لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
2393۔ ان عورتوں کے ساتھ جو انسان کی محرم هوں ازدواج حرام هے مثلاً ماں، بهن، بیٹی، پھوپھی، خاله، بھتیجی، بھانجی، ساس۔
2394۔ اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے چاهے اس کے ساتھ جماع نه بھی کرے تو اس عورت کی ماں، نانی اور دادی اور جتنا سلسله اوپر چلاجائے سب عورتیں اس مرد کی محرم هوجاتی هیں۔
ص:452
2395۔ اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور اس کے ساتھ هم بستری کرے تو پھر اس عورت کی لڑکی، نواسی، پوتی اور جتنا سلسله نیچے چلا جائے سب عورتیں اس مرد کی محرم هوجاتی هیں خواه وه عقد کے وقت موجود هوں یا بعد میں پیدا هوں۔
2396۔ اگر کسی مرد نے ایک عورت سے نکاح کیا هو لیکن هم بستری نه کی هو تو جب تک وه عورت اس کے نکاح میں رهے۔ احتیاط واجب کی بنا پر۔ اس وقت تک اس کی لڑکی سے ازدواج نه کرے۔
2397۔ انسان کی پھوپھی اور خاله اور اس کے باپ کی پھوپھی اور خاله اور دادا کی پھوپھی اور خاله باپ کی ماں (دادی) اور ماں کی پھوپھی اور خاله اور نانی اور نانا کی پھوپھی اور خاله اور جس قدر یه سلسله اوپر چلاجائے سب اس کے محرم هیں۔
2398۔ شوهر کا باپ اور دادا اور جس قدر یه سلسله اوپر چلا جائے اور شوهر کا بیٹا، پوتا اور نواسا جس قدر بھی یه سلسله نیچے چلا جائے اور خواه وه نکاح کے وقت دنیا میں موجود هوں یا بعد میں پیدا هوں سب اس کی بیوی کے محرم هیں۔
2399۔ اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے تو خواه وه نکاح دائمی هو یا غیر جب تک وه عورت اس کی منکوحه هے وه اس کی بهن کے ساتھ نکاح نهیں کرسکتا۔
2400۔ اگر کوئی شخص اس ترتیب کے مطابق جس کا ذکر طلاق کے مسائل میں کیا جائے گا اپنی بیوی کو طلاق رجعی دے دے تو وه وعدت کے دوران اس کی بهن سے نکاح نهیں کرسکتا لیکن طلاق بائن کی عدت کے دوران اس کی بهن سے نکاح کرسکتا هے اور مُتعَه کی عدت کے دوران احتیاط واجب یه هے که عورت کی بهن سے نکاح نه کرے۔
2401۔ انسان اپنی بیوی کی اجازت کے بغیر اس کی بھتیجی یا بھانجی سے شادی نهیں کرسکتا لیکن اگر وه بیوی کی اجازت کے بغیر ان سے نکاح کرلے اور بعد میں بیوی اجازت دے دے تو پھر کوئی اشکال نهیں۔
2402۔اگر بیوی کو پتا چلے که اس کے شوهر نے اس کی بھتیجی یا بھانجی سے نکاح کرلیا هے اور خاموش رهے تو اگر وه بعد میں راضی هوجائے تو نکاح صحیح هے اور اگر رضامند نه هو تو ان کا نکاح باطل هے۔
2403۔ اگر انسان خاله یا پھوپھی کی لڑکی سے شادی کرنے سے پهلے (نَعوذُ بِالله) خاله یا پھوپھی سے زنا کرے تو پھر وه اس کی لڑکی سے احتیاط کی بنا پر شادی نهیں کرسکتا۔
ص:453
2404۔ اگر کوئی شخص اپنی پھوپھی کی لڑکی یا خاله کی لڑکی سے شادی کرے اور اس سے هم بستری کرنے کے بعد اس کی ماں سے زنا کرے تو یه بات ان کی جدائی کا موجب نهیں بنتی اور اگر اس سے نکاح کے بعد لیکن جماع کرنے سے پهلے اس کی ماں سے زنا کرے تو یه بات ان کی جدائی کا موجب نهیں بنتی اور اگر اس سے نکاح کے بعد لیکن جماع کرنے سے پهلے اس کی ماں سے زنا کرے تب بھی یهی حکم هے اگرچه احتیاط مستحب یه هے که اس صورت طلاق دے کر اس سے (یعنی پھوپھی زاد یا خاله زاد بهن سے) جدا هوجائے۔
