لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

گیهوں، جَو، کھجور اور کشمش کی زکوۃ

1872۔ گیهوں، جَو، کھجور اور کشمش پر زکوٰۃ اس وقت واجب هوتی هے جب وه نصاب کی حد تک پهنچ جائیں اور ان کا نصاب تین سو صاع هے جو ایک گروه (علماء) کے بقول تقریباً 847 کیلو هوتا هے۔

1873۔جس انگور، کھجور ، جو اور گیهوں پر زکوٰۃ واجب هوچکی هو اگر کوئی شخص خود یا اس کے اهل و عیال اسے کھالیں یا مثلاً وه یه اجناس کسی فقیر کو زکوۃ کی نیت کے بغیر دے دے تو ضروری هے که جتنی مقدار استعمال کی هو اس پر زکوٰۃ دے۔

ص:348

1874۔ اگر گیهوں،جَو،کھجور اور انگور پر زکوٰۃ واجب هونے کے بعد ان چیزوں کا مالک مرجائے تو جتنی زکوٰۃ بنتی هو وه اس کے مال سے دینی ضروری هے لیکن اگر وه شخص زکوۃ واجب هونے سے پهلے مرجائے تو هر وه وارث جس کا حصه نصاب تک پهنچ جائے ضروری هے که اپنے حصے کی زکوۃ خود ادا کرے۔

1875۔ جو شخص حاکم شرح کی طرف سے زکوٰۃ جمع کرنے پر مامور هو وه گیهوں اور جو کے کھلیان میں بھوسا (اور دانه) الگ کرنے کے وقت اور کھجور اور انگور کے خشک هونےکے وقت زکوٰۃ کا مطالبه کر سکتا هے اور اگرمالک نه دے اور جس چیز پر زکوٰۃ واجب هوگئی هو وه تلف هو جائے تو ضروری هے که اس کا عوض دے۔

1876۔اگر کسی شخص کے کھجور کے درختوں، انگور کی بیلوں یا گیهوں اور جَو کے کھیتوں (کی پیداوار) کا مالک بننے کے بعد ان چیزوں پر زکوٰۃ واجب هو جائے تو ضروری هے که ان پر زکوٰۃ دے۔

1877۔اگر گیهوں، جَو، کھجور اور انگور پر زکوٰۃ واجب هونے کے بعد کوئی شخص کھیتوں اور درختوں کو بیچ دے تو بیچنے والے پر ان اجناس کی زکوٰۃ دینا واجب هے اور جب وه زکوۃ ادا کر دے تو خریدنے والے پر کچھ واجب نهیں هے۔

1878۔اگر کوئی شخص گیهوں، جَو، کھجور یا انگور خریدے اور اسے علم هو که بیچنے والے نے ان کی زکوٰۃ دے دی هے یا شک کرے که اس نے زکوٰۃ دی هے یا نهیں تو اس پر کچھ واجب نهیں هے اور اگر اسے معلوم هو که بیچنے والے نے ان پر زکوٰۃ نهیں دی تو ضروری هے که وه خود اس پر زکوٰۃ دیدے لیکن اگر بیچنے والے نے دغل کیا هو تو وه زکوۃ دینے کے بعد اس سے رجوع کر سکتا هے اور زکوۃ کی مقدار کا اس سے مطالبه کر سکتا هے۔

1879۔ اگر گیهوں، جَو، کھجور اور انگور کا وزن تر هونے کے وقت نصاب کی حد تک پهنچ جائے اور خشک هونے کے وقت اس حد سے کم هو جائے تو اس پر زکوٰۃ واجب نهیں هے۔

1880۔اگر کوئی شخص گیهوں، جَو اور کھجور کو خشک هونے کے وقت سے پهلے خرچ کرے تو اگر وه خشک هو کر نصاب پر پوری اتریں تو ضروری هے که ان کو زکوٰۃ دے۔

1881۔ کھجور کی تین قسمیں هیں :۔

1۔ وه جسے خشک کیا جاتا هے (یعنی چھوارے)۔ اس کی زکوٰۃ کا حکم بیان هو چکا هے۔

ص:349

2۔ وه جو رُطَب (پکی هوئی رس دار) هونے کی حالت میں کھائی جاتی هے ۔

3۔ وه جو کچی هی کھائی جاتی هے۔

دوسری قسم کی مقدار اگر خشک هونے پر نصاب کی حد تک پهنچ جائے تو احتیاط مستحب هے که اس کی زکوۃ دی جائے۔ جهان تک تیسری قسم کا تعلق هے ظاهر یه هے که اس پر زکوٰۃ واجب نهیں هے۔

