لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
1697۔ جو صورتیں بیان هوچکی هیں ان کے علاوه ان چند صورتوں میں انسان پر صرف روزے کی قضا واجب هے اور کفاره واجب نهیں هے۔
1۔ ایک شخص ماه رمضان کی رات میں جنب هو جائے اور جیسا که مسئله 1639 میں تفصیل سے بتایا گیا هے صبح کی اذان تک دوسری نیند سے بیدار نه هو۔
2۔ روزے کو باطل کرنے والا کام تو نه کیا هو لیکن روزے کی نیت نه کرے یا ریا کرے (یعنی لوگوں پر ظاهر کرے که روزے سے هوں) یا روزه رکھنے کا اراده کرے۔ اسی طرح اگر ایسے کام کا اراده کرے جو روزے کو باطل کرتا هو تو احتیاط لازم کی بنا پر اس دن کے روزے کی قضا رکھنا ضروری هے۔
3۔ ماه رمضان المبارک میں غسل جنابت کرنا بھول جائے اور جنابت کی حالت میں ایک ایک کئی دن روزے رکھتا رهے۔
4۔ ماه رمضان المبارک میں یه تحقیق کئے بغیر که صبح هوئی هے یا نهیں کوئی ایسا کام کرے جو روزے کو باطل کرتا هو اور بعد میں پته چلے که صبح هوچکی تھی تو اس صورت میں احتیاط کی بنا پر ضروری هے که قُربت مطلقه کی نیت سے اس دن ان چیزوں سے اجتناب کرے جو روزے کو باطل کرتی هیں اور اس دن کے روزے کی قضا بھی کرے۔
5۔ کوئی کے کهے که صبح نهیں هوئی اور انسان اس کے کهنے کی بنا پر کوئی ایسا کام کرے جو روزے کو باطل کرتا هو اور بعد میں پته چلے که صبح هوگئی تھی۔
6۔ کوئی کهے که صبح هوگئی هے اور انسان اس کے کهنے پر یقین نه کرے یا سمجھے که مذاق کر رها هے اور خود تحقیق نه کرے اور کوئی ایسا کام کرے جو روزے کو باطل کرتا هو اور بعد میں معلوم هو که صبح هوگئی تھی۔
ص:317
7۔ نابینا یا اس جیسا کوئی شخص کسی کے کهنے پر جس کا قول اس کے لئے شرعاً حجت هو روزه افطار کرلے اور بعد میں پته چلے که ابھی مغرب کا وقت نهیں هوا تھا۔
8۔ انسان کو یقین یا اطمینان هو که مغرب هوگئی هے اور وه روزه افطار کرلے اور بعد میں پته چلے که مغرب نهیں هوئی تھی۔ لیکن اگر مطلع ابر آلود هو اور انسان اس گمان کے تحت روزه افطار کرلے که مغرب هوگئی هے اور بعد میں معلوم هو که مغرب نهیں هوئی تھی تو احتیاط کی بنا پر اس صورت میں قضا واجب هے۔
9۔ انسان پیاس کی وجه سے کلی کرے یعنی پانی منه میں گھمائے اور بے اختیار پانی پیٹ میں چلاجائے۔ اگر نماز واجب کے وضو کے علاوه کسی وضو میں کلی کی جائے تو احتیاط مستحب کی بنا پر اس کے لئے بھی یهی حکم هے لیکن اگر انسان بھول جائے که روزے سے هے اور پانی گلے سے اتر جائے یا پیاس کے علاوه کسی دوسری صورت میں که جهاں کلی کرنا مستحب هے ۔ جسیے وضو کرتے وقت۔ کلی کرے اور پانی بے اختیار پیٹ میں چلاجائے تو اس کی قضا نهیں هے۔
10۔ کوئی شخص مجبوری، اضطرار یا تقیه کی حالت میں روزه افطار کرے تو اس پر روزے کی قضا رکھنا لازم هے لیکن کفاره واجب نهیں۔
1698۔ اگر روزه دار پانی کے علاوه کوئی چیز منه میں ڈالے اور وه بے اختیار پیٹ میں چلی جائے یا ناک میں پانی ڈالے اور وه بے اختیار (حلق کے) نیچے اتر جائے تو اس پر قضا واجب نهیں هے۔
1699۔ روزه دار کے لئے زیاده کلیاں کرنا مکروه هے اور اگر کلی کے بعد لعاب دهن نگلنا چاهے تو بهتر هے که پهلے تین دفعه لعاب کو تھوک دے۔
1700۔ اگرکسی شخص کو معلوم هو یا اسے احتمال هو که کلی کرنے سے بے اختیار پانی اس کے حلق میں چلاجائے گا تو ضروری هے که کلی نه کرے۔ اور اگر جانتا هو که بھول جانے کی وجه سے پانی اس کے حلق میں چلا جائے گا تب بھی احتیاط لازم کی بنا پر یهی حکم هے۔
ص:318
1701۔ اگر کسی شخص کو ماه رمضان المبارک میں تحقیق کرنے کے بعد معلوم نه هو که صبح هوگئی هے اور وه کوئی ایسا کام کرے جو روزے کو باطل کرتا هے اور بعد میں معلوم هو که صبح هوگئی تھی تو اس کے لئے روزے کی قضا کرنا ضروری نهیں۔
1702۔ اگر کسی شخص کو شک هو که مغرب هوگئی هے یا نهیں تو وه روزه افطار نهیں کر سکتا لیکن اگر اسے شک هو که صبح هوئی هے یا نهیں تو وه تحقیق کرنے سے پهلے ایسا کام کر سکتا هے جو روزے کو باطل کرتا هو۔