لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

اشاره

539۔ جو مسلمان محتضر ہو یعنی جاں کنی کی حالت میں ہو خواہ مرد ہو یا عورت، بڑا ہو یا چھوٹا، اسے احتیاط کی بنا پر بصورت امکان پشت کے بل یوں لٹانا چاہئے کہ اس کے پاوں کے تلوے قبلہ رخ ہوں۔

540۔ اولی یہ ہے کہ جب تک میت کا غسل مکمل نہ ہو اسے بھی روبقبلہ لٹائیں لیکن جب اس کا غسل مکمل ہو جائے تو بہتر یہ ہے کہ اسے اس حالت میں لٹائیں جس طرح اس نماز جنازہ پڑھتے وقت لٹاتے ہیں۔

541۔ جو شخص جاں کنی کی حالت میں ہو اسے احتیاط کی بنا پر رو بقبلہ لٹانا ہر مسلمان پر واجب ہے۔ لہذا وہ شخص جو جاں کنی کی حالت میں ہے راضی ہو اور قاصر بھی نہ ہو (یعنی بالغ اور عاقل ہو) تو اس کام کے لئے اس کے ولی کی اجازت لینا ضروری نہیں ہے۔ اس کے علاوہ کسی دوسری صورت میں اس کے ولی سے اجازت لینا احتیاط کی بنا پر ضروری ہے۔

542۔ مستحب ہے کہ جو شخص جاں کنی کی حالت میں ہو اس کے سامنے شَہَادتَین، بارہ اماموں کے نام اور دوسرے دینی عقائد اس طرح دہرائے جائیں کہ وہ سمجھ لے۔ اور اسکی موت کے وقت تک ان چیزوں کی تکرار کرنا بھی مستحب ہے۔

543۔ مستحب ہے کہ جو شخص جاں کنی کی حالت میں ہو اسے مندرجہ ذیل دعا اس طرح سنائی جائے کہ سمجھ لے:

"اَللّٰھُمَّ اغفِرلِیَ مِن مَّعاصِیکَ وَاقبَل مِنّی الیَسِیرَ مِن طَاعَتِک یَامَن یَّقبَلُ الیَسِیرَ وَ یَعفُو عَنِ الکَثِیرِ اقبَل مِنّی الیَسِیرَ وَاعفُ عَنّی الکَثِیرَ اِنَّکَ اَنتَ العَفُوُّ الغَفُورُ ارحَمنِی فَاِنَّکَ رَحِیم"

ص:114

544۔ کسی کی جان سختی سے نکل رہی ہو تو اگر اسے تکلیف نہ ہو تو اسے اس جگہ لے جانا جہاں وہ نماز پڑھا کرتا تھا مُستحب ہے۔

545۔ جو شخص جاں کنی کے عالم میں ہو اس کی آسانی کے لئے (یعنی اس مقصد سے کہ اس کی جان آسانی سے نکل جائے) اس کے سرہانے سورہ یَسین، سُورہ صَافّات، سورہ اَحزاب، آیتُ الکُرسی اور سُورہ اعراف کی 54 ویں آیت اور سورۃ بَقَرہ کی آخری تین آیات پڑھنا مُستحب ہے بلکہ قرآن مجید جتنا بھی پڑھا جاسکے پڑھا جائے۔

546۔ جو شخص جاں کنی کے عالم میں ہو اسے تنہا چھوڑنا اور کوئی بھاری چیز اس کے پیٹ پر رکھنا اور جُنُب اور حائض کا اس کے قریب ہونا اسی طرح کے پاس زیادہ باتیں کرنا، رونا اور صرف عورتوں کو چھوڑنا مکروہ ہے۔