1882۔ جس گیهوں، جَو، کھجور اور کشمش کی زکوٰۃ کسی شخص نے دے دی هو اگر وه چند سال اس کے پاس پڑی بھی رهیں تو ان پر دوباره زکوٰۃ واجب نهیں هوگی۔

1883۔ اگر گیهوں،جَو، کھجور اور انگور (کی کاشت) بارانی یا نهری زمین پر کی جائے یا مصر زراعت کی طرح انهیں زمین کی نمی سے فائده پهنچے تو ان پر زکوۃ دسواں حصه هے اور اگر ان کی سینچائی (جھیل یا کنویں وغیره) کے پانی سے بذریعه ڈول کی جائے تو ان پر زکوۃ بیسواں حصه هے۔

1884۔ اگر گیهوں، جو، کھجور اور انگور (کی کاشت) بارش کےپانی سے بھی سیراب هو اور اسے ڈول وغیره کے پانی سے بھی فائده پهنچے تو اگر یه سینچائی ایسی هو که عام طور پر کها جاسکے که ان کی سینچائی ڈول وغیره سے کی گئی هے تو اس پر زکوۃ بیسواں حصه هے اور اگر یه کها جائے که یه نهر اور بارش کے پانی سے سیراب هوئے هیں تو ان پر زکوٰۃ دسواں حصه هے اور اگر سینچائی کی صورت یه هو که عام طور پر کها جائے که دونوں ذرائع سے سیراب هوئے هیں تو اس پر زکوۃ ساڑھے سات فی صد هے۔

1885۔ اگر کوئی شک کرے که عام طور پر کون سی بات صحیح سمجھی جائے گی اور اسے علم نه هو که سینچائی کی صورت ایسی هے که لوگ عام طور پر کهیں که دونوں ذرائع سے سینچائی هوئی یا یه کهیں که مثلاً بارش کے پانی سے هوئی هے تو اگر وه ساڑھے سات فی صد زکوٰۃ دے تو کافی هے۔

1886۔ اگر کوئی شک کرے اور اسے علم نه هو که عموماً کهتے هیں که دونوں ذرائع سے سینچائی هوئی هے یا یه کهتے هیں که ڈول وغیره سے هوئی هے تو اس صورت میں بیسواں حصه دینا کافی هے۔ اور اگر اس بات کا احتمال بھی هو که عموماً لوگ کهیں که بارش کے پانی سے سیرابی هوئی هے تب بھی یهی حکم هے۔

ص:350

1887۔ اگر گیهوں،جَو، کھجور اور انگور بارش اور نهر کے پانی سے سیراب هوں اور انهیں ڈول وغیره کے پانی کی حاجت نه هو لیکن ان کی سینچائی ڈول کے پانی سے بھی هوئی هو اور ڈول کے پانی سے آمدنی میں اضافے میں کوئی مدد نه ملی هو تو ان پر زکوٰۃ دسواں حصه هے اور اگر ڈول وغیره کے پانی سے سینچائی هوئی هو اور نهر اور بارش کے پانی کی حاجت نه هو لیکن نهر اور بارش کے پانی سے بھی سیراب هوں اور اس سے آمدنی میں اضافے میں کوئی مدد نه ملی هو تو ان پر زکوٰۃ بیسواں حصه هے۔

1888۔اگر کسی کھیت کی سینچائی ڈول وغیره سے کی جائے اور اس سے ملحقه زمین میں کھیتی باڑی کی جائے اور وه ملحقه زمین اس زمین سے فائده اٹھائے اور اسے سینچائی کی ضرورت نه رهے تو جس زمین کی سینچائی ڈول وغیره سے کی گئی هے اس کی زکوٰۃ بیسواں حصه اور اس سے ملحقه کھیت کی زکوٰۃ احتیاط کی بنا پر دسواں حصه هے۔

1889۔جو اخراجات کسی شخص نے گیهوں، جو، کھجور اور انگور پر کئے هوں انهیں وه فصل کی آمدنی سے منها کرکے نصاب کا حساب نهیں لگا سکتا لهذا اگر ان میں سے کسی ایک کا وزن اخراجات کا حساب لگانے سے پهلے نصاب کی مقدار تک پهنچ جائے تو ضروری هے که اس پر زکوٰۃ دے۔

