لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

مَزارعه کے احکام

2236۔ مُزارعه کی چند قسمیں هیں۔ان میں سے ایک یه هے که (زمین کا) مالک کاشتکار (مزارع) سے معاهد کرکے اپنی زمین اس کے اختیار میں دے تاکه وه اس میں کاشت کاری کرے اور پیداوار کا کچھ حصه مالک کو دے۔

2237۔ مُزاعه کی چند شرائط هیں :

1۔ زمین کا مالک کاشتکار سے کهے که میں نے زمین تمهیں کھیتی باڑی کے لئے دی هے اور کاشتکاری بھی کهے که میں نے قبول کی هے یا بغیر اس کے که زبانی کچھ کهیں مالک کاشتکار کو کھیتی باڑی کے ارادے سے زمین دے دے اور کاشتکار قبول کر لے۔

2۔ زمین کا مالک اور کاشتکار دونوں بالغ اور عاقل هوں اور بٹائی کا معاهده اپنے ادارے اور اختیار سے کریں اور سفیه نه هوں۔ اور اسی طرح ضروری هے که مالک دیوالیه نه هو۔ لیکن اگر کاشتکار دیوالیه هو اور اس کا مزارعه کرنا ان اموال میں تصرف نه کهلائے جن میں اسے تصرف کرنا منع تھا تو ایسی صورت میں کوئی اشکال نهیں هے۔

3۔ مالک اور کاشتکار میں سے هر ایک زمین کی پیداوار میں سے کچھ حصه مثلاً نصف یا ایک تهائی وغیره لے لے ۔ لهذا اگر کوئی بھی اپنے لئے کوئی حصه مقرر نه کرے یا مثلاً مالک کهے که اس زمین میں کھیتی باڑی کرو اور جو تمهارا جی چاهے مجھے دے دینا تو یه درست نهیں هے اور اسی طرح اگر پیداوار کی ایک معین مقدار مثلاً دس من کاشتکار یا مالک کے لئے مقرر کردی جائے تو یه بھی صحیح نهیں هے۔

ص:421

4۔ احتیاط کی بنا پر هر ایک کا حصه زمین کی پوری پیداوار میں مشترک هو۔ اگرچه اظهر یه هے که یه شرط معتبرنهیں هے۔ اسی بنا پر اگر مالک کهے که اس زمین میں کھیتی باڑی کرو اور زمین کی پیداوار کا پهلا آدھا حصه جتنا بھی هو تمهارا هوگا اور دوسرا آدھا حصه میرا تو مزارعه صحیح هے۔

5۔ جتنی مدت کے لئے زمین کاشتکار کے قبضے میں رهنی چاهئے اسے معین کر دیں اور ضروری هے که وه مدت اتنی هو که اس مدت میں پیداوار حاصل هونا ممکن هو اور اگر مدت کی ابتدا ایک مخصوص دن سے اور مدت کا اختتام پیداوار ملنے کو مقرر کر دیں تو کافی هے۔

6۔ زمین قابل کاشت هو۔ اور اگر اس میں ابھی کاشت کرنا ممکن نه هو لیکن ایسا کام کیا جاسکتا هو جس سے کاشت ممکن هو جائے تو مزارعه صحیح هے۔

7۔ کاشتکار جو چیز کاشت کرنا چاهے، ضروری هے که اس کو معین کر دیا جائے۔ مثلاً معین کرے که چاول هے یا گیهوں، اور اگر چاول هے تو کونسی قسم کا چاول هے۔ لیکن اگر کسی مخصوص چیز کی کاشت پیش نظر نه هو تو اس کا معین کرنا ضروری نهیں هے۔ اور اسی طرح اگر کوئی مخصوص چیز پیش نظر هو اور اس کا علم هو تو لازم نهیں هے که اس کی وضاحت بھی کرے۔

8۔ مالک، زمین کو معین کر دے۔ یه شرط اس صورت میں هے جبکه مالک کے پاس زمین کے چند قطعات هوں اور ان قطعات کے لوازم کاشتکاری میں فرق هو۔ لیکن اگر ان میں کوئی فرق نه هو تو زمین کو معین کرنا لازم نهیں هے۔ لهذا اگر مالک کاشتکار سے کهے که زمین کے ان قطعات میں سے کسی ایک میں کھیتی باڑی کرو اور اس قطعه کو معین نه کرے تو مزارعه صحیح هے۔

9۔ جو خرچ ان میں سے هر ایک کو کرنا ضروری هو اسے معین کردیں لیکن جو خرچ هر ایک کو کرنا ضروری هے هو اگر اس کا علم هو تو پھر اس کی وضاحت کرنا لازم نهیں۔

2238۔ اگر مالک کاشتکار سے طے کرے که پیداوار کی کچھ مقدار ایک کی هوگی اور جو باقی بچے گا اسے وه آپس میں تقسیم کر لیں گے تو مزارعه باطل هے اگرچه انهیں علم هو که اس مقدار کو علیحده کرنے کے بعد کچھ نه کچھ باقی بچ جائے گا۔ هان

ص:422

اگر وه آپس میں یه طے کرلیں که بیج کی جو مقدار کاشت کی گئی هے یا ٹیکس کی جو مقدار حکومت لیتی هے وه پیداوار سے نکالی جائے گی اور جو باقی بچے گا اسے دونوں کے درمیان تقسیم کیا جائے گا تو مزارعه صحیح هے ۔