2405۔اگر کوئی شخص اپنی پھوپھی یا خاله کے علاوه کسی اور عورت سے زنا کرے تو احتیاط مستحب یه هے که اس کی بیٹی کے ساتھ شادی نه کرے بلکه اگر کسی عورت سے نکاح کرے اور اس کے ساتھ جماع کرنے سے پهلے اس کی ماں کے ساتھ زنا کرے تو احتیاط مستحب یه هے که اس عورت سے جدا هوجائے لیکن اگر اس کے ساتھ جماع کرلے اور بعد میں اس کی ماں سے زنا کرے تو بے شک عورت سے جدا هونا لازم نهیں۔
2406۔مسلمان عورت کا فرد مرد سے نکاح نهیں کرسکتی۔ مسلمان مرد بھی اهل کتاب کے علاوه کافر عورتوں سے نکاح نهیں کرسکتا۔ لیکن یهودی اور عیسائی عورتوں کی مانند اهل کتاب عورتوں سے مُتعَه کرنے سے کوئی حرج نهیں اور احتیاط لازم کی بنا پر ان سے دائمی عقد نه کیا جائے اور بعض فرقے مثلاً ناصبی جو اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے هیں کفار کے حکم میں هیں اور مسلمان مرد اور عورتیں ان کے ساتھ دائمی یا غیر دائمی نکاح نهیں کرسکتے۔
2407۔ اگر کوئی شخص ایک ایسی عورت سے زنا کرے جو رجعی طلاق کی عدت گزار رهی هو تو احتیاط کی بنا پر۔ وه عورت اس پر حرام هوجاتی هے اور اگر ایسی عورت کے ساتھ زنا کرے جو متعه یا طلاق بائن یا وفات کی عدت گزار رهی هو تو بعد میں اس کے ساتھ نکاح کر سکتا هے اگرچه احتیاط مستحب یه هے که اس سے شادی نه کرے۔ اور رَجعی طلاق اور بَائِن طلاق اور مُتعه کی عِدّت اور وفات کی عِدّت کے معنی طلاق کے احکام میں بتائے جائیں گے۔
2408۔ اگر کوئی شخص کسی ایسی عورت سے زنا کرے جو بے شوهر هو مگر عدت میں نه هو تو احتیاط کی بنا پر توبه کرنے سے پهلے اس سے شادی نهیں کرسکتا۔ لیکن اگر زانی کے علاوه کوئی دوسرا شخص (اس عورت کے) توبه کرنے سے پهلے اس کے ساتھ شادی کرنا چاهے تو کوئی اشکال نهیں هے۔ مگر اس صورت میں که وه عورت زناکار مشهور هو تو احتیاط کی بنا پر اس (عورت) کے توبه کرنے سے پهلے اس کے ساتھ شادی کرنا جائز نهیں هے۔ اسی طرح کوئی مرد زنا کار مشهور هو تو توبه کرنے سے پهلے اس کے ساتھ شادی کرنا جائز نهیں هے اور احتیاط مستحب یه هے که اگر کوئی شخص زنا کا عورت سے جس
ص:454
سے خود اس نے یا کسی دوسرے نے منه کالا کیا هو شادی کرنا چاهے تو حیض آنے تک صبر کرے اور حیض آنے کے بعد اس کے ساتھ شادی کرلے۔
2409۔ اگر کوئی شخص ایک ایسی عورت سے نکاح کرے جو دوسرے کی عدت میں هو تو اگر مرد اور عورت دونوں یا ان میں سے کوئی ایک جانتا هو که عورت کی عدت ختم نهیں هوئی اور یه بھی جانتے هوں که عدت کے دوران عورت سے نکاح کرنا حرام هے تو اگرچه مرد نے نکاح کے بعد عورت سے جماع نه بھی کیا هو اور عورت همیشه کے لئے اس پر حرام هوجائے گی۔
2410۔ اگر کوئی شخص کسی ایسی عورت سے نکاح کرے جو دوسرے کی عدت میں هو اور اس سے جماع کرے تو خواه اسے یه علم نه هو که وه عورت عدت میں هے یا یه نه جانتا هو که عدت کے دوران عورت سے نکاح کرنا حرام هے وه عورت همیشه کے لئے اس شخص پر حرام هوجائے گی۔
