لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
242۔وضو میں واجب ہے کہ چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے جائیں اور سر کے اگلے حصے اور دونوں پاوں کے سامنے والے حصے کا مسح کیا جائے۔
243۔ چہرے کو لمبائی میں پیشانی کے اوپر اس جگہ سے لے کر جہاں سر کے بال اگتے ہیں ٹھوڑی کے آخری کنارے تک دھونا ضروری ہے اور چوڑائی میں بیچ کی انگلی اور انگوٹھے کے پھیلاو میں جتنی جگہ آجائے اسے دھونا ضروری ہے اگر اس مقدار کا ذرا سا حصہ بھی چھوٹ جائے تو وضو باطل ہے۔اور اگر انسان کو یہ یقین نہ ہو کہ ضروری حصہ پورا ڈھل گیا ہے تو یقین کرنے کے لئے تھوڑا تھوڑا ادھر ادھر سے دھونا بھی ضروری ہے۔
ص:57
244۔ اگر کسی شخص کے ہاتھ یا چہرہ عام لوگوں کی بہ نسبت بڑے یا چھوٹے ہوں تو اسے دیکھنا چاہئے کہ عام لوگ کہاں تک اپنا چہرہ دھوتے ہیں اور پھر وہ بھی اتنا ہی دھو ڈالے۔ علاوہ ازیں اگر اس کی پیشانی پر بال اگے ہوئے ہوں یا سر کے اگلے حصے پر بال نہ ہوں تو اسے چاہئے کہ عام اندازے کے مطابق پیشانی دھو ڈالے۔
245۔ اگر اس بات کا احتمال ہو کہ کسی شخص کی بھوں، آنکھ کے گوشوں اور ہونٹوں پر میل یا کوئی دوسری چیز ہے۔ جو پانی کے ان تک پہنچنے میں مانع ہے اور اس کا یہ احتمال لوگوں کی نظروں میں درست ہو تو اسے وضو سے پہلے تحقیق کر لینی چاہئے اور اگر کوئی چیز ہو تو اسے دور کرنا چاہئے۔
246۔ اگر چہرے کی جلد بالوں کے نیچے سے نظر آتی ہو تو پانی جلد تک پہنچانا ضروری ہے اور اگر نظر نہ آتی ہو تو بالوں کا دھونا کافی ہے اور ان کے نیچے تک پانی پہنچانا ضروری نہیں۔
247۔ اگر کسی شخص کو شک ہو کہ آیا اس کے چہرے کی جلد بالوں کے نیچے سے نظر آتی ہے یا نہیں تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ بالوں کو دھوئے اور پانی جلد تک بھی پہنچائے۔
248۔ ناک کے اندرونی حصے اور ہونٹوں اور آنکھوں کے ان حصوں کا جو بند کرنے پر نظر نہیں آتے دھونا واجب نہیں ہے۔ لیکن اگر کسی انسان کو یہ یقین نہ ہو کہ جن جگہوں کا دھونا ضروری ہے ان میں کوئی جگہ باقی نہیں رہی تو واجب ہے کہ ان اعضاء کا کچھ اضافی حصہ بھی دھو لے تاکہ اسے یقین ہو جائے اور جس شخص کو اس (مذکورہ) بات کا علم نہ ہو اگر اس نے جو وضو کیا ہے اس میں ضروری حصے دھونے یا نہ دھونے کے بارے میں نہ جانتا ہو تو اس وضو سے اس نے جو نماز پڑھی ہے وہ صحیح ہے اور بعد کی نمازوں کے لئے وضو کرنا ضروری نہیں ہے۔
249۔ احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ ہاتھوں اور اسی طرح چہرے کو اوپر سے نیچے کی طرف دھویا جائے۔ اگر نیچے سے اوپر کی طرف دھوئے جائیں تو وضو باطل ہوگا۔
