لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

نماز میں بدن کا ڈھانپنا

792۔ ضروری هے که مرد خواه اسے کوئی بھی نه دیکھ رها هو نماز کی حالت میں اپنی شرمگاهوں کو ڈھانپے اور بهتر یه هے که ناف سے گھٹنوں تک بدن بھی ڈھانپے۔

797۔ضروری هے که عورت نماز کے وقت اپنا تمام بدن حتٰی که سر اور بال بھی ڈھانپے اور احتیاط مُستحب یه هے که پاوں کے تلوے بھی ڈھانپے البته چهرے کا جتنا حصه وضو میں دھویا جاتا هے اور کلائیوں تک هاتھ اور ٹخنوں تک پاوں کا ظاهری حصه ڈھانپا ضروری نهیں هے لیکن یه یقین کرنے کے لئے که اس نے بدن کی واجب مقدار ڈھانپ لی هے ضروری هے که چهرے کی اطراف کا کچھ حصه اور کلائیوں سے نیچے کا کچھ حصه بھی ڈھانپے۔

798۔ جب انسان بھولے هوئے سجدے یا بھولے هوئے تشهد کی قضا بجا لا رها هو تو ضروری هے که اپنے آپ کو اس طرح ڈھانپے جس طرح نماز کے وقت ڈھانپا جاتا هے اور احتیاط مستحب یه هے که سجده سهو ادا کرنے کے وقت بھی اپنے آپ کو ڈھانپے۔

799۔ اگر انسان جان بوجھ کر یا مسئله نه جاننے کی وجه سے غلطی کرتے هوئے نماز میں اپنی شرم گاه نه ڈھانپے تو اس کی نماز باطل هے۔

800۔اگر کسی شخص کو نماز کے دوران پته چلے که اس کی شرم گاه ننگی هے تو ضروری هے که اپنی چھپائے اور اس پر لازم نهیں هے که نماز دوباره پڑھے لیکن احتیاط یه هے که جب اسے پته چلے که اس کی شرم گاه ننگی هے تو اس کے بعد نماز کا

ص:165

کوئی جز انجام نه دے۔لیکن اگر اسے نماز کے بعد پته چلے که نماز کے دوران اس کی شرم گاه ننگی تھی تو اس کی نماز صحیح هے۔

801۔ اگر کسی شخص کالباس کھڑے هونے کی حالت میں اس کی شرمگاه کو ڈھانپ لے لیکن ممکن هو که دوسری حالت میں مثلاً رکوع اور سجود کی حالت میں نه ڈھانپے تو اگر شرمگاه کے ننگا هونے کے وقت اسے کسی ذریعے سے ڈھانپ لے تو اس کی نماز صحیح هے لیکن احتیاط مستحب یه هے که اس لباس کے ساتھ نماز نه پڑھے۔

802۔ انسان نماز میں اپنے آپ کو گھاس پھونس اور درختوں کے (بڑے) پتوں سے ڈھانپ سکتا هے لیکن احتیاط مستحب یه هے که ان چیزوں سے اس وقت ڈھانپے جب اس کے پاس کوئی اور چیز نه هو۔

803۔ انسان کے پاس مجبوری کی حالت میں شرم گاه چھپانے کے لئے کوئی چیز نه هو تو اپنی شرم گاه کی کھال نمایاں نه هونے کے لئے گارا یا اس جیسی کسی دوسری چیز کولیت پوت کر اسے چھپائے۔

804۔ اگر کسی شخص کے پاس کوئی چیز ایسی نه هو جس سے وه نماز میں اپنے آپ کو ڈھانپے اور ابھی وه ایسی چیز ملنے سے مایوس بھی نه هوا هو تو بهتر یه هے که نماز پڑھنے میں تاخیر کرے اور اگر کوئی چیز نه ملے تو آخر وقت میں اپنے وظیفے کے مطابق نماز پڑھے لیکن اگر وه اول وقت میں نماز پڑھے اور اس کا عذر آخر وقت تک باقی نه رهے تو احتیاط واجب یه هے که نماز کو دوباره پڑھے۔

805۔ اگر کسی شخص کے پاس جو نماز پڑھنا چاهتا هو اپنے آپ کو ڈھانپنے کے لئے درخت کے پتے، گھاس، گارا یا دلدل نه هو اور آخرت وقت تک کسی ایسی چیز کے ملنے سے مایوس هو جس سے وه اپنے آپ کو چھپا سکے اگر اسے اس بات کا اطمینان هو که کوئی شخص اسے نهیں دیکھے گا تو وه کھڑا هو کر اسی طرح نماز پڑھے جس طرح اختیاری حالت میں رکوع اور سجود کے ساتھ نماز پڑھتے هیں لیکن اگر اسے اس بات کا احتمال هو که کوئی شخصاسے دیکھ لے گا تو ضروری هے که اس طرح نماز پڑھے که اس کی شرم گاه نظر نه آئے مثلاً بیٹھ کر نماز پڑھے یا رکوع اور سجود جو اختیاری حالت میں انجام دیتے هیں ترک کرے اور رکوع اور سجود کو اشارے سے بجالائے اور احتیاط لازم یه هے که ننگا شخص نماز کی حالت میں اپنی شرمگاه کو اپنے بعض اعضا کے ذریعے مثلاً بیٹھا هو تو دونوں رانوں سے اور کھڑا هو تو دونوں هاتھوں سے چھپالے۔