لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

کرائے پر دیئے جانے والے مال کی شرائط

2192۔ جو مال اجارے پر دیا جائے اس کی چند شرائط هیں :

1۔ وه مال معین هو۔ لهذا اگر کوئی شخص کهے که میں نے اپنے مکانات میں سے ایک مکان تمهیں کرائے پر دیا تو یه درست نهیں هے۔

2۔ مستاجر یعنی کرائے پر لینے والا اس مال کو دیک لے یا اجارے پر دینے والا شخص اپنے مال کی خصوصیات اس طرح بیان کرے که اس کے بارے میں مکمل معلومات حاصل هوجائیں۔

3۔ اجارے پر دیئے جانے والے مال کو دوسرے فریق کے سپرد کرنا ممکن هو لهذا اس گھوڑے کو اجارے پر دینا جو بھاگ گیا هو اگر مستاجر اس کو نه پکڑ سکے تو اجاره باطل هے اور اگر پکڑ سکے تو اجاره صحیح هے۔

4۔ اس مال سے استفاده کرنا اس کے ختم یا کالعدم هوجانے پر موقوف نه هو لهذا روٹی، پھلوں اور دوسری خوردنی اشیاء کو کھانے کے لئے کرائے پر دینا صحیح نهیں هے۔

5۔ مال سے وه فائده اٹھانا ممکن هو جس کے لئے اسے کرائے پر دیا جائے۔ لهذا ایسی زمین کا زراعت کے لئے کرائے پر دینا جس کے لئے بارش کا پانی کافی نه هو اور وه دریا کے پانی سے بھی سیراب نه هوتی هو صحیح نهیں هے۔

ص:412

6۔ جو چیز کرائے پر دی جارهی هو وه کرائے پردینے والے کا اپنا مال هو اور اگرکسی دوسرے کا مال کرائے پر دیا جائے تو معامله اس صورت میں صحیح هے که جب اس مال کا مالک رضامند هو۔

2193۔ جس درخت میں ابھی پھل نه لگا هو اس کا اس مقصد سے کرائے پر دینا که اس کے پھل سے استفاده کیا جائے گا درست هے اور اسی طرح ایک جانور کو اس کے دودھ کے لئے کرائے پر دینے کا بھی یهی حکم هے۔

2194۔ عورت اس مقصد کے لئے اجیر بن سکتی هے که اس کے دودھ سے استفاده کیا جائے (یعنی کسی دوسرے کے بچے کو اجرت پر دودھ پلاسکتی هے) اور ضروری نهیں که وه اس مقصد کے لئے شوهر سے اجازت لے لیکن اگر اس کے دودھ پلانے سے شوهر کی حق تلفی هوتی هو تو پھر اس کی اجازت کے بغیر عورت اجیر نهیں بن سکتی۔