لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

وضو صحیح ہونے کی شرائط

وضو کا صحیح ہونے کی چند شرائط ہیں۔

(پہلی شرط) وضو کا پانی پاک ہو۔ ایک قول کی بنا پر وضو کا پانی ایسی چیزوں مثلاً حلال گوشت حیوان کے پیشاب، پاک مُردار اور زخم کی ریم سے آلودہ نہ ہو جن سے انسان کو گھن آتی ہو اگرچہ شرعی لحاظ سے (ایسا پانی) پاک ہے اور یہ قول احتیاط کی بنا پر ہے۔

(دوسری شرط) پانی مطلق ہو۔

271۔ نجس یا مضاف پانی سے وضو کرنا باطل سے خواہ وضو کرنے والا شخص اس کے نجس یا مضاف ہونے کے بارے میں علم نہ رکھتا ہو یا بھول گیا ہو کہ یہ نجس یا مضاف پانی ہے۔ لہذا اگر وہ ایسے پانی سے وضو کرکے نماز پڑھ چکا ہو تو صحیح وضو کرکے دوبارہ نماز پڑھنا ضروری ہے۔

272۔ اگر ایک شخص کے پاس مٹی ملے ہوئے مضاف پانی کے علاوہ اور کوئی پانی وضو کے لئے نہ ہو اور نماز کا وقت تنگ ہو تو ضروری ہے کہ تیمم کر لے لیکن اگر وقت تنگ نہ ہو تو ضروری ہے کہ پانی کے صاف ہونے کا انتظار کرے یا کسی طریقے سے اس پانی کو صاف کرے اور وضو کرے۔

(تیسری شرط) وضو کا پانی مباح ہو۔

273۔ ایسے پانی سے وضو کرنا جو غصب کیا گیا ہو یا جس کے بارے میں یہ علم نہ ہو کہ اس کا مالک اس کے استعمال راضی ہے یا نہیں حرام اور باطل ہے۔ علاوہ ازیں اگر چہرے اور ہاتھوں سے وضو کا پانی غصب کی ہوئی جگہ پر گرتا ہو یا وہ جگہ جس میں وضو کر رہا ہے غصبی ہے اور وضو کرنے کے لئے کوئی اور جگہ بھی نہ ہو تو متعلقہ شخص کا فریضہ تیمم ہے اور اگر کسی دوسری جگہ وضو کر سکتا ہو تو ضروری ہے کہ دوسری جگہ وضو کرے۔ لیکن اگر دونوں صورتوں میں گناہ کا ارتکاب کرتے ہوئے اسی جگہ وضو کرلے تو اس کا وضو صحیح ہے۔

ص:62

274۔ کسی مدرسے کے ایسے حوض سے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں جس کے بارے میں یہ علم نہ ہو کہ آیا وہ تمام لوگوں کے لئے وقت کیا گیا ہے یا صرف مدرسے سے طلباء کے لئے وقف ہے اور صورت یہ ہو کہ لوگ عموماً اس حوض سے وضو کرتے ہوں اور کوئی منع نہ کرتا ہو۔

275۔ اگر کوئی شخص ایک مسجد میں نماز پڑھنا نہ چاہتا ہو اور یہ بھی نہ جانتا ہو کہ آیا اس مسجد کا حوض تمام لوگوں کے لئے وقف ہے یا صرف ان لوگوں کے لئے جو اس مسجد میں نماز پڑھتے ہیں تو اس کے لئے اس حوض سے وضو کرنا درست نہیں لیکن اگر عموماً وہ لوگ بھی اس حوض سے وضو کرتے ہوں جو اس مسجد میں نماز نہ پڑھنا چاہتے ہوں اور کوئی منع نہ کرتا ہو تو وہ شخص بھی اس حوض سے وضو کر سکتا ہے۔

276۔ سرائے، مسافرخانوں اور ایسے ہی دوسرے مقامات کے حوض سے ان لوگوں کا جو ان میں مقیم نہ ہوں، وضو کرنا اسی صورت میں درست ہے جب عموماً ایسے لوگ بھی جو وہاں مقیم نہ ہوں اس حوض سے وضو کرتے ہوں اور کوئی منع نہ کرتا ہو۔

