لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

عید فطر اور عید قربان کی نماز

1525۔ امام عصر علیه السلام کے زمانه حضور میں عید فطر و عید قربان کی نمازیں واجب هیں اور ان کا جماعت کے ساتھ پڑھنا ضروری هے لیکن همارے زمانے میں جب که امام عصر علیه السلام عَیبَت کبری میں هیں یه نمازیں مستحب هیں اور باجماعت یا فرادی دونوں طرح پڑھی جاسکتی هیں۔

1526۔ نماز عید فطر و قربان کا وقت عید کے دن طلوع آفتاب سے ظهر تک هے۔

1527۔ عید قربان کی نماز سورج چڑھ آنے کے بعد پڑھنا مستحب هے اور عید فطر میں مستحب هے که سورج چڑھ آنے کے بعد افطار کیا جائے، فطره دیا جائے اور بعد میں دو گانه عید ادا کیا جائے۔

1528۔ عید فطر و قربان کی نماز دو رکعت هے جس کی پهلی رکعت میں الحمد اور سوره پڑھنے کے بعد بهتر یه هے که پانچ تکبیریں کهے اور هر دو تکبیر کے درمیان ایک قنوت پڑھے اور پانچویں تکبیر کے بعد ایک اور تکبیر کهے اور رکوع میں چلاجائے اور پھر دو سجدے بجالائے اور اٹھ کھڑا هو اور دوسری رکعت چار تکبیریں کهے اور هر دو تکبیر کے درمیان قنوت پڑھے اور چوتھی تکبیر کے بعد ایک اور تکبیر کهه کر رکوع میں چلاجائے اور رکوع کے بعد دو سجدے کرے اور تشهد پڑھے اور چوتھی تکبیر کے بعد ایک اور تکبیر کهه کر رکوع میں چلا جائے اور رکوع کے بعد دو سجدے کرے اور تشهد پڑھے اور سلام کهه کرنماز کو تمام کر دے۔

1529۔ عید فطر و قربان کی نماز کے قنوت میں جو دعا اور ذکر کر بھی پڑھی جائے۔

"اَللّٰھُمَّ اَھلَ الِکبرِیَآءِ وَالعَظَمَۃِ وَ اَھلَ الجُودِ وَالجَبَرُوتِ وَ اَھلَ العَفوِ وَالرَّحمَهِ وَ اَھلَ التَّقوٰی وَ المَغِفَرۃِ اَسئَلُکَ بِحَقِّ ھٰذَا الیَومِ الَّذِی جَعَلتَه لِلمُسلِمِینَ عِیداً وَّلِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللهُ عَلَیهِ وَاٰلِه ذُخرًا وَّ شَرَفاً وَّ کَرَامَۃً وَّ مَزِیدًا اَن تُصَلِّیَ عَلٰی مُحَمَّدٍوَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّ اَن تُدخِلنِی فِی کُلِّ خَیرٍ

ص:291

اَدخَلتَ فِیهِ مُحَمَّدًا وَّ اٰلَ مُحَمَّدٍ وَّ اَن تُخرِجَنیِ مِن کُلِّ سُوٓءٍ اَخرَجتَ مِنهُ مُحَمَّدًا وَّ اٰلَ مُحَمَّدٍ صَلَوَاتُکَ عَلَیهِ وَ عَلَیھِم اَللّٰھُمَّ اِنِّیٓ اَساَلُکَ خَیرَ مَا سَئَلکَ بِه عِبَادَکَ الصَّالِحُونَ وَاَعُوذُبِکَ مِمَّا استَعَاذَ مِنهُ عِبَادُکَ المُخلِصُونَ"۔

1530۔ امام عصر علیه السلام کے زمانه غیبت میں اگر نماز عید فطر و قربان جماعت سے پڑھی جائے تو احتیاط لازم یه هے که اس کے بعد دو خطبے پڑھے جائیں اور بهتر یه هے که عید فطر کے خطبے میں فطرے کے احکام بیان هوں اور عید قربان کے خطبے میں قربانی کے احکام بیان کئے جائیں۔

