لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

وکالت کے احکام

"وکالت" سے مراد یه هے که وه کام جسے انسان خود کرنے کا حق رکھتا هو، جیسے کوئی معامله کرنا۔اسے دوسرے کے سپرد کر دے تاکه وه اس کی طرف سے وه کام انجام دے مثلاً کسی کو اپنا وکیل بنائے تاکه وه اس کا مکان بیچ دے یا کسی عورت سے اس کا عقد کردے۔ لهذا سفیه چونکه اپنے مال میں تصرف کرنے کا حق نهیں رکھتا اس لئے وه مکان بیچنے کے لئے کسی کو وکیل نهیں بنا سکتا۔

2265۔وکالت میں صیغه پڑھنا لازم نهیں بلکه اگر انسان دوسرے شخص کو سمجھادے که اس نے اسے وکیل مقرر کیا هے اور وه بھی سمجھا دے که اس نے وکیل بننا قبول کرلیا هے مثلاً ایک شخص اپنا مال دوسرے کو دے تاکه وه اسے اس کی طرف سے بیچ دے اور دوسرا شخص وه مال لے لے تو وکالت صحیح هے۔

2266۔ اگر انسان ایک ایسے شخص کو وکیل مقرر کرے جس کی رهائش دوسرے شهر میں هو اور اس کو وکالت نامه بھیج دے اور وه وکالت نامه قبول کرلے تو اگرچه وکالت نامه اسے کچھ عرصے بعد هی ملے پھر بھی وکالت صحیح هے۔

2267۔مُئَوکِّل یعنی وه شخص جو دوسرے کو وکیل بنائے اور وه شخص جو وکیل بنے ضروری هے که دونوں عاقل هوں اور (وکیل بنانے اور وکیل بننے کا) اقدام قصد اور اختیار سے کریں اور مُئَوکّلِ کے معاملے میں بلوغ بھی معتبر هے۔ مگر ان کاموں میں جن کو ممیز بچے کا انجام دینا صحیح هے۔ (ان میں بلوغ شرط نهیں هے)۔

ص:428

2268۔ جو کام انسان انجام نه دے سکتا هو یا شرعاً انجام دینا ضروری نه هو اسے انجام دینے کے لئے وه دوسرے کا وکیل نهیں بن سکتا۔ مثلاً جو شخص حج کا احرام باندھ چکا هو چونکه اسے نکاح کا صیغه نهیں پڑھنا چاهئے اس لئے وه صیغه نکاح پڑھنے کے لئے دوسرے کا وکیل نهیں بن سکتا۔

2269۔اگر کوئی شخص اپنے تمام کام انجام دینے کے لئے دوسرے شخص کو وکیل بنائے تو صحیح هے لیکن اگر اپنے کاموں میں سے ایک کام کرنے کے لئے دوسرے کو وکیل بنائے اور کام کا تعین نه کرے تو وکالت صحیح نهیں هے۔ هاں اگر وکیل کو چند کاموں میں سے ایک کام جس کا وه خود انتخاب کرے انجام دینے کے لئے وکیل بنائے مثلاً اس کو وکیل بنائے که یا اس کا گھر فروخت کرے یا کرائے پر دے تو وکالت صحیح هے۔

2270۔ اگر (مُئَوکّلِ) وکیل کو معزول کردے یعنی جو کام اس کے ذمے لگایا هو اس سے برطرف کر دے تو وکیل اپنی معزولی کی خبر مل جانے کے بعد اس کام کو (مُئَوکّلِ کی جانب سے) انجام نهیں دے سکتا لیکن معزولی کی خبر ملنے سے پهلے اس نے وه کام کر دیا هو تو صحیح هے۔

2271۔ مُئَوکّلِ خواه موجود نه هو وکیل خود کو وکالت سے کناره کش کر سکتا هے۔

2272۔ جو کام وکیل کے سپرد کیا گیا هو، اس کام کے لئے وه کسی دوسرے شخص کو وکیل مقرر نهیں کرسکتا لیکن اگر مُئَوکّلِ نے اسے اجازت دی هو که کسی کو وکیل مقرر کرے تو جس طرح اس نے حکم دیا هے اسی طرح وه عمل کرسکتا هے لهذا اگر اس نے کها هو که میرے لئے ایک وکیل مقرر کرو تو ضروری هے که اس کی طرف سے وکیل مقرر کرے لیکن از خود کسی کو وکیل مقرر نهیں کرسکتا۔

