لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

عین نجاست کا دور ہونا

222۔ اگر کسی حیوان کا بدن عین نجاست مثلاً خون یا نجس شدہ چیز مثلاً نجس پانی سے آلودہ ہو جائے تو جب وہ نجاست دور ہو جائے حیوان کا بدن پاک ہو جاتا ہے اور یہی صورت انسانی بدن کے اندرونی حصوں مثال کے طور پر منہ یا ناک اور کان کے اندر والے حصوں کی ہے کہ وہ باہر سے نجاست لگنے سے نجس ہو جائیں گے اور جب نجاست دور ہو جائے تو پاک ہو جائیں گے لیکن نجاست داخلی مثلاً دانتوں کے ریخوں سے خون نکلنے سے بدن کا اندرونی حصہ نجس نہیں ہوتا اور یہی حکم ہے جب کسی خارجی چیز کو بدن کے اندرونی حصہ میں نجاست داخلی لگ جائے تو وہ چیز نجس نہیں ہوتی۔ اس بنا پر

ص:53

اگر مصنوعی دانت منہ کے اندر دوسرے دانتوں کے ریخوں سے نکلے ہوئے خون سے آلودہ ہو جائیں تو ان دانتوں کو دھونا لازم نہیں ہے۔ لیکن اگر ان مصنوعی دانتوں کو نجس غذا لگ جائے تو ان کو دھونا لازم ہے۔

223۔ اگر دانتوں کی ریخوں میں غذا لگی رہ جائے اور پھر منہ کے اندر خون نکل آئے تو وہ غذا خون ملنے سے نجس نہیں ہوگی۔

224۔ ہونٹوں اور آنکھ کی پلکوں کے وہ حصے جو بند کرتے وقت ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں وہ اندرونی حصے کا حکم رکھتے ہیں۔ اگر اس اندرونی حصے میں خارج سے کوئی نجاست لگ جائے تو اس اندرونی حصے کو دھونا ضروری نہیں ہے لیکن وہ مقامات جن کے بارے میں انسان کو یہ علم نہ ہو کہ آیا انھیں اندرونی حصے سمجھا جائے یا بیرونی اگر خارج سے نجاست ان مقامات پر لگ جائے تو انہیں دھونا چاہئے ۔

225۔ اگر نجس مٹی کپڑے یا خشک قالین، دری یا ایسی ہی کسی اور چیز کولگ جائے اور کپڑے وغیرہ کو یوں جھاڑا جائے کہ نجس مٹی اس سے الگ ہو جائے تو اس کے بعد اگر کوئی تر چیز کپڑے وغیرہ کو چھو جائے تو وہ نجس نہیں ہوگی۔