لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

مستحب نمازیں

772۔ مستحب نمازیں بهت سی هیں جنهیں نفل کهتے هیں، اور مستحب نمازوں میں سے روانه کے نفلوں کی بهت زیاده تاکید کی گئی هے۔ یه نمازیں روز جمعه کے علاوه چونتیس رکعت هیں جن میں سے آٹھ رکعت ظهر کی، آٹھ رکعت عصر کی، چار رکعت مغرب کی، دو رکعت عشا کی، گیاره رکعت نماز شب (یعنی تهجد) کی اور دو رکعت صبح کی هوتی هیں اور چونکه احتیاط واجب کی بنا پر عشا کی دو رکعت نفل بیٹھ کر پڑھنی ضروری هیں اس لئے وه ایک رکعت شمار هوتی هے۔ لیکن جمعه کے دن ظهر اور عصر کی سوله رکعت نفل پر چار رکعت کا اضافه هو جاتا هے۔ اور بهتر هے که یه پوری کی پوری بیس رکعتیں زوال سے پهلے پڑھی جائیں۔

773۔ نماز شب کی گیاره رکعتوں میں سے آتھ رکعتیں نافله شب کی نیت سے اور دو رکعت نماز شفع کی نیت سے اور ایک رکعت نماز وتر کی نیت سے پڑھنی ضروری هیں اور نافله شب کا مکمل طریقه دعا کی کتابوں میں مذکور هے۔

774۔ نفل نمازیں بیٹھ کر بھی پڑھی جاسکتی هیں لیکن بعض فقها کهتے هیں که اس صورت میں بهتر هے که بیٹھ کر پڑھی جانے والی نفل نماز کی دو رکعتوں کو ایک رکعت شمار کیا جائے مثلاً جو شخص ظهر کی نفلیں جس کی آٹھ رکعتیں هیں بیٹھ کر پڑھنا چاهے تو اس کے لئے بهتر هے که سوله رکعتیں پڑھے اور اگر چاهے که نماز وتر بیٹھ کر پڑھے تو ایک ایک رکعت کی دو نمازیں پڑھے۔ تاهم اس کام کا بهتر هونا معلوم نهیں هے۔ لیکن رجا کی نیت سے انجام دے تو کوئی اشکال نهیں هے۔

775۔ ظهر اور عصر کی نفلی نمازیں سفر میں نهیں پڑھنی چاهئیں اور اگر عشا کی نفلیں رجا کی نیت سے پڑھی جائے تو کوئی حرج نهیں هے۔