لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
ص:98
485۔ جو عورتیں وقت اور عدد کی عادت رکھتی ہیں ان کی دو قسمیں ہیں:۔
(اول) وہ عورت جسے یکے بعد دیگرے دو مہینوں میں ایک مُعَیّن وقت پر خون آئے اور وہ ایک مُعَیّن وقت پر ہی پاک بھی ہو جائے مثلاً یکے بعد دیگرے دو مہینوں میں اسے مہینے کی پہلی تاریخ کو خون آئے اور وہ ساتویں روز پاک ہو جائے تو اس عورت کی حیض کی عادت مہینے کی پہلی تاریخ سے ساتویں تاریخ تک ہے۔
(دوم) وہ عورت جسے یکے بعد دیگرے دو مہینوں میں مُعَیّن وقت پر خون آئے اور جب تین یا زیادہ دن تک خون آچکے تو وہ ایک یا زیادہ دنوں کے لئے پاک ہو جائے اور پھر اسے دوبارہ خون آجائے اور ان تمام دنوں کی تعداد جن میں اسے خون آیا ہے بشمول ان درمیانی دنوں کے جن میں وہ پاک رہی ہے دس سے زیادہ نہ ہو اور دونوں مہینوں میں تمام دن جن میں اسے خون آیا اور بیچ کے وہ دن جن میں پاک رہی ہو ایک جتنے ہوں تو اس کی عادت ان تمام دنوں کے مطابق قرار پائے گی جن میں اسے خون آیا لیکن ان دنوں کو شامل نہیں کر سکتی جن کے درمیان پاک رہی ہو۔ پس لازم ہے کہ جن دنوں میں اسے خون آیا ہو اور جن دنوں میں وہ پاک رہی ہو دونوں مہینوں میں ان دنوں کی تعداد ایک جتنی ہو مثلاً اگر پہلے مہینے میں اور اسی طرح دوسرے مہینے میں اسے پہلی تاریخ سے تیسری تاریخ تک خون آئے اور پھر تین دن پاک رہے اور پھر تین دن دوبارہ خون آئے تو اس عورت کی عادت چھ دن کی ہو جائے گی اور اگر اسے دوسرے مہینے میں آنے والے خون کے دنوں کی تعداد اس سے کم یا زیادہ ہو تو یہ عورت وقت کی عادت رکھتی ہے، عدد کی نہیں۔
486۔ جو عورت وقت کی عادت رکھتی ہو خواہ عدد کی عادت رکھتی ہو یا نہ رکھتی ہو اگر اسے عادت کے وقت یا اس سے ایک دو دن یا اس سے بھی زیادہ دن پہلے خون آجائے جب کہ یہ کہا جائے کہ اس کی عادت وقت سے قبل ہو گئی ہے اگر اس خون میں حیض کی علامات نہ بھی ہوں تب بھی ضروری ہے کہ ان احکام پر عمل کرے جو حائض کے لئے بیان کئے گئے ہیں۔ اور اگر ابعد میں اسے پتہ چلے کہ وہ حیض کا خون نہیں تھا مثلاً وہ تین دن سے پہلے پاک ہو جائے تو ضروری ہے کہ جو عبادات اس نے انجام نہ دی ہوں ان کی قضا کرے۔
487۔ جو عورت وقت اور عدد کی عادت رکھتی ہو اگر اسے عادت کے تمام دنوں میں اور عادت سے چند دن پہلے اور عادت کے چند دن بعد خون آئے اور وہ کل ملا کر دس دن سے زیادہ نہ ہوں تو وہ سارے کا سارا حیض ہے اور اگر یہ مدت دس دن سے بڑھ جائے تو جو خون اسے عادت کے دنوں میں آیا ہے وہ حیض ہے اور جو عادت سے پہلے یا بعد میں آیا ہے وہ استحاضہ ہے اور جو عبادات وہ عادت سے پہلے اور بعد کے دنوں میں بجا نہیں لائی ان کی قضا کرنا ضروری ہے۔ اور اگر
ص:99
عادت کے تمام دنوں میں اور ساتھ ہی عادت سے کچھ دن پہلے اسے خون آئے اور ان سب دنوں کو ملا کر ان کی تعداد دس سے زیادہ نہ ہو تو سارا حیض ہے اور اگر دنوں کی تعداد دس سے زیادہ ہو جائے تو صرف عادت کے دنوں میں آنے والا خون حیض ہے اگرچہ اس میں حیض کی علامات نہ ہوں اور اس سے پہلے آنے والا خون حیض کی علامات کے ساتھ ہو۔ اور جو خون اس سے پہلے آئے وہ استحاضہ ہے اور اگر عادت کے تمام دنوں میں اور ساتھ ہی عادت کے چند دن بعد خون آئے اور کل دنوں کی تعداد ملا کر دس سے زیادہ نہ ہو تو سارے کا سارا حیض ہے اور اگر یہ تعداد دس سے بڑھ جائے تو صرف عادت کے دنوں میں آنے والا خون حیض ہے اور باقی استحاضہ ہے۔
