لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
514۔ بچے کا پہلا جزو ماں کے پیٹ سے باہر آنے کے وقت سے جو خون عورت کو آئے اگر وہ دس دن سے پہلے یا دسویں دن کے خاتمے پر بند ہو جائے تو وہ خون نفاس ہے اور نفاس کی حالت میں عورت کو نفساء کہتے ہیں۔
515۔ جو خون عورت کو بچے کا پہلا جزو باہر آنے سے پہلے آئے وہ نفاس نہیں ہے۔
516۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ بچے کی حلقت مکمل ہو بلکہ اس کی خلقت نامکمل ہو تب بھی اگر اسے "بچہ جننا" کہا جاسکتا ہے تو وہ خون جو عورت کو دس دن تک آئے خون نفاس ہے۔
517۔ یہ ہو سکتا ہے کہ خون نفاس ایک لحظہ سے زیادہ نہ آئے لیکن وہ دس دن سے زیادہ نہیں آتا۔
518۔ اگر کسی عورت کو شک ہو کہ اسقاط ہوا ہے یا نہیں یا جو اسقاط ہوا وہ بچہ تھا یا نہیں تو اس کے لئے تحقیق کرنا ضروری نہیں اور جو خون اسے آئے وہ شرعاً نفاس نہیں ہے۔
519۔ مسجد میں ٹھہرنا اور دوسرے افعال جو حائض پر حرام ہیں احتیاط کی بنا پر نفساء پر بھی حرام ہیں اور جو کچھ حائض پر واجب ہے وہ نفساء پر بھی واجب ہے۔
520۔ جو عورت نفاس کی حالت میں ہو اسے طلاق دینا اور اس سے جماع کرنا حرام ہے لیکن اگر اس کا شوہر اس سے جماع کرے تو اس پر بلا اشکال کفارہ نہیں ۔
521۔ جب عورت نفاس کے خون سے پاک ہو جائے تو اسے چاہئے کہ غسل کرے اور اپنی عبادات بجالائے اور اگر بعد میں ایک یا ایک بار سے زیادہ خون آئے تو خون آنے والے دنوں کو پاک رہنے والے دنوں سے ملا کر اگر دس دن یا دس دن سے کم ہو تو سارے کا سارا خون نفاس ہے۔ اور ضروری ہے کہ درمیان میں پاک رہنے کے دنوں میں احتیاط کی بنا پر جو کام پاک عورت پر واجب ہیں انجام دے اور جو کام نفساء پر حرام ہیں انہیں ترک کرے اور اگر ان دنوں میں کوئی
ص:110
روزہ رکھا ہو تو ضروری ہے کہ اس کی قضا کرے۔ اور اگر بعد میں آنے والا خون دس دن سے تجاوز کر جائے اور وہ عورت عدد کی عادت نہ رکھتی ہو تو خون کی وہ مقدار جو دس دن کے اندر آئی ہے اسے نفاس اور دس دن کے بعد آنے والے خون کو استحاضہ قرار دے۔ اور اگر وہ عورت عدد کی عادت رکھتی ہو تو ضروری ہے کہ احتیاطاً عادت کے بعد آنے والے خون کی تمام مدت میں جو کام مستحاضہ کے لئے ہیں انجام دے اور جو کام نفساء پر حرام ہیں انہیں ترک کرے۔
522۔ اگر عورت خون نفاس سے پاک ہو جائے اور احتمال ہو کہ اس کے باطن میں خون نفاس ہے تو اسے چاہئے کہ کچھ روئی اپنی شرم گاہ میں داخل کرے اور کچھ دیر انتظار کرے پھر اگر وہ پاک ہو تو عبادات کے لئے غسل کرے۔
523۔ اگر عورت کو نفاس کا خون دس دن سے زیادہ آئے اور وہ حیض میں عادت رکھتی ہو تو عادت کے برابر دنوں کی مدت نفاس اور باقی استحاضہ ہے اور اگر عادت نہ رکھتی ہو تو دس دن تک نفاس اور باقی استحاضہ ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ جو عورت عادت رکھتی ہو وہ عادت کے بعد کے دن سے اور جو عورت عادت نہ رکھتی ہو وہ دسویں دن کے بعد سے بچے کی پیدائش کے اٹھارہویں دن تک استحاضہ کے افعال بجا لائے اور وہ کام جو نفساء پر حرام ہیں انہیں ترک کرے۔
