لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

پیشاب اور پاخانہ

85۔ انسان کا اور ہر اس حیوان کا جس کا گوشت حرام ہے اور جس کا خون جہندہ ہے یعنی اگر اس کی رگ کاٹی جائے تو خون اچھل کر نکلتا ہے، پیشاب اور پاخانہ نجس ہے۔ لیکن ان حیوانوں کا پاخانہ پاک ہے جن کا گوشت حرام ہے مگر ان کا خون اچھل کر نہیں نکلتا، مثلاً وہ مچھلی جس کا گوشت حرام ہے اور اسی طرح گوشت نہ رکھنے والے چھوٹے حیوانوں مثلاً مکھی، مچھر (کھٹمل اور پسو) کا فُضلہ یا آلائش بھی پاک ہے لیکن حرام گوشت حیوان کہ جو اچھلنے والا خون نہ رکھتا ہو احتیاط لازم کی بنا پر اس کے پیشاب سے بھی پرہیز کرنا ضروری ہے۔

ص:31

86۔ جن پرندوں کا گوشت حرام ہے ان کا پیشاب اور فضلہ پاک ہے لیکن اس سے پرہیز بہتر ہے۔

87۔ نجاست خور حیوان کا پیشاب اور پاخانہ نجس ہے۔ اور اسی طرح اس بھیٹر کے بچے کا پیشاب اور پاخانہ جس نے سورنی کا دودھ پیا ہو نجس ہے جس کی تفصیل بعد میں آئے گی۔ اسی طرح اس حیوان کا پیشاب اور پاخانہ بھی نجس ہے جس سے کسی انسان نے بدفعلی کی ہو۔