488۔ جو عورت وقت اور عدد کی عادت رکھتی ہو اگر اسے عادت کے کچھ دنوں میں یا عادت سے پہلے خون آئے اور ان تمام دنوں کو ملا کر ان کی تعداد دس سے زیادہ نہ ہو تو وہ سارے کا سارا حیض ہے۔ اور اگر ان دنوں کی تعداد دس سے بڑھ جائے تو جن دنوں میں اسے حسب عادت خون آیا ہے اور پہلے کے چند دن شامل کرکے عادت کے دنوں کی تعداد پوری ہونے تک حیض اور شروع کے دنوں کو استحاضہ قرار دے۔ اور اگر عادت کے کچھ دنوں کے ساتھ ساتھ عادت کے بعد کے کچھ دنوں میں خون آئے اور ان سب دنوں کو ملا کر ان کی تعداد دس سے زیادہ نہ ہو تو سارے کا سارا حیض ہے اور اگر دس سے بڑھ جائے تو اسے چاہئے کہ جن دنوں میں عادت کے مطابق خون آیا ہے اس میں بعد کے چند دن ملا کر جن دنوں کی مجموعی تعداد اس کی عادت کے دنوں کے برابر ہو جائے انہیں حیض اور باقی کو استحاضہ قرار دے۔
489۔ جو عورت عادت رکھتی ہو اگر اس کا خون تین یا زیادہ دن تک آنے کے بعد رک جائے اور پھر دوبارہ خون آئے اور ان دونوں خون کا درمیانی فاصلہ دس دن سے کم ہو اور ان سب دنوں کی تعداد جن میں خون آیا ہے بشمول ان درمیانی دنوں کے جن میں پاک رہی ہو دس سے زیادہ ہو۔ مثلاً پانچ دن خون آیا ہو پھر پانچ دن رک گیا ہو اور پھر پانچ دن دوبارہ آیا ہو تو اس کی چند صورتیں ہیں :
1۔ وہ تمام خون یا اس کی کچھ مقدار جو پہلی بار دیکھے عادت کے دنوں میں ہو اور دوسرا خون جو پاک ہونے کے بعد آیا ہے عادت کے دنوں میں نہ ہو۔ اس صورت میں ضروری ہے کہ پہلے تمام خون کو حیض اور دوسرے خون کو استحاضہ قرار دے۔
2۔ پہلا خون عادت کے دنوں میں نہ آئے اور دوسرا تمام خون یا اس کی کچھ مقدار عادت کے دنوں میں آئے تو ضروری ہے کہ دوسرے تمام خون کو حیض اور پہلے کو استحاضہ قرار دے۔
ص:100
3۔ دوسرے اور پہلے خون کی کچھ مقدار عادت کے دنوں میں آئے اور ایام عادت میں آنے والا پہلا خون تین دن سے کم نہ ہو اس صورت میں وہ مدت بمع درمیان میں پاک رہنے کی مدت اور عادت کے دنوں میں آنے والے دوسرے خون کی مدت دس دن سے زیادہ نہ ہو تو دونوں میں خون حیض ہیں اور احتیاط واجب یہ ہے کہ وہ پاکی کی مدت میں پاک عورت کے کام بھی انجام دے اور وہ کام جو حائض پر حرام ہیں ترک کرے۔اور دوسرے خون کی وہ مقدار جو عادت کے دنوں کے بعد آئے استحاضہ ہے۔ اور خون اول کی وہ مقدار جو ایام عادت سے پہلے آئی ہو اور عرفاً کہا جائے کہ اس کی عادت وقت سے قبل ہو گئی ہے تو وہ خون، حیض کا حکم رکھتا ہے۔ لیکن اگر اس خون پر حیض کا حکم لگانے سے دوسرے خون کی بھی کچھ مقدار جو عادت کے دنوں میں تھی یا سارے کا سارا خون، حیض کا حکم لگانے سے دوسرے خون کی بھی کچھ مقدار جو عادت کے دنوں میں تھی یا سارے کا سارا خون، حیض کے دس دن سے زیادہ ہو جائے تو اس صورت میں وہ خون، خون استحاضہ کا حکم رکھتا ہے مثلاً اگر عورت کی عادت مہینے کی تیسری سے دسویں تاریخ تک ہو اور اسے کسی مہینے کی پہلی سے چھٹی تاریخ تک خون آئے اور پھر دو دن کے لئے بند ہو جائے اور پھر پندرھویں تاریخ تک آئے تو تیسری سے دسویں تاریخ تک حیج ہے اور گیارہویں سے پندرہویں تاریخ تک آنے والا خون استحاضہ ہے۔