544۔ اگر کسی عورت کو جس کی حیض کی عادت دس دن سے کم ہو اپنی عادت سے زیادہ دن خون آئے تو اسے چاہئے کہ اپنی عادت کے دنوں کی تعداد کو نفاس قرار دے اور اس کے بعد اسے اختیار ہے کہ دس دن تک نماز ترک کرے یا مستحاضہ کے احکام پر عمل کرے لیکن ایک دن کی نماز ترک کرنا بہتر ہے۔ اور اگر خون دس دن کے بعد بھی آتا رہے تو اسے چاہئے کہ عادت کے دنوں کے بعد دسویں دن تک بھی استحاضہ قرار دے اور جو عبادات وہ ان دنوں میں بجا نہیں لائی ان کی قضا کرے۔ مثلاً جس عورت کی عادت چھ دنوں کی ہو اگر اسے چھ دن سے زیادہ خون آئے تو اسے چاہئے کہ چھ دنوں کو نفاس قرار دے۔ اور ساتویں، آٹھویں، نویں اور دسویں دن اسے اختیار ہے کہ یا تو عبادت ترک کرے یا استحاضہ کے افعال بجالائے اور اگر اسے دس دن سے زیادہ خون آیا ہو تو اس کی عادت کے بعد کے دن سے وہ استحاضہ ہوگا۔
525۔ جو عورت حیض میں عادت رکھتی ہو اگر اسے بچہ جننے کے بعد ایک مہینے تک یا ایک مہینے سے زیادہ مدت تک لگاتار خون آتا رہے تو اس کی عادت کے دنوں کی تعداد کے برابر خون نفاس ہے اور جو خون، نفاس کے بعد دس دن تک آئے خواہ وہ اس کی ماہانہ عادت کے دنوں میں آیا ہو استحاضہ ہے۔ مثلاً ایسی عورت جس کے حیض کی عادت ہر مہینے کی بیس تاریخ سے ستائیس تاریخ تک ہو اگر وہ مہینے کی دس تاریخ کو بچہ جنے اور ایک مہینے یا اس سے زیادہ مدت تک اسے متواتر
ص:111
خون آئے تو سترھویں تاریخ تک نفاس اور سترھویں تاریخ سے دس دن تک کا خون حتی کہ وہ خون بھی جو بیس تاریخ سے ستائیس تاریخ تک اس کی عادت کے دنوں میں آیا ہے استحاضہ ہوگا اور دس دن گزرے کے بعد جو خون اسے آئے اگر وہ عادت کے دنوں میں ہو تو حیض ہے خواہ اس میں حیض کی علامات ہوں یا نہ ہوں۔ اور اگر وہ خون اس کی عادت کے دنوں میں نہ آیا ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنی عادت کے دنوں کا انتظار کرے اگرچہ اس کے انتظار کی مدت ایک مہینہ یا ایک مہینے سے زیادہ ہو جائے اور خواہ اس مدت میں جو خون آئے اس میں حیض کی علامات ہوں۔ اور اگر وہ وقت کی عادت والی عورت نہ ہو اور اس کے لئے ممکن ہو تو ضروری ہے کہ وہ اپنے حیض کو علامات کے ذریعے معین کرے اور اگر ممکن نہ ہو جیسا کہ نفاس کے بعد دس دن جو خون آئے وہ سارا ایک جیسا ہو اور ایک مہینہ یا چند مہینے انہی کے ساتھ آتا رہے تو ضروری ہے کہ ہر مہینے میں اپنے کنبے کی بعض عورتوں کے حیض کی جو صورت ہو وہی اپنے لئے قرار دے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو جو عدد اپنے لئے مناسب سمجھتی ہے اختیار کرے اور ان تمام امور کی تفصیل حیض کی بحث میں گزر چکی ہے۔
526۔ جو عورت حیض میں عدد کے لحاظ سے عادت نہ رکھتی ہو اگر اسے بچہ جننے کے بعد ایک مہینے تک یا ایک مہینے سے زیادہ مدت تک خون آئے تو اس کے پہلے دس دنوں کے لئے وہی حکم ہے جس کا ذکر مسئلہ 523 میں آچکا ہے اور دوسری دہائی میں جو خون آئے وہ استحاضہ ہے اور جو خون اسے اس کے بعد آئے ممکن ہے وہ حیض ہو اور ممکن ہے استحاضہ ہو اور حیض قرار دینے کے لئے ضروری ہے کہ اس حکم کے مطابق عمل کرے جس کا ذکر سابقہ مسئلہ میں گزر چکا ہے۔