لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

نماز میت کے مُستحبات

618۔ چند چیزیں نماز میت میں مستحب هیں۔

1۔ جو شخص نماز میت پڑھے وه وضو، غسل یا تیمم کرے۔ اور احتیاط میں هے که تیمم اس وقت کرے جب وضو اور غسل کرنا ممکن نه هو یا اسے خدشه هو که اگر وضو یا غسل کریگا تو نماز میں شریک نه هو سکے گا۔

2۔ اگر میت مرد هو تو امام جو شخص اکیلا میت پر نماز پڑھ رها هو میت کے شکم کے سامنے کھڑا هو اور اگر میت عورت هو تو اسکے سینے کے سامنے کھڑا هو۔

3۔ نماز ننگے پاوں پڑھی جائے۔

ص:126

4۔ هر تکبیر میں هاتھوں کو بلند کیا جائے۔

5۔ نمازی اور میت کے درمیان اتنا کم فاصله هو که اگر هوا نمازی کے لباس کو حرکت دے تو وه جنازے کو جا چھوئے۔

6۔ نماز میت جماعت کے ساتھ پڑھی جا4ے۔

7۔ امام تکبیریں اور دعائیں بلند آواز سے پڑھے اور مقتدی آهسته پڑھیں۔

8۔ نماز با جماعت میں مقتدی خواه ایک شخص هی کیوں نه هو امام کے پیچھے کھرا هو۔

9۔ نماز پڑھنے والا میت اور مومنین کے لئے کثرت سے دعا کرے۔

10۔ باجماعت نماز سے پهلے تین مرتبه "اَلصَّلوٰۃ" کهے۔

11۔ نماز ایسی جگه پڑھی جائے جهاں نماز میت کے لئے لوگ زیاده تر جاتے هوں۔

12۔ اگر حائض نماز میت جماعت کے ساتھ پڑھے تو اکیلی کھڑی هو اور نمازیوں کی صف میں نه کھڑی هو۔

619۔ نماز میت مسجدوں میں پڑھنا مکروه هے لیکن مسجد الحرام میں پڑھنا مکروه نهیں هے۔