لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

نکاح پڑھنے کا طریقه

2377۔ اگر عورت اور مرد خود اپنے دائمی نکاح کا صیغه پڑھیں تو مهر معین کرنےکے بعد پهلے عورت کهے "زَوَّجتُکَ نَفسِی عَلَی الصِّدَاقِ المَعلُومِ" یعنی میں نے اس مهر پر جو معین هوچکا هے اپنے آپ کو تمهاری بیوی بنایا اور اس کے لمحه بھی بعد مرد کهے "قَبِلتُ التَّزوِیجَ" یعنی میں نے ازدواج کو قبول کیا تو نکاح صحیح هے اور اگر وه کسی دوسرے کو وکیل مقرر کریں که ان کی طرف سے صیغه نکاح پڑھ دے تو اگر مثال کے طور پر مرد کا نام احمد اور عورت کا نام فاطمه هو اور عورت کا وکیل کهے "زَوَّجتُ مُوِکِّلَکَ اَحمَدَ مُوَکِّلَتیِ فَاطِمَۃَ عَلَی الصِّدَاقِ المَعلُومِ" اور اس کے لمحه بھر بعد مرد کا وکیل کهے " قَبِلتُ التَّزوِیجَ لِمُوَکِّلِی اَحمَدَ عَلَی الصِّدَاقِ المَعلُومِ" تو نکاح صحیح هوگا اور احتیاط مستحب یه هے که مرد جو لفظ کهے وه عورت کے کهے جانے والے لفظ کے مطابق هو مثلاً اگر عورت "زَوَّجتُ" کهے تو مرد بھی "قَبِلتُ التَّزوِیجَ" کهے اور قَبِلتُ النِّکَاحَ نه کهے۔

2378۔اگر خود عورت اور مرد چاهیں تو غیر دائمی نکاح کا صیغه نکاح کی مدت اور مهر معین کرنے کے بعد پڑھ سکتے هیں۔ لهذا اگر عورت کهے "زَوَّجتُکَ نَفسِی فِی المُدَّۃِ المَعلُومَۃِ عَلَی المَھرِ المَعلُومِ" اور اس کے لمحه بھر بعد مرد کهے "قَبِلتُ" تو نکاح صحیح هے اور اگر وه کسی اور شخص کو وکیل بنائیں اور پهلے عورت کا وکیل مرد کے وکیل سے کهے "زَوَّجتُکَ مُوَکِّلَتِی مُوَکِّلَکَ فِی المُدَّۃِ المَعلُومَۃِ عَلَی المَھرِ المَعلُومِ" اور اس کے بعد مرد کا وکیل توقّف کے بعد کهے۔ "قَبِلتُ التَّزوِیجَ لِمُوَکِّلِی ھٰکَذَا" تو نکاح صحیح هوگا۔