن میں خون بند رہا ہے دس سے زیادہ نہ ہو اور دونوں مہینوں میں سے ہر ایک میں ان کی تعدا بھی یکساں ہو تو وہ تمام دن جن میں خون آیا ہے اس کے حیض کی عادت کے دن شمار کئے جائیں گے اور ان درمیانی دنوں میں جن میں خون نہیں آیا احتیاط کی بنا پر ضروری ہے کہ جو کام پاک عورت پر واجب ہیں انجام دے اور جو کام حائض پر حرام ہیں انہیں ترک کرے مثلاً اگر پہلے مہینے میں اسے پہلی تاریخ سے تیسری تاریخ تک خون آئے اور پھر دو دن کے لئے بند ہو جائے اور پھر دوبارہ تین دن خون آئے اور دوسرے مہینے میں گیارہوں تاریخ سے تیرہویں تک خون آئے اور وہ دن کے لئے بند ہوجائے اور پھر دو بارہ تین دن خون آئے تو اس عورت کی عادت چھ دن کی ہوگی۔ اور اگر پہلے مہینے میں اس آٹھ دن خون آئے اور دوسرے مہینے میں چار دن خون آئے اور پھر بند ہو جائے اور پھر دوبارہ آئے اور خون کے دنوں اور درمیان میں خون بند ہوجانے والے دنوں کی مجموعی تعداد آٹھ دن ہو تو ظاہراً یہ عورت عدد کی عادت نہیں رکھتی بلکہ مُضطَرِبہ شمار ہوگی۔ جس کا حکم بعد میں بیان کیا جائے گا۔

ص:105

499۔ جو عورت عدد کی عادت رکھتی ہو اگر اسے اپنی عادت کی تعداد سے کم یا زیادہ دن خون آئے اور ان دنوں کی تعداد دس سے زیادہ ہو تو ان تمام دنوں کو حیض قرار دے۔ اور اگر اس کی عادت سے زیادہ خون آئے اور دس دن سے تجاوز کر جائے تو اگر تمام کا تمام خون ایک جیسا ہو تو خون آنے کی ابتدا سے لے کر اس کی عادت کے دنوں تک حیض اور باقی خون کو استحاضہ قرار دے۔ اور اگر آنے والا تمام خون ایک جیسا نہ ہو بلکہ کچھ دن حیض کی علامات کے ساتھ اور کچھ دن استحاضہ کی علامات کے ساتھ ہو پس اگر حیض کی علامات کے ساتھ آنے والے خون کے دنوں کی تعداد اس کی عادت کے دنوں کے برابر ہو تو ضروری ہے کہ ان دنوں کو حیض اور باقی دنوں کو استحاضہ قرار دے اور اگر ان دنوں کی تعداد جن میں خون حیض کی علامات کے ساتھ آیا ہو عادت کے دنوں سے زیادہ ہو تو صرف عادت کے دن حیض اور باقی دن استحاضہ ہے اور اگر حیض کے علامات کے ساتھ آنے والے خون کے دنوں کی تعداد عادت کے دنوں سے کم ہو تو ضروری ہے کہ ان دنوں کے ساتھ چند اور دنوں کو ملا کر عادت کی مدت پوری کرے اور ان کو حیض اور باقی دنوں کو استحاضہ قرار دے۔