لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

اشاره

ص:446

عقدِازدِواج کے ذریعے عورت، مرد پر اور مرد، عورت پر حلال هوجاتے هیں اور عقد کی دو قسمیں هیں پهلی دائمی اور دوسری غیر دائمی۔ مقرره وقت کے لئے عقد۔ عقد دائمی اسے کهتے هیں جس میں ازدواج کی مدت معین نه هو اور وه همیشه کے لئے هو اور جس عورت سے اس قسم کاعقد کیا جا4ے اسے دائمه کهتے هیں۔ اور غیر دائمی عقد وه هے جس میں ازدواج کی مدت معین هو مثلاً عورت کے ساتھ ایک گھنٹے یا ایک دن یا ایک مهینے یا ایک سال یا اس سے زیاده مدت کے لئے عقد کیا جائے لیکن اس عقد کی مدت عورت اور مرد کی عام عمر سے زیاده نهیں هونی چاهئے کیونکه اس صورت میں عقد باطل هو جائے گا۔ جب عورت سے اس قسم کا عقد کیا جائے تو اسے مُتعه یا صیغه کهتے هیں۔

2372۔ازدواج خواه دائمی هو یا غیر دائمی اس میں صیغه (نکاح کے بول) پڑھنا ضروری هے۔ عورت اور مرد کا محض رضامند هونا اور اسی طرح (نکاح نامه) لکھنا کافی نهیں هے۔ نکاح کا صیغه یا تو عورت اور مرد خود پڑھتے هیں یا کسی کو وکیل مقرر کر لیتے هیں تاکه وه ان کی طرف سے پڑھ دے۔

2373۔ وکیل کا مرد هونا لازم نهیں بلکه عورت بھی نکاح کا صیغه پڑھنے کے لئے کسی دوسرے کی جانت سے وکیل هوسکتی هے۔

2374۔عورت اور مرد کو جب تک اطمینان نه هوجائے که ان کے وکیل نے صیغه پڑھ دیا هے اس وقت تک وه ایک دوسرے کو محرمانه نظروں سے نهیں دیکھ سکتے اور اس بات کا گمان که وکیل نے صیغه پڑھ دیا هے کافی نهیں هے بلکه اگر وکیل کهه دے که میں نے صیغه پڑھدیا هے لیکن اس کی بات پر اطمینان نه هو تو اس کی بات پر بھروسه کرنا محل اشکال هے۔

2375۔ اگر کوئی عورت کسی کو وکیل مقرر کرے اور کهے که تم میرا نکاح دس دن کے لئے فلاں شخص کے ساتھ پڑھ دو اور دس دن کی ابتدا کو معین نه کرے تو وه (نکاح خوان) وکیل جن دس دنوں کے لئے چاهے اسے اس مرد کے نکاح میں دے سکتا هے لیکن اگر وکیل کو معلوم هو که عورت کا مقصد کسی خاصدن یا گھنٹے کا هے تو پھر اسے چاهئے که عورت کے قصد کے مطابق صیغه پڑھے۔

ص:447

2376۔ عقد دائمی یا عقد غیر دائمی کا صیغه پڑھنے کے لئے ایک شخص دو اشخاص کی طرف سے وکیل بن سکتا هے اور انسان یه بھی کرسکتا هے که عورت کی طرف سے وکیل بن جائے اور اس سے خود دائمی یا غیر دائمی نکاح کرلے لیکن احتیاط مستحب یه هے که نکاح دو اشخاص پڑھیں۔