لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
ص:395
2118۔ معامله سلف (پیشگی سودا) سے مراد یه هے که کوئی شخص نقد رقم لے کر پورا مال جو وه مقرره مدت کے بعد تحویل میں دے گا، بیچ دے لهذا اگر خریدار کهے که میں یه رقم دے رها هوں تاکه مثلاً چھ مهینے بعد فلاں چیز لے لوں اور بیچنے والا کهے که میں نے قبول کیا یا بیچنے والا رقم لے لے اور کهے که میں نے فلاں چیز بیچی اور اس کا قبضه چھ مهینے بعد دوں گا تو سودا صحیح هے۔
2119۔ اگر کوئی شخص سونے یا چاندی کے سکے بطور سلف بیچے اور س کے عوض چاندی یا سونے کے سکے لے تو سودا باطل هے لیکن اگر کوئی ایسی چیز یا سکے جو سنے یا چاندی کے نه هوں بیچے اور ان کے عوض کوئی دوسری چیز یا سونے یا چاندی کےسکے لے تو سودا اس تفصیل کے مطابق صحیح هے جو آئنده مسئلے کی ساتویں شرط میں بتائی جائے گی اور احتیاط مستحب یه هے که جو مال بیچے اس کے عوض رقم لے،کوئی دوسرا مال نه لے۔
2120۔معامله سلف میں ساتھ شرطیں هیں :
1۔ ان خصوصیات کو جن کی وجه سے کسی چیز کی قیمت میں فرق پڑتا هو مُعَیّن کر دیا جائے لیکن زیاده تفصیلات میں جانے کی ضرورت نهیں بلکه اسی قدر کافی هے که لوگ کهیں که اس کی خصوصیات معلوم هوگئی هیں۔
2۔ اس سے پهلے که خریدار اور بیچنے والا ایک دوسرے سے جدا هو جائیں خریدار پوری قیمت بیچنے والے کو دے یا اگر بیچنےوالا خریدار کا اتنی هی رقم کا مقروض هو اور خریدار کو اس سے جو کچھ لینا هو اسے مال کی قیمت کی کچھ مقدار بیچنے والے کو دے دے تو اگرچه اس مقدار کی نسبت سے سودا صحیح هے لیکن بیچنے والا سودا فتح کرسکتا هے۔
3۔ مدت کو ٹھیک ٹھیک مُعَیّن کیا جائے۔ مثلاً اگر بیچنے والا کهے که فصل کا قبضه کٹائی پر دوں گا تو چونکه اس سے مدت کا ٹھیک ٹھیک تعین نهیں هوتا اس لئے سودا باطل هے۔
4۔ جنس کا قبضه دینے کے لئے ایسا وقت مُعَیّن کیا جائے جس میں بیچنے والا جنس کا قبضه دے سکے خواه وه جنس کمیاب هو یا نه هو۔
5۔ جنس کا قبضه دینے کی جگه کا تعین احتیاط کی بنا پر مکمل طور پر کیا جائے۔ لیکن اگر طرفین کی باتوں سے جگه کا پتا چل جائے تو اس کا نام لینا ضروری نهیں ۔
ص:396
6۔ اس جنس کا تول یا ناپ معین کیاجائے اور جس چیز کا سودا عموماً دیکھ کر کیا جاتا هے اگر اسے بطور سلف بیچا جائے تو اس میں کوئی حرج نهیں هے لیکن مثال کے طور پر اخروٹ اور انڈوں کی بعض قسموں میں تعداد کا فرق ضروری هے که اتنا هو که لوگ اسے اهمیت نه دیں۔
7۔ جس چیز کو بطور سلف بیچا جائے اگر وه ایسی هوں جنهیں تول کر یا ناپ کر بیچا جاتا هے تو اس کا عوض اسی جنس سے نه هو بلکه احتیاط لازم کی بنا پر دوسری جنس میں سے بھی ایسی چیز نه هو جسے تول کر یا ناپ کر بیچا جاتا هے اور اگر وه چیز جسے بیچا جا رها هے ان چیزوں میں سے هو جنهیں گن کر بیچا جاتا هو تو احتیاط کی بنا پر جائز نهیں هے که اس کا عوض خود اسی کی جنس سے زیاده مقدار میں مقرر کرے۔