250۔ اگر ہتھیلی پانی سے تر کر کے چہرے اور ہاتھوں پر پھیری جائے اور ہاتھ میں اتنی تری ہو کہ اسے پھیرنے سے پورے چہرے اور ہاتھوں پر پانی پہنچ جائے تو کافی ہے۔ ان پر پانی کا بہنا ضروری نہیں۔
251۔ چہرہ دھونے کے بعد پہلے دایاں ہاتھ اور پھر بایاں ہاتھ کہنی سے انگلیوں کے سروں تک دھونا چاہئے۔
ص:58
252۔ اگر انسان کو یقین نہ ہو کہ کہنی کو پوری طرح دھولیا ہے تو یقین کرنے کے لئے کہنی سے اوپر کا کچھ حصہ دھونا بھی ضروری ہے۔
253۔ جس شخص نے چہرہ دھونے سے پہلے اپنے ہاتھوں کو کلائی کے جوڑ تک دھویا ہو اسے چاہئے کہ وضو کرتے وقت انگلیوں کے سروں تک دھوئے۔ اگر وہ صرف کلائی کے جوڑ تک دھوئے گا تو اس کا وضو باطل ہوگا۔
254۔ وضو میں چہرے اور ہاتھوں کا ایک دفعہ دھونا واجب، دوسری دفعہ دھونا مستحب اور تیسری دفعہ یا اس سے زیادہ بار دھونا حرام ہے۔ ایک دفعہ دھونا اس وقت مکمل ہوگا جب وضو کی نیت سے اتنا پانی چہرے یا ہاتھ پر ڈالے کہ وہ پانی پورے چہرے یا ہاتھ پر پہنچ جائے اور احتیاطاً کوئی جگہ باقی نہ رہے لہذا اگر پہلی دفعہ دھونے کی نیت سے دس بار بھی چہرے پر پانی ڈالے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے یعنی جب تک مثلاً وضو کرنے یا چہرہ دھونے کی نیت نہ کرنے پہلی بار دھونا شمار نہیں ہوگا۔ لہذا اگر چاہے تو چند بار چہرہ کو دھولے اور آخری بار چہرہ دھوتے وقت وضو کی نیت کر سکتا ہے لیکن دوسری دفعہ دھونے میں نیت کا معتبر ہونا اشکال سے خالی نہیں ہے اور احتیاط لازم یہ ہے کہ اگرچہ وضو کی نیت سے نہ بھی ہو ایک دفعہ دھونے کے بعد ایک بار سے زائد چہرے یا ہاتھوں کو نہ دھوئے۔
255۔ دونوں ہاتھ دھونے کے بعد سر کے اگلے حصے کا مسح وضو کے پانی کی اس تری سے کرنا چاہئے جو ہاتھوں کو لگی رہ گئی ہو۔ اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ مسح دائیں ہاتھ سے کیا جائے جو اوپر سے نیچے کی طرف ہو۔
256۔ سر کے چار حصوں میں سے پیشانی سے ملا ہوا ایک حصہ وہ مقام ہے جہاں مسح کرنا چاہئے۔ اس حصے میں جہاں بھی اور جس اندازے سے بھی مسح کریں کافی ہے۔ اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ طول میں ایک انگلی کی لمبائی کے لگ بھگ اور عرض میں تین ملی ہوئی انگلیوں کے لگ بھگ جگہ پر مسح کیا جائے۔