1890۔ جس شخص نے زراعت میں بیج استعمال کیا هو خواه وه اس کے پاس موجود هو یا اس نے خریدا هو وه نصاب کا حساب اس بیچ کو فصل کی آمدنی سے منها کر کے نهیں کر سکتا بلکه ضروری هے که نصاب کا حساب پوری فصل کو مدنظر رکھتے هوئے لگائے۔

1891۔ جو کچھ حکومت اصلی مال سے (جس پر زکوٰۃ واجب هو) بطور محصول لے لے اس پر زکوۃ واجب نهیں هے مثلاً اگر کھیت کی پیداوار 2000 کیلو هو اور حکومت اس میں سے 1000 کیلو بطور لگان کے لے لے تو زکوٰۃ فقط 1900 کیلو پر واجب هے۔

1892۔ احتیاط واجب کی بنا پر انسان یه نهیں کر سکتا که جو اخراجات اس نے زکوٰۃ واجب هونے سے پهلے کئے هوں انهیں وه پیداوار سے منها کرے اور صرف باقی مانده پر زکوۃ دے۔

1893۔ زکوٰۃ واجب هونے کے بعد جو اخراجات کئے جائیں اور جو کچھ زکوۃ کی کی مقدار کی نسبت خرچ کیا جائے وه پیداوار سے منها نهیں کیا جاسکتا اگرچه احتیاط کی بنا پر حکم شرع یا اس کے وکیل سے اس کو خرچ کرنے کی اجازت بھی لے لی هو۔

ص:351

1894۔ کسی شخص کے لئے یه واجب نهیں که وه انتظار کرے تاکه جو اور گیهوں کھلیان تک پهنچ جائیں اور انگور اور کھجور کے خشک هونے کا وقت هو جائے پھر زکوٰۃ دے بلکه جونهی زکوٰۃ واجب هو جائز هے که زکوٰۃ کی مقدار کا اندازه لگا کر وه قیمت بطور زکوٰۃ دے۔

1895۔ زکوٰۃ واجب هونے کے بعد متعلقه شخص یه کر سکتا هے که کھڑی فصل کاٹنے یا کھجور اور انگور کو چننے سے پهلے زکوٰۃ مستحق شخص یا حاکم شرع یا اس کے وکیل کو مشترکه طور پیش کر دے اور اس کے بعد وه اخراجات میں شریک هوں گے۔

1896۔ جب کوئی شخص فصل یا کھجور اور انگور کی زکوٰۃ عین مال کی شکل میں حاکم شرع یا مستحق شخص یا ان کے وکیل کو دے دے تو اس کے لئے ضروری نهیں که بلا معاوضه مشترکه طور پر ان چیزوں کی حفاظت کرے بلکه وه فصل کی کٹائی یا کھجور اور انگور کے خشک هونےتک مال زکوٰۃ اپنی زمین میں رهنے کے بدلے اجرت کا مطالبه کر سکتا هے۔

1897۔ اگر انسان کئی شهریوں میں فصل پکنے کا وقت ایک دوسرے سے مختلف هو اور ان سب شهروں سے فصل اور میوے ایک هی وقت میں دستیاب نه هوتے هوں اور یه سب ایک سال کی پیداوار شمار هوتے هوں تو اگر ان میں سے جو چیز پهلے پک جائے وه نصاب کے مطابق هو تو ضروری هے که اس پر اس کے پکنے کے وقت زکوٰۃ دے اور باقی مانده اجناس پر اس وقت زکوٰۃ دے جب وه دستیاب هوں اور اگر پهلے پکنے والی چیز نصاب کے برابر نه هو تو انتظار کرے تاکه باقی اجناس پک جائیں۔ پھر اگر سب ملا کر نصاب کے برابر هوجائیں تو ان پر زکوٰۃ واجب هے اور اگر نصاب کے برابر نه هوں تو ان پر زکوۃ واجب نهیں هے۔

1898۔ اگر کھجور اور انگور کے درخت سال میں دو دفعه پھل دیں اور دونوں مرتبه کی پیداوار جمع کرنے پر نصاب کے برابر هوجائے تو احتیاط کی بنا پر اس پیداوار پر زکوٰۃ واجب هے۔

