لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

قیام یعنی کھڑا هونا

968۔ تکبیرۃ الاحرام کهنے سے پهلے اور اسکے بعد تھوڑی دیر کے لئے کھڑا هونا واجب هے تاکه یقین هو جائے که تکبیر قیام کی حالت میں کهی گئی هے۔

969۔ اگر کوئی شخص رکوع کرنا بھول جائے الحمد اور سوره کے بعد بیٹھ جائے اور پھر اسے یاد آئے که رکوع نهیں کیا تو ضروری هے که کھڑا هو جائے اور رکوع میں جائے۔ لیکن اگر سیدھا کھڑا هوئے بغیر جھکے هونے کی حالت میں رکوع کرے تو چونکه وه قیام متصل برکوع بجا نهیں لایا اس لئے اس کا یه رکوع کفایت نهیں کرتا۔

970۔ جس وقت ایک شخص تکبیرۃ الاحرام یا قراءت کے لئے کھڑا هو ضروری هے که بدن کو حرکت نه دے اور کسی طرف نه جھکے اور احتیاط لازم کی بنا پر اختیار کی حالت میں کسی جگه ٹیک نه لگائے لیکن اگر ایسا کرنا به امر مجبوری هو تو کوئی اشکال نهیں۔

971۔ اگر قیام کی حالت میں کوئی شخص بھولے سے بدن کو حرکت دے یا کسی طرف جھک جائے یا کسی جگه ٹیک لگالے تو کوئی اشکال نهیں هے۔

972۔ احتیاط واجب یه هے که قیام کے وقت انسان کے دونوں پاوں زمین پر هوں لیکن یه ضروری نهیں که بدن کا بوجھ دونوں پاوں پر هو چنانچه اگر ایک پاوں پر بھی هو تو کوئی اشکال نهیں۔

ص:196

973۔ جو شخص ٹھیک طور پر کھڑا هو سکتا هو اگر وه اپنے پاوں ایک دوسرے سے اتنے جدا رکھے که اس پر کھڑا هونا صادق نه آتا هو تو اس کی نماز باطل هے۔ اور اسی طرح اگر معمول کے خلاف پیروں کو کھڑا هونے کی حالت میں بهت کھلا رکھے تو احتیاط کی بنا پر یهی حکم هے۔

974۔جب انسان نماز میں کوئی واجب ذکر پڑھنے میں مشغول هو تو ضروری هے که اس کا بدن ساکن هو اور جب مستحب ذکر میں مشغول هو تب بھی احتیاط لازم کی بنا پر یهی حکم هے اور جس وقت وه قدرے آگے یا پیچھے هونا چاهے یا بدن کو دائیں یا بائیں جانب تھوڑی سی حرکت دینا چاهے تو ضروری هے که اس وقت کچھ نه پڑھے۔

975۔اگر متحرک بدن کی حالت میں کوئی شخص مستحب ذکر پڑھے مثلاً رکوع سجدے میں جانے کے وقت تکبیر کهے اور اس ذکر کے قصدے سے کهے جس کا نماز میں حکم دیا گیا هےتو وه ذکر صحیح نهیں لیکن اس کی نماز صحیح هے۔ اور ضروری هے که انسان اللّٰهِ وَقُوَّتِه وَاَقعدُ اس وقت کهے جب کھڑا هو رها هو۔

976۔ هاتھوں اور انگلیوں کو الحمد پڑھتے وقت حرکت دینے میں کوئی حرج نهیں اگرچه احتیاط مستحب یه هے که انهیں بھی حرکت نه دی جائے۔

977۔ اگر کوئی شخص الحمد اور سوره پڑھتے وقت یا تسبیحات پڑھتے وقت بے اختیار اتنی حرکت کرے که بدن کے ساکن هونے کی حالت سے خارج هو جائے تو احتیاط مستحب یه هے که بدن کے دوباره ساکن هونے جو کچھ اس نے حرکت کی حالت میں پڑھا تھا، دوباره پڑھے۔

978۔ نماز کے دوران اگر کوئی شخص کھڑے هونے کے قابل نه هو تو ضروری هے که بیٹھ جائے اور اگر بیٹھ بھی نه سکتا هو تو ضروری هے که لیٹ جائے لیکن جب تک اس کے بدن کو سکون حاصل نه هو ضروری هے که کوئی واجب ذکر نه پڑھے۔

