لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
نماز دینی اعمال میں سے بهترین عمل هے۔ اگر یه درگاره الهی میں قبول هوگئی تو دوسری عبادات بھی قبول هو جائیں گی اور اگر یه قبول نه هوئی تو دوسرے اعمال بھی قبول نه هوں گے۔ جس طرح انسان اگر دن رات میں پانچ دفعه نهر میں نهائے دھوئے تو اس کے بدن پر میل کچیل نهیں رهتی اسی طرح پنج وقته نماز بھی انسان کو گناهوں سے پاک کر دیتی هے اور بهتر
ص:149
هے که انسان نماز اول وقت میں پڑھے۔ جو شخص نماز کو معمولی اور غیر اهم سمجھے وه اس شخص کو مانند هے جو نماز نه پڑھتا هو۔ رسول اکرم (صلی الله علیه وآله) نے فرمایا هے که "جو شخص نماز کو اهمیت نه دے اور اسے معمولی چیز سمجھے وه عذاب آخرت کا مستحق هے" ایک دن رسول اکرم (صلی الله علیه وآله) مسجد میں تشریف فرماتھے که ایک شخص مسجد میں داخل هوا اور نماز پڑھنے میں مشغول هو گیا لیکن رکوع اور سجود مکمل طور پر بجانه لایا۔ اس پر حضور (صلی الله علیه وآله) نے فرمایا که اگر یه شخص اس حالت میں مرجائے جبکه اس کے نماز پڑھنے کا یه طریقه هے تو یه همارے دین پرنهیں مرے گا۔ پس انسان کو خیال رکھنا چاهئے که نماز جلدی جلدی نه پڑھے اور نماز کی حالت میں خدا کی یاد میں رهے اور خشوع و خضوع اور سنجیدگی سے نماز پڑھے اور یه خیال رکھے که کس هستی سے کلام کر رها هے اور اپنے آپ کو خداوند عالم کی عظمت اور بزرگی کے مقابلے میں حقیر اور ناچیز سمجھے۔ اگر انسان نماز کے دوران پوری طرح ان باتوں کی طرف متوجه رهے تو وه اپنے آپ سے بے خبر هوجاتا هے جیسا که نماز کی حالت میں امیرالمومنین امام علی ؑ کے پاوں سے تیر کھینچ لیا گیا اور آپ ؑ کو خبر تک نه هوئی۔ علاوه ازیں نماز پڑھے والے کو چاهئے که توبه و استغفار کرے اور نه صرف ان گناهوں کو جو نماز قبول هونے میں مانع هوتے هیں۔ مثلاً حسد، تکبر، غیبت، حرام کھانا، شراب پینا، اور خمس و زکوۃ کا ادا نه کرنا۔ ترک کرے بلکه تمام گناه ترک کردے اور اسی طرح بهتر هے که جو کام نماز کا ثواب گھٹاتے هیں وه نه کرے مثلاً اونگھنے کی حالت میں یا پیشاب روک کر نماز کے لئے نه کھڑا هو اور نماز کے موقع پر آسمان کی جانب نه دیکھے اور وه کام کرے جو نماز کا ثواب بڑھاتے هیں مثلاً عقیق کی انگوٹھی اور پاکیزه لباس پهنے، کنگھی اور مسواک کرے نیز خوشبو لگائے۔