لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
ص:337
1807۔ سونے، چانده، سیسے، تانبے، لوهے (جیسی دھاتوں کی کانیں) نیز پیڑولیم، کوئلے، فیروزے، عقیق، پھٹکری یا نمک کی کانیں اور (اسی طرح کی) دوسری کانیں انفال کے زمرے میں آتی هیں یعنی یه امام عصر علیه السلام کی ملکیت هیں۔ لیکن اگر کوئی شخص ان میں سے کوئی چیز نکالے جب که شرعا کوئی حرج نه هو تو وه اسے اپنی ملکیت قرار دے سکتا هے اور اگر وه چیز نصاب کے مطابق هو تو ضروری هے که اس کا خمس دے۔
1808۔ کان سے نکلی هوئی چیز کا نصاب 15 مثقال مروجه سکه دار سونا هے یعنی اگر کان سے نکالی هوئی کسی چیز کی قیمت 15 مثقال سکه دار سونے تک پهنچ جائے تو ضروری هے که اس پر جو اخراجات آئے هوں انهیں منها کرکے جو باقی بچے اس کا خمس دے۔
1809۔ جس شخص نےکان سے منافع کمایا هو اور جو چیز کان سے نکالی هو اگر اس کی قیمت 15 مثقال سکه دار سونے تک نه پهنچے تو اس پر خمس تب واجب هوگا جب صرف یه منافع یا اس کے دوسرے منافع اس منافع کو ملا کر اس کے سال بھر کے اخراجات سے زیاده هوجائیں۔
1810۔ جپسم، چونا، چکنی مٹی اور سرخ مٹی پر احتیاط لازم کی بنا پر معدنی چیزوں کے حکم کا اطلاق هوتا هے لهذا اگر یه چیزیں حد نصاب تک پهنچ جائیں تو سال بھر کے اخراجات نکالنے سے پهلے ان کا خمس دینا ضروری هے۔
1811۔ جو شخص کان سے کوئی چیز نکالے تو ضروری هے که اس کا خمس دے خواه وه کان زمین کے اوپر هو یا زیر زمین اور خواه ایسی زمین میں هو جو کسی کی ملکیت هو یا ایسی زمین میں هو جس کا کوئی مالک نه هو۔
1812۔ اگر کسی شخص کو یه معلوم نه هو که جو چیز اس نے کان سے نکالی هے اس کی قیمت 15 مثقال سکه دار سونے کے برابر هے یا نهیں تو احتیاط لازم یه هے که اگر ممکن هو تو وزن کرکے یا کسی اور طریقے اس کی قیمت معلوم کرے۔
1813۔اگر کئی افراد مل کر کان سے کئی چیز نکالیں اور اس کی قیمت 15 مثقال سکه دار سونے تک پهنچ جائے لیکن ان میں سے هر ایک کا حصه اس مقدار سے کم هو تو احتیاط مستحب یه هے که خمس دیں۔
1814۔ اگر کوئی شخص اس معدنی چیز کو جو زیر زمین دوسرے کی ملکیت میں هو اس کی اجازت کے بغیر اس کی زمین کھود کر نکالے تو مشهور قول یه هے که "جو چیز دوسرے کی زمین سے نکالی جائے وه اسی مالک کی هے" لیکن یه بات اشکال سے خالی
ص:338
نهیں اور بهتر یه هے که باهم معامله طے کرے اور اگر آپس میں سمجھوته نه هوسکے تو حاکم شرع کی طرف رجوع کریں تاکه وه اس تنازع کا فیصله کرے۔