277۔ بڑی نہروں سے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں اگرچہ انسان نہ جانتا ہو کہ ان کا مالک راضی ہے یا نہیں۔ لیکن اگر ان نہروں کا مالک وضو کرنے سے منع کرے یا معلوم ہو کہ وہ ان سے وضو کرنے پر راضی نہیں یا ان کا مالک نابالغ یا پاگل ہو تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ ان نہروں کے پانی سے وضو نہ کرے۔

278۔ اگر کوئی شخص یہ بھول جائے کہ پانی غصبی ہے اور اس سے وضو کرلے تو اس کا وضو صحیح ہے۔ لیکن اگر کسی شخص نے خود پانی غصب کیا ہو اور بعد میں بھول جائے کہ یہ پانی غصبی ہے اور اس سے وضو کرلے تو اس کا وضو صحیح ہونے میں اشکال ہے۔

(چوتھی شرط) وضو کا برتن مباح ہو۔

(پانچویں شرط) وضو کا برتن احتیاط واجب کی بنا پر سونے یا چاندی کا بنا ہوا نہ ہو۔ ان دو شرطوں کی تفصیل بعد والے مسئلے میں آرہی ہے۔

ص:63

279۔ اگر وضو کا پانی غصبی یا سونے یا چاندی کے برتن میں ہو اور اس شخص کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی پانی نہ ہو تو اگر وہ اس پانی کو شرعی طریقے سے دوسرے برتن میں انڈیل سکتا ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اسے کسی دوسرے برتن میں انڈیل لے اور پھر اس سے وضو کرے اور اگر ایسا کرنا آسان نہ ہو تو تیمم کرنا ضروری ہے۔ اور اگر اس کے پاس اس کے علاوہ دوسرا پانی موجود ہو تو ضروری ہے کہ اس سے وضو کرے۔ اور اگر ان دونوں صورتوں میں وہ صحیح طریقے پر عمل نہ کرتے ہوئے اس پانی سے جو غصبی یا سونے یا چاندی کے برتن میں ہے وضو کر لے تو اس کا وضو صحیح ہے۔

280۔ اگر کسی حوض میں مثال کے طور پر غصب کی ہوئی ایک اینٹ یا ایک پتھر لگا ہو اور عرف عام میں اس حوض میں سے پانی نکالنا اس اینٹ یا پتھر پر تصرف نہ سمجھا جائے تو (پانی لینے میں) کوئی حرج نہیں لیکن اگر تصرف سمجھا جائے تو پانی کا نکالنا حرام لیکن اس سے وضو کرنا صحیح ہے۔

281۔ اگر ائمۃ طاہرین علیہم السلام یا ان کی اولاد کے مقبرے کے صحن میں جو پہلے قبرستان تھا کوئی حوض یا نہر کھودی جائے اور یہ علم نہ ہو کہ صحن کی زمین قبرستان کے لئے وقف ہو چکی ہے تو اس حوض یا نہر کے پانی سے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

(چھٹی شرط) وضو کے اعضاء دھوتے وقت اور مسح کرتے وقت پاک ہوں۔

282۔ اگر وضو مکمل ہونے سے پہلے وہ مقام نجس ہو جائے جسے دھویا جا چکا ہے یا جس کا مسح کیا جاچکا ہے تو وضو صحیح ہے۔

283۔ اگر اعضائے وضو کے سوا بدن کا کوئی حصہ نجس ہو تو وضو صحیح ہے لیکن اگر پاخانے یا پیشاب کے مقام کو پاک نہ کیا ہو تو پھر احتیاط مستحب یہ ہے کہ پہلے انہیں پاک کرے اور پھر وضو کرے۔

284۔ اگر وضو کے اعضاء میں سے کوئی عضو نجس ہو اور وضو کرنے کے بعد متعلقہ شخص کو شک گزرے کہ آیا وضو کرنے سے پہلے اس عضو کو دھویا تھا یا نہیں تو وضو صحیح ہے لیکن اس نجس مقام کو دھو لینا ضروری ہے۔