2239۔ اگر مزارعه کے لئے کوئی مدت معین کی هو که جس میں عموماً پیداوار دستیاب هوجاتی هے لیکن اگر اتفاقاً معین مدت ختم هو جائے اور پیداوار دستیاب نه هوئی هو تو اگر مدت معین کرتے وقت یه بات بھی شامل تھی یعنی دونوں اس بات پر راضی تھے که مدت ختم هونے کے بعد اگرچه پیداوار دستیاب نه هو مزارعه ختم هوجائے گا تو اس صورت میں اگر مالک اس بات پر راضی هو که اجرت پر یا بغیر اجرت فصل اس کی زمیں میں کھڑی رهے اور کاشتکار بھی راضی هو تو کوئی ھرج نهیں اور اگر مالک راضی نه هو تو کاشتکار کو مجبور کر سکتا هے که فصل زمین میں سے کاٹ لے اور اگر فصل کاٹ لینے سے کاشتکار کا کوئی نقصان پهنچے تو لازم نهیں که مالک اسے اس کا عوض دے لیکن اگرچه کاشتکار مالک کو کوئی چیز دینے پر راضی هو تب بھی وه مالک کو مجبور نهیں کر سکتا که وه فصل اپنی زمین پر رهنے دے۔

2240۔اگر کوئی ایسی صورت پیش آجائے که زمین میں کھیتی باڑی کرنا ممکن نه هو مثلاً زمین کا پانی بند هوجائے تو مزارعه ختم هوجاتا هے اور اگر کاشتکار بلاوجه کھیتی باڑی نه کرے تو اگر زمین اس کے تصرف میں رهی هو اور مالک کا اس میں کوئی تصرف نه رها هو تو ضروری هے که عام شرح کے حساب سے اس مدت کا کرایه مالک کو دے۔

2241۔ زمین کا مالک اور کاشتکاری ایک دوسرے کی رضامندی کے بغیر مزارعه (کا معاهده) منسوخ نهیں کرسکتے ۔ لیکن اگر مزارعه کے معاهدے کے سلسلے میں انهوں نے شرط طے کی هو که ان میں سے دونوں کو یا کسی ایک کو معامله فسخ کرنے کا حق حاصل هوگا تو جو معاهده انهوں نے کر رکھا هو اس کے مطابق معامله فسخ کرسکتے هیں۔ اسی طرح اگر ان دونوں میں سے ایک فریق طے شده شرائط کے خلاف عمل کرے تو دوسرا فریق معامله فسخ کر سکتا هے۔

2242۔ زمین کا مالک اور کاشتکار ایک دوسرے کی رضامندی کے بغیر مزارعه (کا معاهده) منسوخ نهیں کرسکتے۔ لیکن اگر مزارعه کے معاهدے کے سلسلے میں انهوں نے شرط طے کی هو که ان میں سے دونوں کو یا کسی یاک کو معامله فسخ کرنے کا حق حاصل هوگا تو جو معاهده انهوں نے کر رکھا هو اس کے مطابق معامله فسخ کر سکتے هیں۔ اسی طرح اگر ان دونوں میں سے ایک فریق طے شده شرائط کے خلاف عمل کرے تو دوسرا فریق معامله فسخ کر سکتا هے۔

ص:423

2243۔ اگر کاشت کے بعد پتا چلے که مزارعه باطل تھا تو اگر جو بیج ڈالا گیا هو وه مالک کا مال هو تو جو فصل هاتھ آئے گی وه بھی اسی کا مال هوگی اور ضروری هے که کاشتکاری کی اجرت اور جو کچھ اس نے خرچ کیا هو اور کاشتکاری کے مملو که جن بیلوں اور دوسرے جانوروں نے زمین پر کام کیا هو ان کا کرایه کاشتکار کو دے۔اور اگر بیج کاشتکار کا مال هو تو فصل بھی اسی کا مال هے اور ضروری هے که زمین کا کرایه اور جو کچھ مالک نے خرچ کیا هو اور ان بیلوں اور دوسرے جانوروں کا کرایه جو مالک کا مال هوں اور جنهوں نے اس زراعت پر کام کیا هو مالک کو دے۔ اور دونوں صورتوں میں عام طور پر جو حق بنتا هو اگر اس کی مقدار طے شده مقدار سے زیاده هو اور دوسرے فریق کو اس کا علم هو تو زیاده مقدار دینا واجب نهیں۔

2244۔اگر بیج کاشتکار کا مال هو اور کاشت کے بعد فریقین کو پتا چلے که مزارعه باطل تھا تو اگر مالک اور کاشتکار رضامند هوں که اجرت پر یا بلا اجرت فصل زمین پر کھڑی رهے تو کوئی اشکال نهیں هے اور اگر مالک راضی نه هو تو (علماء کے) ایک گروه نے کها هے که فصل پکنے سے پهلے هی وه کاشتکار کو مجبور کر سکتا هے که اسے کاٹ لے اور اگرچه کاشتکار اس بات پر تیار هو که وه مالک کو کوئی چیز دے دے تب بھی وه اسے فصل اپنی زمین میں رهنے دینے پر مجبور نهیں کرسکتا هے۔ لیکن یه قول اشکال سے خالی نهیں هے اور کسی بھی صورت میں مالک کاشتکار کو مجبور نهیں کرسکتا که وه کرایه دے کر فصل اس کی زمین میں کھڑی رهنے دے حتی که اس سے زمین کا کرایه طلب نه کرے (تب بھی فصل کھڑی رکھنے پر مجبور نهیں کر سکتا)۔

2245۔ اگر کھیت کی پیداوار جمع کرنے اور مزارعه کی میعاد ختم هونے کے بعد کھیت کی جڑیں زمین میں ره جائیں اور دوسرے سال سر سبز هو جائیں اور پیداوار دیں تو اگر مالک نے کاشتکار کے ساتھ زراعت کی جڑوں میں اشتراک کا معاهده نه کیا هو تو دوسرے سال کی پیداوار بیج کے مالک کا مال هے۔