257۔ یہ ضروری نہیں کہ سر کا مسح جلد پر کیا جائے بلکہ سر کے اگلے حصے کے بالوں پر کرنا بھی درست ہے لیکن اگر کسی کے سر کے بال اتنے لمبے ہوں کہ مثلاً اگر کنگھا کرے تو چہرے پر آگریں یا سر کے کسی دوسرے حصے تک جا پہنچیں تو ضروری ہے کہ وہ بالوں کی جڑوں پر یا مانگ نکال کر سر کی جلد پر مسح کرے۔ اور اگر وہ چہرے پر آگرنے والے یا سر کے دوسرے حصوں تک پہنچنے والے بالوں کو آگے کی طرف جمع کر کے ان پر مسح کرے گا یا سر کے دوسرے حصوں کے بالوں پر جو آگے کو بڑھ آئے ہوں مسح کرے گا تو ایسا مسح باطل ہے۔
ص:59
258۔ سر کے مسح کے بعد وضو کے پانی کی اس تری سے جو ہاتھوں میں باقی ہو پاوں کی کسی ایک انگلی سے لے کر پاوں کے جوڑ تک مسح کرنا ضروری ہے۔ اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ دائیں پیر کا دائیں ہاتھ سے اور بائیں پیر کا بائیں ہاتھ سے مسح کیا جائے۔
259۔ پاوں پر مسح کا عرض جتنا بھی ہو کافی ہے لیکن بہتر ہے کہ تین جڑی ہوئی انگلیوں کی چوڑائی کے برابر ہو اور اس سے بھی بہتریہ ہے کہ پاوں کے پورے اوپری حصے کا مسح پوری ہتھیلی سے کیا جائے۔
260۔ احتیاط یہ ہے کہ پاوں کا مسح کرتے وقت ہاتھ انگلیوں کے سروں پر رکھے اور پھر پاوں کے ابھار کی جانب کھینچے یا ہاتھ پاوں کے جوڑ پر رکھ کر انگلیوں کے سروں کی طرف کھینچے۔ یہ درست نہیں کہ پورا ہاتھ پاوں پر رکھے اور تھوڑا سا کھینچے۔
261۔ سر اور پاوں کا مسح کرنے وقت ہاتھ پر کھینچنا ضروری ہے۔اور اگر ہاتھ کو ساکن رکھے اور سر یا پاوں کو اس پر چلائے تو باطل ہے لیکن ہاتھ کھینچنے کے وقت سر اور پاوں معمولی حرکت کریں تو کوئی حرن نہیں۔
262۔ جس جگہ کا مسح کرنا ہو وہ خشک ہونی چاہئے۔ اگر وہ اس قدر تر ہو کہ ہتھیلی کی تری اس پر اثر نہ کرے تو مسح باطل ہے لیکن اگر اس پر نمی ہو یا تری اتنی کم ہو کہ وہ ہتھیلی کی تری سے ختم ہو جائے تو پھر کوئی حرج نہیں۔
263۔ اگر مسح کرنے کے لئے ہتھیلی پر تری باقی نہ رہی ہو تو اسے دوسرے پانی سے تر نہیں کیا جاسکتا بلکہ ایسی صورت میں اپنی ڈاڑھی کی تری لے کر اس سے مسح کرنا چاہئے۔ اور ڈاڑھی کے علاوہ اور کسی جگہ سے تری لے کر مسح کرنا محل اشکال ہے۔
264۔ اگر ہتھیلی کی تری صرف سر کے مسح کے لئے کافی ہو تو احتیاط واجب یہ ہے کہ سر کا مسح اس تری سے کیا جائے اور پاوں کے مسح کے لئے اپنی ڈاڑھی سے تری حاصل کرے۔
265۔ موزے اور جوتے پر مسح کرنا باطل ہے۔ ہاں اگر سخت سردی کی وجہ سے یا چور یا درندے وغیرہ کے خوف سے جوتے یا موزے نہ اتارے جاسکیں تو احتیاط واجب یہ ہے کہ موزے اور جوتے پر مسح کرے اور تیمم بھی کرے۔ اور تقیہ کی صورت میں موزے اور جوتے پر مسح کرنا کافی ہے۔
ص:60
266۔ اگر پاوں کا اوپر والا حصہ نجس ہو اور مسح کرنے کے لئے اسے دھویا بھی نہ جاسکتا ہو تو تیمم کرنا ضروری ہے۔