2411۔ اگر کوئی شخص یه جانتے هوئے که عورت شوهر دار هے اور (اس سے شادی کرنا حرام هے) اس سے شادی کرے تو ضروری هے که اس عورت سے جدا هو جائے اور بعد میں بھی اس سے نکاح نهیں کرنا چاهئے۔ اور اگر اس شخص کو یه علم نه هو که عورت شوهر دار هے لیکن شادی کے بعد اس سے هم بستری کی هو تب بھی احتیاط کی بنا پر تب بھی یهی حکم هے۔
2412۔اگر شوهر دار عورت زنا کرے تو ۔ احتیاط کی بنا پر۔ وه زانی پر همیشه کے لئے حرام هوجاتی هے لیکن شوهر پر حرام نهیں هوتی اور اگر توبه و استغفار نه کرے اور اپنے عمل پر باقی رهے (یعنی زنا کاری ترک نه کرے) تو بهتر یه هے که اس کا شوهر اسے طلاق دے دے لیکن شوهر کو چاهئے که اس کا مهر بھی دے۔
2413۔ جس عورت کو طلاق مل گئی هو اور جو عورت متعه میں رهی هو اور اس کے شوهر نے متعه کی مدت بخش دی هو یا متعه کی مدت ختم هوگئی هو اگر وه کچھ عرصے کے بعد دوسرا شوهر کرے اور پھر اسے شک هو که دوسرے شوهر سے نکاح کے وقت پهلے شوهر کی عدت ختم هوئی تھی یا نهیں تو وه اپنے شک کی پروا نه کرے۔
2414۔ اغلام کروانے والے لڑکے کی ماں، بهن اور بیٹی اغلام کرنے والے پر۔ جب که (اغلام کرنے والا) بالغ هو۔ حرام هوجاتے هیں ۔ اور اگر اغلام کروانے والا مرد هو یا اغلام کرنے والا نابالغ هوتب بھی احتیاط لازم کی بنا پر بھی یهی حکم هے۔ لیکن اگر اسے گمان و که دخول هوا تھا یا شک کرے که دخول هوا تھا یا نهیں تو پھر وه حرام نهیں هوں گے۔
ص:455
2415۔ اگر کوئی شخص کسی لڑکے کی ماں یا بهن سے شادی کرے اور شادی کے بعد اس لڑکے سے اغلام کرے تو احتیاط کی بنا پر وه عورتیں اس پر حرام هو جاتی هیں۔
2416۔ اگر کوئی شخص احرام کی حالت میں جو اعمال حج میں سے ایک عمل هے کسی عورت سے شادی کرے تو اس کا نکاح باطل هے اور اگر اسے علم تھا که کسی عورت سے احرام کی حالت میں نکاح کرنا اس پر حرام هے تو بعد میں وه اس عورت سے شادی نهیں کرسکتا۔
2417۔ جو عورت احرام کی حالت میں هو اگر وه ایک ایسے مرد سے شادی کرے جو احرام کی حالت میں نه هو تو اس کا نکاح باطل هے اور اگر عورت کو معلوم تھا که احرام کی حالت میں شادی کرنا حرام هے تو احتیاط واجب یه هے که بعد میں اس مرد سے شادی نه کرے۔
2418۔ اگر مرد طواف النساء جو حج اور عمر مفرده کے اعمال میں سے ایک عمل هے بجا نه لائے تو اس کی بیوی اور دوسری عورتیں اس پر حلال نهیں هوتیں اور اگر عورت طواف النساء نه کرے تو اس کا شوهر اور دوسرے مرد اس پر حلال نهیں هوتے لیکن اگر وه بعد میں طواف النساء بجالائیں تو مرد پر عورتیں اور عورتوں پر مرد حلال هو جاتے هیں۔
2419۔ اگر کوئی شخص نابالغ لڑکی سے نکاح کرے تو اس لڑکی کی عمر نوسال هونے سے پهلے اس کے ساتھ جماع کرنا حرام هے۔ لیکن اگر جماع کرے تو اظهر یه هے که لڑکی کے بالغ هونے کے بعد اس سے جماع کرنا حرام نهیں هے خواه اسے افضاء هی هوگیا هو۔ افضاء کے معنی مسئله 2389 میں بتائے جاچکے هیں۔ لیکن احوط یه هے که اسے طلاق دے دے۔
2420۔ جس عورت کو تین مرتبه طلاق دی جائے وه شوهر پر حرام هوجاتی هے۔ هاں اگر ان شرائط کے ساتھ جن کا ذکر طلاق کے احکام میں کیا جائے گا وه عورت دوسرے مرد سے شادی کرے تو دوسرے شوهر کی موت یا اس سے طلاق هوجانے کے بعد اور عدت گزر جانے کے بعد اس کا پهلا شوهر دوباره اس کے ساتھ نکاح کرسکتا هے۔