285۔ اگر کسی کے چہرے یا ہاتھوں پر کوئی ایسی خراش یا زخم ہو جس سے خون نہ رکتا ہو اور پانی اس کے لئے مضر نہ ہو تو ضروری ہے کہ اس عضو کے صحیح سالم اجزاء کو ترتیب وار دھونے کے بعد زخم یا خراش والے حصے کو کُر برابر پانی یا جاری

ص:64

پانی میں ڈبو دے اور اسے اس قدر دبائے کہ خون بند ہو جائے اور پانی کے اندر ہی اپنی انگلی زخم یا خراش پر رکھ کر اوپر سے نیچے کی طرف کھینچے تاکہ اس (خراش یا زخم) پر پانی جاری ہو جائے۔ اس طرح اس کا وضو صحیح ہو جائے گا۔

(ساتویں شرط) وضو کرنے اور نماز پڑھنے کے لئے وقت کافی ہو۔

286۔ اگر وقت اتنا تنگ ہو کہ متعلقہ شخص وضو کرے تو ساری کی ساری نماز یا اس کا کچھ حصہ وقت کے بعد پڑھنا پڑے تو ضروری ہے کہ تیمم کرلے لیکن اگر تیمم اور وضو کے لئے تقریباً یکساں وقت درکار ہو تو پھر وضو کرے۔

287۔ جس شخص کے لئے نماز کا وقت تنگ ہونے کے باعث تیمم کرنا ضروری ہو اگر وہ قصد قربت کی نیت سے یا کسی مستحب کام مثلاً قرآن مجید پڑھنے کے لئے وضو کرے تو اس کا وضو صحیح ہے۔ اور اگر اسی نماز کو پڑھنے کے لئے وضو کرے تو بھی یہی حکم ہے۔ لیکن اسے قصد قُربت حاصل نہیں ہوگا۔

(آٹھویں شرط) وضو بقصد قربت یعنی اللہ تعالی کی رضا کے لئے کیاجائے۔ اگر اپنے آپ کو ٹھنڈک پہنچانے یا کسی اور نیت سے کیا جائے تو وضو باطل ہے۔

288۔ وضو کی نیت زبان سے یا دل میں کرنا ضروری نہیں بلکہ اگر ایک شخص وضو کے تمام افعال اللہ تعالی کے حکم پر عمل کرنے کی نیت سے بجا لائے تو کافی ہے۔

(نویں شرط) وضو اس ترتیب سے کیا جائے جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے یعنی پہلے چہرہ اور اس کے بعد دایاں اور پھر بایاں ہاتھ دھویا جائے اس کے بعد سر کا اور پھر پاوں کا مسح کیا جائے اور احتیاط مستحب یہ ہےکہ دونوں پاوں کا ایک ساتھ مسح نہ کیا جائے بلکہ بائیں پاوں کا مسح دائیں پاوں کے بعد کیا جائے۔

(دسویں شرط) وضو کے افعال سر انجام دینے میں فاصلہ نہ ہو۔

289۔ اگر وضو کے افعال کے درمیان اتنا فاصلہ ہو جائے کہ عرف عام میں متواتر دھونا نہ کہلائے تو وضو باطل ہے لیکن اگر کسی شخص کو کوئی عذر پیش آجائے مثلاً یہ کہ بھول جائے یا پانی ختم ہو جائے تو اس صورت میں بلافاصلہ دھونے کی شرط معتبر نہیں ہے۔ بلکہ وضو کرنے والا شخص جس وقت چاہے کسی عضو کو دھولے یا اس کا مسح کرلے تو اس اثنا میں اگر ان مقامات کی تری خشک ہو جائے۔ جنہیں وہ پہلے دھوچکا ہو یا جن کا مسح کر چکا ہو تو وضو باطل ہوگا لیکن اگر جس عضو کو

ص:65

دھونا ہے یا مسح کرنا ہے صرف اس سے پہلے دھوئے ہوئے یا مسح کئے ہوئے عضو کی تری خشک ہو گئی ہو مثلاً جب بایاں ہاتھ دھوتے وقت دائیں ہاتھ کی تری خشک ہو چکی ہو لیکن چہرہ تر ہو تو وضو صحیح ہے۔

