لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
89۔ انسان کی اور اچھلنے والا خون رکھنے والے ہر حیوان کی لاش نجس ہے خواہ وہ (قدرتی طور پر) خود مرا ہو یا شرعی طریقے کے علاوہ کسی اور طریقے سے ذبح کیا گیا ہو۔
مچھلی چونکہ اچھلنے والا خون نہیں رکھتی اس لئے پانی میں مر جائے تو بھی پاک ہے۔
90۔ لاش کے وہ اجزاء جن میں جان نہیں ہوتی پاک ہیں مثلاً پشم، بال، ہڈیاں اور دانت۔
91۔ جب کسی انسان یا جہندہ خون والے حیوان کے بدن سے اس کی زندگی کے دوران میں گوشت یا کوئی دوسرا ایسا حصہ جس میں جان ہو جدا کر لیا جائے تو وہ نجس ہے۔
92۔ اگر ہونٹوں یا بدن کی کسی اور جگہ سے باریک سی تہہ (پیڑی) اکھیڑ لی جائے تو وہ پاک ہے۔
93۔ مُردہ مرغی کے پیٹ سے جو انڈا نکلے وہ پاک ہے لیکن اس کا چلکھا دھو لینا ضروری ہے۔
94۔ اگر بھیڑیا بکری کا بچہ (میمنا) گھاس کھانے کے قابل ہونے سے پہلے مرجائے تو وہ نپیر مایا جو اس کے شیردان میں ہوتا ہے پاک ہے لیکن شیردان باہر سے دھو لینا ضروری ہے۔
ص:32
95۔ بہنے والی دوائیاں، عطر، روغن (تیل،گھی) جوتوں کی پالش اور صابن جنہیں باہر سے در آمد کیا جاتا ہے اگر ان کی نجاست کے بارے میں یقین نہ ہو تو پاک ہیں۔
96۔ گوشت، چربی اور چمڑا جس کے بارے میں احتمال ہو کہ کسی ایسے جانور کا ہے جسے شرعی طریقے سے ذبح کیا گیا ہے پاک ہے۔ لیکن اگر یہ چیزیں کسی کافر سے لی گئی ہوں یا کسی ایسے مسلمان سے لی گئی ہوں۔ جس نے کافر سے لی ہوں اور یہ تحقیق نہ کی ہو کہ آیا یہ کسی ایسے جانور کی ہیں جسے شرعی طریقے سے ذبح کیا گیا ہے یا نہیں تو ایسے گوشت اور چربی کا کھانا حرام ہے البتہ ایسے چمڑے پر نماز جائز ہے۔ لیکن اگر یہ چیزیں مسلمانوں کے بازار سے یا کسی مسلمان سے خریدی جائیں اور یہ معلوم نہ ہو کہ اس سے پہلے یہ کسی کافر سے خریدی گئی تھیں یا احتمال اس بات کا ہو کہ تحقیق کر لی گئی ہے تو خواہ کافر سے ہی خریدی جائیں اس چمڑے پر نماز پڑھنا اور اس گوشت اور چربی کا کھانا جائز ہے۔