1899۔ اگر کسی شخص کے پاس غیر خشک شده کھجوریں هوں یا انگور هوں جو خشک هونے کی صورت میں نصاب کے مطابق هوں تو اگر ان کے تازه هونے کی حالت میں وه زکوٰۃ کی نیت سے ان کی اتنی مقدار زکوٰۃ کے مصرف میں لے آئے جتنی ان کے خشک هونے پر زکوۃ کی اس مقدار کے برابر هو جو اس پر واجب هے تو اس میں کوئی حرج نهیں۔

1900۔ اگر کسی شخص پر خشک کھجور یا کشمش کی زکوٰۃ واجب هو تو وه ان کی زکوٰۃ تازه کھجور یا انگور کی شکل میں نهیں دے سکتا بلکه اگر وه خشک کھجور یا کشمش کی زکوۃ کی قیمت لگائے اور انگور یا تازه کھجوریں یا کشمش یا کوئی اور خشک کھجوریں اس

ص:352

قیمت کے طور پر دے تو اس میں بھی اشکال هے نیز اگر کسی پر تازه کھجور یا انگور کی زکوۃ واجب هو تو وه خشک کھجور یا کشمش دے کر وه زکوٰۃ ادا نهیں کر سکتا بلکه اگر وه قیمت لگا کر کوئی دوسری کھجور یا انگور دے تو اگرچه وه تازه هی هو اس میں اشکال هے۔

1901۔ جو کچھ حکومت اصلی مال سے (جس پر زکوٰۃ واجب هو) بطور محصول لے لے اس پر زکوٰۃ واجب نهیں هے مثلاً اگر کھیت کی پیداوار 2000 کیلو هو اور حکومت اس میں سے 100 کیلو بطور لگان کے لے لے تو زکوٰۃ فقط 1900 کیلو پر واجب هے۔

1892۔ احتیاط واجب کی بنا پر انسان یه نهیں کر سکتا که جو اخراجات اس نے زکوۃ واجب هونے سے پهلے کئے هوں انهیں وه پیداوار سے منها کرے اور صرف باقی مانده پر زکوٰۃ دے۔

1893۔ زکوٰۃ واجب هونے کے بعد جو اخراجات کئے جائیں اور جو کچھ زکوٰۃ کی مقدار کی نسبت خرچ کیا جائے وه پیداوار سے منها نهیں کیا جاسکتا اگرچه احتیاط کی بنا پر ھاکم شرع یا اس کے وکیل سے اس کو خرچ کرنے کی اجازت بھی لے لی هو۔

1894۔ کسی شخص کے لئے یه واجب نهیں که وه انتظار کرے تاکه جو اور گیهوں کھلیان تک پهنچ جائیں اور انگور اور کھجور کے خشک هونے کا وقت هو جائے پھر زکوٰۃ دے بلکه جونهی زکوٰۃ دے بلکه جونهی زکوٰۃ واجب هوجائز هے که زکوٰۃ کی مقدار کا اندازه لگا کر وه قیمت بطور زکوۃ دے۔

1895۔ زکوٰۃ واجب هونے کے بعد متعلقه شخص یه کر سکتا هے که کھڑی فصل کاٹنے یا کھجور اور انگور کو چننے سے پهلے زکوٰۃ مستحق شخص یا حاکم شرع یا اس کے وکیل کو مشترکه طور پر پیش کر دے اور اس کے بد وه اخراجات میں شریک هوں گے۔

1896۔ جب کوئی شخص فصل یا کھجور اور انگور کی زکوٰۃ عین مال کی شکل میں حاکم شرع یا مستحق شخص یا ان کے وکیل کو دے دے تو اس کے لئے ضروری نهیں که بلامعاوضه مشترکه طور پر ان چیزوں کی حفاظت کرے بلکه وه فصل کی کٹائی یا کھجور اور انگور کے خشک هونے تک مال زکوٰۃ اپنی زمین میں رهنے کے بدلے اجرت کا مطالبه کر سکتا هے۔

