لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
1815۔ دفینه وه مال هے جو زمین یا درخت یا پهاڑ یا دیوار میں گڑا هوا هو اور کوئی اسے وهاں سے نکالے اور اس کی صورت یه هو ه اسے دفینه کها جاسکے۔
1816۔ اگر انسان کو کسی ایسی زمین سے دفینه ملے جو کسی کی ملکیت نه هو تو وه اسے اپنے قبضے میں لے سکتا هے یعنی اپنی ملکیت میں لے سکتا هے لیکن اس کا خمس دینا ضروری هے۔
1817۔دفینے کا نصاب 105 مثقال سکه دار چاندی اور 15 مثقال سکه دار سونا هے یعنی جو چیز دفینے سے ملے اگر اس کی قیمت ان دونوں میں سے کسی ایک کے بھی برابر هو تو اس کا خمس دینا واجب هے۔
1818۔ اگر کسی شخص کو ایسی زمین سے دفینه ملے جو اس نے کسی سے خریدی هو اور اسے معلوم هو که یه ان لوگوں کا مال نهیں هے جو اس سے پهلے اس زمین کے مالک تھے اور وه یه نه جانتا هو که مالک مسلمان هے یا ذمی هے اور وه خود یا اس کے وارث زنده هیں تو وه اس دفینے کو اپنے قبضے میں لے سکتا هے لیکن اس کا خمس دینا ضروری هے۔ اور اگر اسے احتمال هو که یه سابقه مالک کا مال هے جب که زمین اور اسی طرح دفینه یا وه جگه ضمناً زمین میں شامل هونے کی بنا پر اس کا حق هو تو ضروری هے که اسے اطلاع دے اور اگر یه معلوم هو که اس کا مال نهیں تو اس شکص کو اطلاع دے جو اس سے بھی پهلے اس زمین کا مالک تھا اور اس پر اس کا حق تھا اور اسی ترتیب سے ان تمام لوگوں کو اطلاع دے جو خود اس سے پهلے اس زمین کے مالک رهے هوں اور اس پر ان کا حق هو اور اگر پته چلے که وه ان میں سے کسی کا بھی مال نهیں هے تو پھر وه اسے اپنے قبضے میں لے سکتا هے لیکن اس کا خمس دینا ضروری هے۔
1819۔اگر کسی شخص کو ایسے کئی برتنوں سے مال ملے جو ایک جگه دفن هوں اور اس مال کی مجموعی قیمت 105 مثقال چاندی یا 15 مثقال سونے کے برابر هو تو ضروری هے که اس مال کا خمس دے لیکن اگر مختلف مقامات سے دفینے ملیں تو ان میں سے جس دفینے کی قیمت مذکوره مقدار تک پهنچے اس پر خمس واجب هے اور جب دفینے کی قیمت اس مقدار تک نه پهنچے اس پر خمس نهیں هے۔
ص:339
1820۔ جب دو اشخاص کو ایسا دفینه ملے جس کی قیمت 105 مثقال چاندی یا 15 مثقال سونے تک پهنچتی هو لیکن ان میں سے هر ایک کا حصه اتنا نه بنتا هو تو اس پر خمس ادا کرنا ضروری نهیں هے۔
1821۔اگر کوئی شخص جانور خریدے اور اس کے پیٹ سے اسے کوئی مال ملے تو اگر اسے احتمال هو که یه مال بیچنے والے یا پهلے مالک کا هے اور وه جانور پر اور جوکچھ اس کے پیٹ سے برآمد هوا هے اس پر حق رکھتا هے تو ضروری هے که اسے اطلاع دے اور اگر معلوم هو که وه مال ان میں سے کسی ایک کا بھی نهیں هے تو احتیاط لازم یه هے که اس کا خمس دے اگرچه وه مال دفینے کے نصاب کے برابر نه هو۔ اور یه حکم مچھلی اور اس کی مانند دوسرے ایسے جانداروں کے لئے بھی هے جن کی کوئی شخص کسی مخصوص جگه میں افزائش و پرورش کرے اور ان کی غذا کا انتظام کرے۔ اور اگر سمندر یا دریا سے اسے پکڑے تو کسی کو اس کی اطلاع دینا لازم نهیں۔