لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
2132۔معامله فسخ کرنے کے حق کو "خِیَار" کهتے هیں اور خریدار اور بیچنے والا گیاره صورتوں میں معامله فسخ کر سکتے هیں :
1۔ جس مجلس میں معامله هوا هے وه برخاست نه هوئی هو اگرچه سودا هو چکا هو اسے "خِیَار مجلس" کهتے هیں۔
2۔ خرید و خروفت کے معاملے میں خریدار یابیچنے والا نیز دوسرے معاملات میں طرفین میں سے کوئی ایک مغبون هو جائے اسے "خِیارِ غبن" کهتے هیں (مغبون سے مراد وه شخص هے جس کے ساتھ فراڈ کیا گیا هو) خیار کی اس قسم کا منشا عرف عام میں شرط ارتکازی هوتا هے یعنی هر معاملے میں فریقین ذهن میں یه شرط موجود هوتی هے که جو مال حاصل کر رها هے اس کی قیمت مال سے بهت زیاده کم نهیں جو وه ادا کر رها هے اور اگر اس کی قیمت کم هو تو وه معاملے کو ختم کرنے کا حق رکھتا هے لیکن عرف خاص کی چند صورتوں میں ارتکازی شرط دوسری طرح هو مثلاً یه شرط یه که اگر جو مال لیا هو وه بلحاظ قیمت اس مال سے کم هو جو اس نے دیا هے تو دونوں (مال) کے درمیان جو کمی بیشی هوگی اس کا مطالبه کر سکتا هے اور اگر ممکن نه هوسکے تو معاملے کو ختم کر دے اور ضروری هے که اس قسم کی صورتوں میں عرف خاص کا خیال رکھا جائے۔
3۔ سودا کرتے وقت یه طے کیا جائے که مقرره مدت تک فریقین کو یاکسی ایک فریق کو سودا فسخ کرنے کا اختیار هوگا۔ اسے "خِیارِ شرط" کهتے هیں۔
4۔ فریقین میں سے ایک فریق اپنے مال کو اس کی اصلیت سے بهتر بتا کر پیش کرے جس کی وجه سے دوسر فریق اس میں دل چسپی لے یا اس کی دل چسپی اس میں بڑھ جائے اسے "خیار تدلیس"کهتے هیں۔
5۔ فریقین میں سے ایک فریق دوسرے کے ساتھ شرط کرے که وه فلاں کام انجام دے گا اور اس شرط پر عمل نه هو یا شرط کی جائے که ایک فریق دوسرے فریق کو ایک مخصوص قسم کا معین مال دے گا اور جو مال دیا جائے اس میں وه خصوصیت نه هو، اس صورت میں شرط لگانے والا فریق معاملے کو فسخ کر سکتا هے ۔ اسے "خِیارِ تَخَلُّفِ شرط" کهتے هیں۔
6۔ دی جانے والی جنس یا اس کے عوض میں کوئی عیب هو۔ اسے "خیار عیب" کهتے هیں۔
ص:399
7۔ یه پتا چلے که فریقین نے جس جنس کا سودا کیا هے اس کی کچھ مقدار کسی اور شخص کا مال هے۔ اس صورت میں اگر اس مقدار کا مالک سودے پر راضی نه هو تو خریدنے والا سودا فسخ کر سکتا هے یا اگر اتنی مقدار کی ادائیگی کر چکا هو تو اسے واپس لے سکتا هے۔ اسے "خیار شرکت" کهتے هیں۔
8۔ جس مُعَیَّن جنس کو دوسرے فریق نے نه دیکھا هو اگر اس جنس کا مالک اسے اس کی خصوصیات بتائے اور بعد میں معلوم هو که جو خصوصیات اس نے بتائی تھیں وه اس میں نهیں هیں یا دوسرے فریق نے پهلے اس جنس کو دیکھا تھا او اس کا خیال تھا که وه خصوصیات اب ابھی اس میں باقی هیں لیکن دیکھنے کے بعد معلوم هو که وه خصوصیات اب اس میں باقی نهیں هیں تو اس صورت میں دوسرا فریق معامله فسخ کر سکتا هے۔ اسے "خِیارِ رُویَت" کهتے هیں۔