1531۔ عید کی نماز کے لئے کوئی سوره مخصوص نهیں هے لیکن بهتر هے که پهلی رکعت میں (الحمد کے بع) سوره شمس (91 واں سوره) پڑھا جائے اور دوسری رکعت میں (الحمد کے بعد) سوره غاشیه (88 واں سوره) پڑھا جائے یا پهلی رکعت میں سوره اعلی (87 واں سوره) اور دوسری رکعت میں سوره شمس پڑھا جائے۔

1532۔ نماز عید کھلے میدان میں پڑھنا مستحب هے مکه مکرمه میں مستحب هے که مسجد الحرام میں پڑھی جائے۔

1533۔مستحب هے که نماز عید کے لئے پیدل اور پا برهنه اور باوقار طور پر جائیں اور نماز سے پهلے غسل کریں اور سفید عمامه سر پر باندھیں۔

1534۔ مستحب هے که نماز عید میں زمین پر سجده کیا جائے اور تکبیریں کهتے وقت هاتھوں کو بلند کیا جائے اور جو شخص نماز عید پڑھ رها هو خواه وه امام جماعت هو یافرادی نماز پڑھ رها هو نماز بلند آواز سے پڑھے۔

1535۔ مستحب هے که عید فطر کی رات کی مغرب و عشا نماز کے بعد اور عید فطر کے دن نماز صبح کے بعد اور نماز عید فطر کے بعد یه تکبیریں کهی جائیں۔

" اَللهُ اَکبَرُ۔ اَللهُ اَکبَرُ، لآَ اِلٰهَ اِلاَّ اللهُ وَاللهُ اَکبَرُ، اَللهُ اَکبَرُ وَلِلّٰهِ الَحمدُ، اَللهُ اَکبرُ عَلٰی مَاھَدَانَا"۔

1536۔ عید قربان میں دس نمازوں کے بعد جن میں سے پهلی نماز عید کے دن کی نماز ظهر هے اور آخری بارهویں تاریخ کی نماز صبح هے ان تکبیرات کا پڑھنا مستحب هےجن کا ذکر سابقه مسئله میں هوچکا هے اور ان کے بعد۔ اَللهُ اَکبَرُ عَلٰی مَاَرَزَقَنَا مِن بَهِیمَۃِ الاَنعَامِ وَالحَمدُ لِلّٰهِ عَلیٰ مَآ اَبلاَنَا" پڑھنا بھی مستحب هے لیکن اگر عید قربان کے موقع پر انسان منی میں هو تو مستحب هے که یه تکبیریں پندره نمازوں کے بعد پڑھے جن میں سے پهلی نماز عید کے دن نماز ظهر هے اور آخری تیرهویں ذی الحجه کی نماز صبح هے۔

ص:292

1537۔ نماز عید میں بھی دوسری نمازوں کی طرح مقتدی کو چاهئے که الحمد اور سوره کے علاوه نماز کے اذکار خود پڑھے۔

1539۔ اگر مقتدی اس وقت پهنچے جب امام نماز کی کچھ تکبیریں کهه چکا هو تو امام کے رکوع میں جانے کے بعد ضروری هے جتنی تکبیریں اور قنوت اس نے امام کے ساتھ نهیں پڑھی انهیں پڑھے اور اگر هر قنوت میں ایک دفعه "سُبحاَنَ الله" یا ایک دفعه "اَلحَمدُلِلّٰه" کهه دے تو کافی هے۔

1540۔ اگر کوئی شخص نماز عید میں اس وقت پهنچے جب امام رکوع میں هو تو وه نیت کرکے اور نماز کی پهلی تکبیر کهه کر رکوع میں جاسکتا هے۔

1541۔ اگر کوئی شخص نماز عید میں ایک سجده بھول جائے تو ضروری هے که نماز کے بعد اسے بجا لائے۔ اور اسی طرح اگر کوئی ایسا فعل نماز عید میں سر زد هو جس کے لئے یومیه نماز میں سجده سهو لازم هے تو نماز عید پڑھنے والے کے لئے ضروری هے که دو سجده سهو بجالائے۔