290۔ اگر کوئی شخص وضو کے افعال بلا فاصلہ انجام دے لیکن گرم ہوا یا بدن کی تپ یا کسی اور ایسی ہی وجہ سے پہلی جگہوں کی تری (یعنی ان جگہوں کی تری جنہیں وہ پہلے دھو چکا ہو یا جن کا مسح کر چکا ہو) خشک ہو جائے تو اس کا وضو صحیح ہے۔

291۔ وضو کے دوران چلنے پھرنے میں کوئی حرن نہیں لہذا اگر کوئی شخص چہرہ اور ہاتھ دھونے کے بعد چند قدم چلے اور پھر سر اور پاوں کا مسح کرے تو اس کا وضو و صحیح ہے۔

(گیارہویں شرط) انسان خود اپنا چہرہ اور ہاتھ دھوئے اور پھر سر اور پاوں کا مسح کرے۔ اگر کوئی دوسرا اسے وضو کرائے یا اس کے چہرے یا ہاتھوں پر پانی ڈالنے یا سر اور پاوں کا مسح کرنے میں اس کی مدد کرے تو اس کا وضو باطل ہے۔

292۔ اگر کوئی کوئی شخص خود وضو نہ کر سکتا ہو تو کسی دوسرے شخص سے مدد لے لے اگرچہ دھونے اور مسح کرنے میں حتی الامکان دونوں کی شرکت ضروری ہے اور اگر وہ شخص اجرت مانگے تو اگر اس کی ادائیگی کر سکتا ہو اور ایسا کرنا اسکے لئے مالی طور پر نقصان دہ نہ ہو تو اجرت ادا کرنا ضروری ہے۔ نیز ضروری ہے کہ وضو کی نیت خود کرے اور اپنے ہاتھ سے مسح کرے اور اگر خود دوسرے کے ساتھ شرکت نہ کر سکتا ہو تو ضروری ہے کہ کسی دوسرے شخص سے مدد لے جو اسے وضو کروائے یا اس صورت میں احتیاط واجب یہ ہے کہ دونوں وضو کی نیت کریں۔ اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ اس کا نائب اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کی مسح کی جگہوں پر پھیرے ار اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ نائب اس کے ہاتھ سے تری حاصل کرے اور اس تری سے اس کے سر اور پاوں پر مسح کرے۔

293۔ وضو کے جا افعال بھی انسان بذات خود انجام دے سکتا ہو ضروری ہے کہ انھیں انجام دینے کے لئے دوسروں کی مدد نہ لے۔

(بارہویں شرط) وضو کرنے والے کے لئے پانی کے استعمال میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔

ص:66

294۔ جس شخص کو خوف ہو کہ وضو کرنے سے بیمار ہو جائے گا یا اس پانی سے وضو کرے گا تو پیاسارہ جائے گا اس کا فریضہ وضو نہیں ہے۔ اور اگر اسے علم نہ ہو کہ پانی اس کے لئے مضر ہے اور وہ وضو کر لے اور اسےوضو کرنے سے نقصان پہنچے تو اس کا وضو باطل ہے۔

295۔ اگر چہرے اور ہاتھوں کو اتنے کم پانی سے دھونا جس سے وضو صحیح ہو جاتا ہو ضرر رساں نہ ہو اور اس سے زیادہ ضرر رساں ہو تو ضروری ہے کہ کم مقدار سے ہی وضو کرے۔

(تیرہویں شرط) وضو کے اعضاء تک پانی پہنچنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔

296۔ اگر کسی شخص کو معلوم ہو کہ اس کے وضو کے اعضاء پر کوئی چیز لگی ہوئی ہے لیکن اس بارے میں اسے شک ہو کہ آیا وہ چیز پانی کے ان اعضاء تک پہنچنے میں مانع ہے یا نہیں تو ضروری ہے کہ یا تو اس چیز کو ہٹا دے یا پانی اس کے نیچے تک پہنچائے۔

297۔ اگر نانخن کے نیچے میل ہو تو وضو درست ہے لیکن اگر ناخن کا ہونا جائے اور اس میل کی وجہ سے پانی کھال تک نہ پہنچے تو وضو کے لئے اس میل کا دور کرنا ضروری ہے۔ علاوہ ازیں اگر ناخن معمول سے زیادہ بڑھ جائیں تو جتنا حصہ معمول سے زیادہ بڑھا ہوا ہو اس کے نیچے سے میل نکالنا ضروری ہے۔