9۔ خریدار نے جو جنس خریدی هو اگر اس کی قیمت تین دن تک نه دے اور بیچنے والے نے بھی وه جنس خریدار کے حوالے نه که هو تو بیچنے والا سودے کو ختم کر سکتا هے لیکن ایسا اس صورت میں هو سکتا هےجب بیچنے والے نے خریدار کو قیمت ادا کرنے کی مهلت دی هو لیکن مدت معین نه کی هو۔ اور اگر اس کو بالکل مهلت نه دی هو تو بیچنے والا قیمت کی ادائیگی میں معمولی سی تاخیر سے بھی سودا ختم کر سکتا هے ۔ اور اگر اسے تین دن سے زیاده مهلت دی هو تو مدت پوری هونے سے پهلے سودا ختم نهیں کر سکتا۔ اس سے یه معلوم هو جاتا هے که جو جنس بیچی هے اگر وه بعض ایسے پھلوں کی طرح هو جو ایک دن باقی رهنے سے ضائع هو جاتے هیں چنانچه خریدار رات تک اس کی قیمت نه دے اور یه شرط بھی نه کرے که قیمت دینے میں تاخیر کرے گا تو بیچنے والا سودا ختم کر سکتا هے۔ اسے "خیار تاخیر" کهتے هیں۔
10۔ جس شخص نے کوئی جانور خریدا هو وه تین دن تک سودا فسخ کر سکتا هے اور جو چیز اس نے بیچی هو اگر اس کے عوض میں خریدار نے جانور دیا هو تو جانور بیچنے والا بھی تین دن تک سودا فسخ کر سکتا هے۔ اسے "خیار حیوان" کهتے هیں۔
11۔ بیچنے والے نے جو چیز بیچی هو اگر اس کا قبضه نه دے سکے مثلاً جو گھوڑا اس نے بیچا هو وه بھاگ گیا هو تو اس صورت میں خریدار سودا فسخ کر سکتا هے اسے "خیار تَعَذُّر تسلیم" کهتے هیں۔
(خیارات کی) ان تمام اقسام کے (تفصیلی) احکام آئنده مسائل میں بیان کئے جائیں گے۔
2133۔ اگر خرید کو جنس کی قیمت کا علم نه هو یا وه سودا کرتے وقت غفلت برتے اور اس چیز کو عام قیمت سے مهنگا خریدے اور یه قیمت خرید بڑی حد تک مهنگی هو تو وه سودا ختم کر سکتا هے بشرطیکه سودا ختم کرتے وقت جس قدر فرق هو وه موجود
ص:400
بھی هو اور اگر فرق موجود نه هو تو اس کے بارے میں معلوم نهیں که وه سودا ختم کر سکتا هے۔ نیز اگر بیچنے والے کو جنس کی قیمت کا علم نه هو یا سودا کرتے وقت غفلت برتے اور اس جنس کو اس کی قیمت سے سستا بیچے اور بڑی حد تک سستا بیچے تو سابقه شرط کے مطابق سودا ختم کر سکتا هے۔
2134۔ مشروط خرید و فروخت میں جب که مثال کے طور پر ایک لاکھ روپے کا مکان پچاس هزار روپے میں بیچ دیا جائے اور طے کیا جائے که اگر بیچنے والا مقرره مدت تک رقم واپس کر دے تو سودا فسخ کر سکتا هے تو اگر خریدار اور بیچنے والا خرید و فروخت کی نیت رکھتے هوں تو سودا صحیح هے۔
2135۔ مشروط خریدوفرخت میں اگر بیچنے والے کو اطمینان هو که خریدار مقرره مدت میں رقم ادا نه کر سکنے کی صورت میں مال اسے واپس کر دے گا تو سودا صحیح هے لیکن اگر وه مدت ختم هونے تک رقم ادا نه کر سکے تو وه خریدار سے مال کی واپسی کا مطالبه کرنے کا حق نهیں رکھتا اور اگر خریدار مر جائے تو اس کے ورثاء سے مال کی واپسی کا مطالبه نهیں کر سکتا۔
2136۔ اگر کوئی شخص عمده چائے میں گھٹیا چائے که ملاوٹ کرکے عمده چائے کے طور پر بیچے تو خریدار سودا فتح کر سکتا هے۔
2137۔ اگر خریدار کو پتا چلے که جو مُعَیَّن مال اس نے خریدا هے وه عیب دار هے مثلاً ایک جانور خریدے اور (خریدنے کے بعد) اسے پتا چلے که اس کی ایک آنکھ نهیں هے لهذا اگر یه عیب مال میں سودے سے پهلے تھا اور اسے علم نهیں تھا تو وه سودا فسخ کر سکتا هے اور مال بیچنے والے کو واپس کر سکتا هے اور اگر واپس کرنا ممکن نه هو مثلاً اس مال میں کوئی تبدیلی هوگئی هو یا ایسا تصرف کر لیا گیا هو جو واپسی میں رکاوٹ بن رها هو تو اس صورت میں وه بے عیب اور عیب دار مال کی قیمت کے فرق کا حساب کرکے بیچنے والے سے (فرق کی) رقم واپس لے لے مثلاً اگر س نے کوئی مال چار روپے میں خریدار هو اور اسے اس کے عیب دار هونے کا علم هو جائے تو اگر ایسا هی بے عیب مال (بازار میں) آٹھ روپے کا اور عیب دار چھ روپے کا هو تو چونکه بے عیب اور عیب دار کی قیمت کا فرق ایک چوتھائی هے اس لئے اس نے جتنی رقم دی هے اس کا ایک چوتھائی یعنی ایک روپیه بیچنے والے سے واپس لے سکتا هے۔
