لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
1734۔ جو شخص بڑھاپے کی وجه سے روزه نه رکھ سکتا هو یا روزه رکھنا اس کے لئے شدید تکلیف کا باعث هو اس پر روزه واجب نهیں هے لیکن روزه نه رکھنے کی صورت میں ضروری هے که هر روزے کے عوض ایک مُد طعام یعنی گندم یا جَو یا روٹی یا ان سے ملتی جلتی کوئی چیز فقیر کو دے۔
1735۔ جو شخص بڑھاپے کی وجه سے ماه رمضان المبارک کے روزے نه رکھے اگر وه رمضان المبارک کے بعد روزے رکھے کے قابل هوجائے تو احتیاط مستحب یه هے که جو روزے نه رکھے هوں ان کی قضا بجالائے۔
1736۔ اگر کسی شخص کو کوئی ایسی بیماری هو جس کی وجه سے اسے بهت زیاده پیاس لگتی هو اور وه پیاس برداشت نه کر سکتا هو یا پیاس کی وجه سے اسے تکلیف هوتی هو تو اس پر روزه واجب نهیں هے لیکن روزه نه رکھنے کی صورت میں ضروری هے که هر روزے کے عوض ایک مدطعام فقیر کو دے اور احتیاط مستحب یه هے که جتنی مقدار اشد ضروری هو اس سے زیاده پانی نه پیئے اور بعد میں جب روزه رکھنے کے قابل هو جائے تو جو روزے نه رکھے هوں احتیاط مستحب کی بنا پر ان کی قضا بجالائے۔
1737۔جس عورت کا وضع حمل کا وقت قریب هو اس کا روزه رکھنا خود اس کے لئے یا اس کے هونے والے بچے کے لئے مضر هو اس پر روزه واجب نهیں هے اور ضروری هے که وه هر دن کے عوض ایک مد طعام فقیر کو دے اور ضروری هے که دونوں صورتوں میں جو روزے نه رکھے هوں ان کی قضا بجالائے۔
1738۔ جو عورت بچے کو دودھ پلاتی هو اور اس کا دودھ کم هو خواه وه بچے کی ماں هو یا دایه اور خواه بچے کو مفت دودھ پلارهی هو اگر اس کا روزه رکھنا خود ان کے یا دودھ پینے والے بچے کے لئے مضر هو تو اس عورت پر روزه رکھنا واجب نهیں هے اور ضروری هے که هر دن کے عوض ایک مدطعام فقیر کو دے اور دونوں صورتوں میں جو روزے نه رکھے هوں ان کی قضا کرنا ضروری هے۔ لیکن احتیاط واجب کی بنا پر حکم صرف اس صورت میں هے جبکه بچے کو دودھ پلانے کا انحصار اسی پر هو لیکن اگر بچے کو دودھ پلانے کا کوئی اور طریقه هو مثلاً کچھ عورتیں مل کر بچے کو دودھ پلائیں تو ایسی صورت میں اس حکم کے ثابت هونے میں اشکال هے۔