4۔ پہلے اور دوسرے خون کی کچھ مقدار عادت کے دنوں میں آئے لیکن ایام عادت میں آنے والا پہلا خون تین دن سے کم ہو۔ اس صورت میں بعید نہیں ہے کہ جتنی مدت اس عورت کو ایام عادت میں خون آیا ہے اسے عادت سے پہلے آنے والے خون کی کچھ مدت کے ساتھ ملا کر تین دن پورے کرے اور انہیں ایام حیض قرار دے۔ پس اگر ایسا ہو کہ وہ دوسرے خون کی اس مدت کو جو عادت کے دنوں میں آیا ہے حیض قرار دے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ مدت اور پہلے خون کی وہ مدت جسے حیض قرار دیا ہے اور ان کے درمیان پاکی کی مدت سب ملا کر دس دن سے تجاوز نہ کریں۔ تو یہ سب ایام حیض ہیں ورنہ دوسرا خون استحاضہ ہے۔ اور بعض صورتوں میں ضروری ہے کہ پہلے پورے خون کو حیض قرار دے۔ نہ کہ اس خاص مقدار کو جسے پہلے خون کی کمی پورا کرنے کے لئے وہ لازمی طور پر حیض قرار دیتی ۔ اور اس میں دو شرطیں ہیں:
(اول)اسے اپنی عادت سے کچھ دن پہلے خون آیا ہو کہ اس کے باری میں یہ کہا جائے کہ اس کی عادت تبدیل ہو کر وقت سے پہلے ہو گئی ہے۔
ص:101
(دوم) وہ اسے حیض قرار دے تو یہ لازم نہ آئے کہ اس کے دوسرے خون کی کچھ مقدار جو کہ عادت کے دنوں میں آیا ہو حیض کے دس دن سے زیادہ ہو جائے مثلاً اگر عورت کی عادت مہینے کی چوتھی تاریخ سے دس تاریخ تک تھی اور اسے مہینے کے پہلے دن سے چوتھے دن کے آخری وقت تک خون آئے اور دو دن کے لئے پاک ہو اور پھر دوبارہ اسے پندرہ تاریخ تک خون آئے تو اس صورت میں پہلا پورے کا پورا خون حیض ہے۔ اور اسی طرح دوسرا وہ خون بھی جو دسویں دن کے آخری وقت تک آئے حیض کا خون ہے۔
490۔ جو عورت وقت اور عدد کی عادت رکھتی ہو اگر اسے عادت کے وقت خون نہ آئے بلکہ اس کے علاوہ کسی اور وقت حیض کے دنوں کے برابر دنوں میں حیض کی علامات کے ساتھ اسے خون آئے تو ضروری ہے کہ اسی خون کو حیض قرار دے خواہ وہ عادت کے وقت سے پہلے آئے یا بعد میں آئے۔
491۔ جو عورت وقت اور عدد کی عادت رکھتی ہو اگر اسے عادت کے وقت تین یا تین سے زیادہ دن تک خون آئے لیکن اس کے دنوں کی تعداد اس کی عادت کے دنوں سے کم یا زیادہ ہو اور پاک ہونے کے بعد اسے دوبارہ اتنے دنوں کے لئے خون آئے جتنی اس کی عادت ہو تو اس کی چند صورتیں ہیں:
1۔ دونوں خون کے دنوں اور ان کے درمیان پاک رہنے کے دنوں کو ملا کر دس دن سے زیادہ نہ ہو تو اس صورت میں دونوں خون ایک حیض شمار ہوں گے۔
2۔ دونوں خون کے درمیان پاک رہنے کی مدت دس دن یا دس دن سے زیادہ ہو تو اس صورت میں دونوں خون میں سے ہر ایک کو ایک مستقل حیض قرار دیا جائے گا۔
3۔ ان دونوں خون کے درمیان پاک رہنے کی مدت دس دن سے کم ہو لیکن ان دونوں خون کو اور درمیان میں پاک رہنے کی ساری مدت کو ملا کر دس دن سے زیادہ ہو تو اس صورت میں ضروری ہے کہ پہلے آنے والے خون کو حیض اور دوسرے خون کو استحاضہ قرار دے۔
492۔ جو عورت وقت اور عدد کی عادت رکھتی ہو اگر اسے دس سے زیادہ دن تک خون آئے تو جو خون اسے عادت کے دنوں میں آئے خواہ وہ حیض کی علامات نہ بھی رکھتا ہو تب بھی حیض ہے اور جو خون عادت کے دنوں کے بعد آئے خواہ وہ
ص:102
حیض کی علامات بھی رکھتا ہو استحاضہ ہے۔ مثلاً اگر ایک ایسی عورت جس کی حیض کی عادت مہینے کی پہلی سے ساتویں تاریخ تک ہو اسے پہلی سے بارہویں تاریخ تک خون آئے تو پہلے ساتھ دن حیض اور بقیہ پانچ دن استحاضہ کے ہوں گے۔