ص:353

1897۔ اگر انسان کئی شهروں میں گیهوں،جَو، کھجور یا انگور کا مالک هو اور ان شهروں میں فصل پکنے کا وقت ایک دوسرے سے مختلف هو اور ان سب شهروں سے فصل اور میوے ایک هی وقت میں دستیاب نه هوتے هوں اور یه سب ایک سال کی پیداوار شمار هوتے هوں تو اگر ان میں سے جو چیز پهلے پک جائے وه نصاب کے مطابق هو تو ضروری هے که اس پر اس کے پکنے کے وقت زکوٰۃ دے اور باقی مانده اجناس پر اس وقت زکوٰۃ دے جب وه دستیاب هوں اور اگر پهلے پکنے والی چیز نصاب کے برابر نه هو تو انتظار کرے تاکه باقی اجناس پک جائیں۔ پھر اگر سب ملا کر نصاب کے برابر هوجائیں تو ان پر زکوٰۃ واجب هے اور اگر نصاب کے برابر نه هوں تو ان پر زکوٰۃ واجب نهیں هے۔

1898۔ اگر کھجور اور انگور کے درخت سال میں دو دفعه پھل دیں اور دونوں مرتبه کی پیداوار جمع کرنے پر نصاب کے برابر هوجائے تو احتیاط کی بنا پر اس پیداوار پر زکوٰۃ واجب هے۔

1899۔ اگر کسی شخص کے پاس غیر خشک شده کھجوریں هوں یا انگور هوں جو خشک هونے کی صورت میں نصاب کے مطابق هوں تو اگر ان کے تازه هونے کی حالت میں وه زکوٰۃ کی نیت سے ان کی اتنی مقدار زکوٰۃ کے مصرف میں لے آئے جتنی ان کے خشک هونے پر زکوٰۃ کی اس مقدار کے برابر هو جو اس پر واجب هے تو اس میں کوئی حرج نهیں۔

1900۔ اگر کسی شخص پر خشک کھجور یا کشمش کی زکوٰۃ واجب هو تو وه ان کی زکوٰۃ تازه کھجور یا انگور کی شکل میں نهیں دے سکتا بلکه اگر وه خشک کھجور یا کشمش کی زکوٰۃ کی قیمت لگائے اور انگور یا تازه کھجوریں یا کشمش یا کوئی اور خشک کھجوریں اس قیمت کے طور پر دے تو اس میں بھی اشکال هے نیز اگر کسی پر تازه کھجور یا انگور کی زکوٰۃ واجب هو تو وه خشک کھجور یا کشمش دے کر وه زکوٰۃ ادا نهیں کر سکتا بلکه اگر وه قیمت لگا کر کوئی دوسری کھجور یا انگور دے تو اگرچه وه تازه هی هو اس میں اشکال هے۔

1901۔ اگر کوئی ایسا شخص مرجائے جو مقروض هو اور اس کے پاس ایسا مال بھی هو جس پرزکوٰۃ وجاب هوچکی هو تو ضروری هے که جس مال پر زکوٰۃ واجب هوچکی هو پهلے اس میں سے تمام زکوٰۃ دی جائے اور اس کے بعد اس کا قرضه ادا کیا جائے۔

1902۔ اگر کوئی ایسا شخص مر جائے جو مقروض هو اور اس کے پاس گیهوں،جَو، کھجور یا انگور بھی هو اور اس سے پهلے که ان اجناس پر زکوٰۃ واجب هو اس کے ورثاء اس کا قرضه کسی دوسرے مال سے ادا کردیں تو جس وارث کا حصه نصاب کی مقدار تک پهنچتا هو ضروری هے که زکوٰۃ دے اور اگر اس سے پهلے که زکوۃ ان اجناس پر واجب هو متوفی کا قرضه ادا نه

ص:354

کریں اور اگر اس کا مال فقط اس قرضے جتنا هو تو ورثاء کے لئے واجب نهیں که ان اجناس پر زکوٰۃ دیں اوعر اگر متوفی کا مال اس کے قرض سے زیاده هو جبکه متوفی پر اتنا قرض هو که اگر اسے ادا کرنا چاهیں تو ادا کرسکیں ضروری هے که گیهوں، جَو، کھجور اور انگور میں سے کچھ مقدار بھی قرض خواه کو دیں لهذا جو کچھ قرض خواه کو دیں اس پر زکوۃ نهیں هے اور باقی مانده مال پر وارثوں میں سے جس کا بھی حصه زکوۃ کے نصاب کے برابر هو اس کی زکوٰۃ دینا ضروری هے۔

1903۔ جس شخص کے پاس اچھی اور گھٹیا دونوں قسم کی گندم، جَو، کھجور اور انگور هوں جن پر زکوٰۃ واجب هوگئی هو اس کے لئے احتیاط واجب یه هے که اچھی اور گھٹیادونوں اقسام میں سے الگ الگ زکوٰۃ نکالے۔