2138۔ اگر بیچنے والے کو پتا چلے که اس نے جس معین عوض کے بدلے اپنا مال بیچا هے اس میں عیب هے تو اگر وه عیب اس عوض میں سودے سے پهلے موجود تھا اور اسے علم نه هوا هو تو وه سودا فسخ کر سکتا هے اور وه عوض اس کے مالک کو واپس
ص:401
کر سکتا هے لیکن اگر تبدیلی یا تصرف کی وجه سے واپس نه کر سکے تو بے عیب اور عیب دار کی قیمت کا فرق اس قاعدے کے مطابق لے سکتا هے جس کا ذکر سابقه مسئلے میں کیا گیا هے۔
2139۔ اگر سودا کرنے کے بعد اور قبضه دینے سے پهلے مال میں کوئی عیب پیدا هو جائے تو خریدار سودا فسخ کرسکتا هے نیز جو چیز مال کے عوض دی جائے اگر اس میں سودا کرنے کے بعد اور قبضه دینے سے پهلے کوئی عیب پیدا هو جائے تو بیچنے والا سودا فسخ کر سکتا هے اور اگر فریقین قیمت کا فرق لینا چاهیں تو سودا طے نه هونے کی صورت میں چیز کو لوٹانا جائز هے۔
2140۔ اگر کسی شخص کو مال کے عیب کا علم سودا کرنے کے بعد هو تو اگر وه (سودا ختم کرنا) چاهے تو ضروری هے که فوراً سودے کو ختم کردے اور ۔ اختلاف کی صورتوں کو پیش نظر رکھتے هوئے ۔ اگر معمول سے زیاده تاخیر کرے تو وه سودے کو ختم نهیں کر سکتا۔
2141۔ جب کسی شخص کو کوئی جنس خریدنے کے بعد اس کے عیب کا پتا چلے تو خواه بیچنے والا اس پر تیار نه بھی هو خریدار سودا فسخ کر سکتا هے اور دوسرے خیارات کے لئے بھی یهی حکم هے۔
2142۔ چار صورتوں میں خریدار مال میں عیب هونے کی بنا پر سودا فسخ نهیں کر سکتا اور نه هی قیمت کا فرق لے سکتا هے۔
1۔ خریدتے وقت مال کے عیب سے واقف هو۔
2۔ مال کے عیب کو قبول کرے۔
3۔ سودا کرتے وقت کهے : "اگر مال میں عیب هو تب بھی واپس نهیں کروں گا اور قیمت کا فرق بھی نهیں لوں گا"۔
4۔ سودے کے وقت بیچنے والا کهے" میں اس مال کو جو عیب بھی اس میں هے اس کے ساتھ بیچتا هوں"لیکن اگر وه ایک عیب کا تعین کر دے اور کهے"میں اس مال کو فلاں عیب کے ساتھ بیچ رها هوں" اور بعد میں معلوم هو که مال میں کوئی دوسرا عیب بھی هے تو جو عیب بیچنے والے نے معین نه کیا هو اس کی بنا پر خریدار وه مال واپس کرسکتا هے اور اگر واپس نه کرسکے تو قیمت کا فرق لے سکتا هے۔
ص:402
2143۔ اگر خریدار کو معلوم هو که مال میں ایک عیب هے اور اسے وصول کرنے کے بعد اس میں کوئی اور عیب نکل آئے تو وه سودا فسخ نهیں کرسکتا لیکن بے عیب اور عیب دار مال کا فرق لے سکتا هے لیکن اگر وه عیب دار حیوان خریدے اور خیار کی مدت جو که تین دن هے گزرنے سے پهلے اس حیوان میں کسی اور عیب کا پتا چل جائے تو گو خریدار نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا هو پھر بھی وه اسے واپس کر سکتا هے۔ نیز اگر فقط خریدار کو کچھ مدت تک سودا فسخ کرنے کا حق حاصل هو اور اس مدت کے دوران مال میں کوئی دوسرا عیب نکل آئے تو اگرچه خریدار نے وه مال اپنی تحویل میں لے لیا هو وه سودا فسخ کر سکتا هے۔
2144۔ اگر کسی شخص کے پاس ایسا مال هو جسے اس نے بچشم خود نه دیکھا هو اور کسی دوسرے شخص نے مال کی خصوصیات اسے بتائی هوں اور وهی خصوصیات خریدار کو بتائے اور وه مال اس کے هاتھ بیچ دے اور بعد میں اسے (یعنی مالک کو) پتا چلے که وه مال اس سے بهتر خصوصیات کا حامل هے تو وه سودا فسخ کر سکتا هے۔