979۔ جب تک انسان کھڑے هو کر نماز پڑھ سکتا هو ضروری هے که نه بیٹھے مثلاً اگر کھڑا هونے کی حالت میں کسی کا بدن حرکت کرتا هو یا وه کسی چیز پر ٹیک لگانے پر یا بدن کو تھوڑا سا ٹیرھا کرنے پر مجبور هو تو ضروری هے که جیسے بھی هوسکے کھڑا هو کر نماز پڑھے لیکن اگر وه کسی طرح بھی کھڑا نه هوسکتا هو تو ضروری هے که سیدھا بیٹھ جائے اور بیٹھ کر نماز پڑھے۔

980۔ جب تک انسان بیٹھ سکے ضروری هے که وه لیٹ کر نماز پڑھے اور اگر وه سیدھا هو کر نه بیٹھ سکے تو ضروری هے که جیسے بھی ممکن هو بیٹھے اور اگر بالکل نه بیٹھ سکے تو جیسا که قبلے کے احکام میں کها گیا هے ضروری هے که دائیں پهلو لیٹے اور دائیں پهلو پر نه لیٹ سکتا هو تو بائیں پهلو پر لیٹے۔ اور احتیاط لازم کی بنا پر ضروری که جب تک دائیں پهلو پر لیٹ سکتا هو بائیں پهلو پر نه لیٹے اور اگر دونوں طرف لیٹنا ممکن نه هو تو پشت کے بل اس طرح لیٹے که اس کے تلوے قبلے کی طرف هوں۔

ص:197

981۔ جو شخص بیٹھ کر نماز پرھ رها هو اگر وه الحمد اور سوره پڑھنے کے بعد کھڑا هوسکے اور رکوع کھڑا هو کر بجا لا سکے تو ضروری هے که کھڑا هو جائے اور قیام کی حالت سے رکوع میں جائے اور اگر ایسا نه کر سکے تو ضروری هے که رکوع بھی بیٹھ کر بجالائے۔

982۔ جو شخص کرنماز پڑھ رها هو اگر وه نماز کے دوران اس قابل هو جائے که بیٹھ سکے تو ضروری هے که نماز کی جتنی مقدار ممکن هو بیٹھ کر پڑھے اور اگر کھڑا هوسکے تو ضروری هے که جتنی مقدار ممکن هو کھڑا هو کر پڑھے لیک جب تک اس کے بدن کو سکون حاصل نه هوجائے ضروری هے که کوئی واجب ذکر نه پڑھے۔

983۔ جو شخص بیٹھ کر نماز پڑھ رها هو اگر نماز کے دوران اس قابل هو جائے که کھڑا هوسکے تو ضروری هے که نماز کی جتنی مقدار ممکن هو کھڑا هو پڑھے لیکن جب تک اس کے بدن کو سکون حاصل نه هو جائے ضروری هے که کوئی واجب ذکر نه پڑھے۔

984۔ اگر کسی ایسے شخص کو جو کھڑا هو سکتا هو یه خوف هو که کھڑا هونے بیمار هو جائے گا یا اسے کوئی تکلیف هوگی تو وه بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا هے اور اگر بیٹھنے سے بھی تکلیف کاڈر هو تو لیٹ کر نماز پڑھ سکتا هے۔

985۔اگر کسی شخص کو اس بات کی امید هو که آخر وقت میں کھڑا هو کر نماز پڑھ سکے گا اور وه اول وقت میں نماز پڑھ لے اور آخر وقت میں کھڑا هونے پر قادر هو جائے تو ضروری هے که وه دوباره نماز پڑھے لیکن اگر کھڑا هو کر نماز پڑھنے سے مایوس هو اور اول وقت میں نماز پڑھ لے بعد ازاں وه کھڑے هونے کے قابل هو جائے تو ضروری نهیں که دوباره نماز پڑھے۔

986۔ (انسان کے لئے) مستحب هے که قیام کی حالت میں جسم سیدھا رکھے اور کندھوں کو نیچے کی طرف ڈھیلا چھوڑ دے نیز هاتھوں کو رانوں پر رکھے اور انگلیوں کو باهم ملا کر رکھے اور نگاه سجده کی جگه پر مرکوز رکھے اور بدن کو بوجھ دونوں پاوں پر یکساں ڈالے اور خشوع اور خضوع کے ساتھ کھڑا هو اور پاوں آگے پیچھے نه رکھے اور اگر مرد تو پاوں کے درمیان تین پھیلی هوئی انگلیوں سے لے کر ایک بالشت تک کا فاصله رکھے اور اگر عورت هو تو دونوں پاوں ملا کر رکھے۔