2273۔ اگر وکیل مُئَوکّلِ کی اجازت سے کسی کو اس کی طرف سے وکیل مقرر کرے تو پهلا وکیل دوسرے وکیل کو معزول نهیں کرسکتا اور اگر پهلا وکیل مرجائے یامُئَوکّلِ کی اسے معزول کر دے تب بھی دوسرے وکیل کی وکالت باطل نهیں هوتی۔

2274۔ اگر وکیل مَئَوکّلِ کی اجازت سے کسی کو خود اپنی طرف سے وکیل مقرر کرے تو مُئَوکّلِ اور پهلاوکیل اس وکیل کو معزول کر سکتے هیں اور اگر پهلا وکیل مرجائے یا معزول هوجائے تو دوسری وکالت باطل هوجاتی هے۔

ص:429

2275۔ اگر (مُئَوکّلِ) کسی کام کے لئے چند اشخاص کو وکیل مقرر کرے اور ان سے کهے که ان میں سے هر ایک ذاتی طور پر اس کام کو کرے تو ان میں سے هر ایک اس کام کو انجام دے سکتا هے اور اگر ان میں سے ایک مرجائے تو دوسروں کی وکالت باطل نهیں هوتی، لیکن اگر یه کها هو که سب مل کر انجام دیں تو ان میں سے کوئی تنها اس کام کو انجام نهیں دے سکتا اور اگر ان میں سے ایک مرجائے تو باقی اشخاص کی وکالت باطل هوجاتی هے۔

2276۔ اگر وکیل یا مُئَوکّلِ مرجائے تو وکالت باطل هوجاتی هے۔ نیز جس چیز میں تصرف کے لئے کسی شخص کو وکیل مقرر کیا جائے اگر وه چیز تلف هوجائے مثلاً جس بھیڑ کو بیچنے کے لئے کسی کو وکیل مقرر کیا گیا هو اگر وه بھیڑ مرجائے تو وه وکالت باطل هوجائے گی اور اس طرح اگر وکیل یا مُئَوکّلِ میں سے کوئی ایک همیشه کے لئے دیوانه یا بے حواس هو جائے تو وکالت باطل هوجائے گی۔ لیکن اگر کبھی کبھی دیوانگی یابے حواسی کا دوره پڑتا هو تو وکالت کا باطل هونا دیوانگی اور بے هواسی کی مدت میں حتی که دیوانگی اور بے حواسی ختم هونے کے بعد بھی مُطلَقاً محلِّ اِشکال هے۔

2277۔ اگر انسان کسی کو اپنے کام کے لئے وکیل مقرر کرے اور اسے کوئی چیز دینا طے کرے تو کام کی تکمیل کے بعد ضروری هے که جس چیز کا دینا طے کیا هو وه اسے دیدے۔

2278۔ جو مال وکیل کے اختیار میں هو اگر وه اس کی نگهداشت میں کوتاهی نه کرے اور جس تصرف کی اسے اجازت دی گئی هو اس کے علاوه کوئی تصرف اس میں نه کرے اور اتفاقاً وه مال تلف هوجائے تو اس کے لئے اس کا عوض دینا ضروری نهیں۔

2279۔ جو مال وکیل کے اختیار میں هو اگر وه اس کی نگهداشت میں کوتاهی برتے یا جس تصرف کی اسے اجازت دی گئی هو اس سے تجاوز کرے اور وه مال تلف هوجائے تو وه (وکیل) ذمے دار هے۔ لهذا جس لباس کے لئے اسے کها جائے که اسے بیچ دو اگر وه اسے پهن لے اور وه لباس تلف هوجائے تو ضروری هے که اس کا عوض دے۔

2280۔ اگر وکیل کو مال میں جس تصرف کی اجازت دی گئی هو اس کے علاوه کوئی تصرف کے مثلاً اسے جس لباس کے بیچنے کے لئے کها جائے وه اسے پهن لے اور بعد میں وه تصرف کرے جس کی اسے اجازت دی گئی هو تو وه تصرف صحیح هے۔