298۔ اگر کسی شخص کے چہرے، ہاتھوں، سر کے اگلے حصے یا پاوں کے اوپر والے حصے پر جل جانے سے یا کسی اور وجہ سے ورم ہو جائے تو اسے دھو لینا اور اس پر مسح کر لینا کافی ہے اور اگر اس میں سوراخ ہو جائے تو پانی جلد کے نیچے پہنچانا ضروری نہیں بلکہ اگر جلد کا ایک حصہ اکھڑ جائے تب بھی یہ ضروری نہیں کہ جو حصہ نہیں اکھڑا اس کے نیچے تک پانی پہنچایا جائے۔ لیکن جب اکھڑی ہوئی جلد کبھی بدن سے چپک جاتی ہو اور کبھی اوپر اٹھ جاتی ہو تو ضروری ہے کہ یا تو اسے کاٹ دے یا اس کے نیچے پانی پہنچائے۔

299۔ اگر کسی شخص کو شک ہو کہ اس کے وضو کے اعضاء سے کوئی چیز چپکی ہوئی ہے یا نہیں اور اس کا یہ احتمال لوگوں کی نظر میں بھی درست ہو مثلاً گارے سے کوئی کام کرنے کے بعد شک ہو کہ گارا اس کے ہاتھ سے لگا رہ گیا ہے یا نہیں تو ضروری ہے کہ تحقیق کر لے یا ہاتھ کو اتنا ملے کہ اطمینان ہو جائے کہ اگر اس پر گارا لگا رہ گیا تھا تو دور ہو گیا ہے یا پانی اس کے نیچے پہنچ گیا ہے۔

ص:67

300۔ جس جگہ کو دھونا ہو یا جس کا مسح کرنا ہو اگر اس پر میل ہو لیکن وہ میل پانی کے جلد تک پہنچے میں رکاوٹ نہ ڈالے تو کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح اگر پلستر وغیرہ کا کام کرنے کے بعد سفیدی ہاتھ پر لگی رہ جائے جو پانی کو جلد تک پہنچنے سے نہ روکے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر شک ہو کہ ان چیزوں کی موجودگی پانی کے جلد تک پہنچنے میں مانع ہے یا نہیں تو انہیں دور کرنا ضروری ہے۔

301۔اگر کوئی شخص وضو کرنے سے پہلے جانتا ہو کہ وضو کے بعض اعضاء پر ایسی چیز موجود ہے جو ان تک پانی پہنچنے میں مانع ہے اور وضو کے بعد شک کرے کہ وضو کرتے وقت پانی ان اعضاء تک پہنچایا ہے یا نہیں تو اس کا وضو صحیح ہے۔

302۔ اگر وضو کے بعض اعضاء میں کوئی ایسی رکاوٹ ہو جس کے نیچے پانی کبھی تو خود بخود چلا جاتا ہو اور کبھی نہ پہنچتا ہو اور انسان وضو کے بعد شک کرے کہ پانی اس کے نیچے پہنچا ہے یا نہیں جب کہ وہ جانتا ہو کہ وضو کے وقت وہ اس رکاوٹ کے نیچے پانی پہنچنے کی جانب متوجہ نہ تھا تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ دوبارہ وضو کرے۔

303۔ اگر کوئی شخص وضو کرنے کے بعد وضو کے اعضاء پر کوئی ایسی چیز دیکھے جو پانی کے بدن تک پہنچنے میں مانع ہو اور اسے یہ معلوم نہ ہو کہ وضو کے وقت یہ چیز موجود تھی یا بعد میں پیدا ہوئی تو اس کا وضو صحیح ہے لیکن اگر وہ جانتا ہو کہ وضو کرتے وقت وہ اس رکاوٹ کی جانب متوجہ نہ تھا تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ دوبارہ وضو کرے۔

304۔ اگر کسی شخص کو وضو کے بعد شک ہو کہ جو چیز پانی کے پہنچنے میں مانع ہے وضو کے اعضاء پر تھی یا نہیں تو اس کا وضو صحیح ہے۔