لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

طلاق خلع

2537۔ اس عورت کی طلاق کو جو اپنے شوهر کی طرف مائل نه هو اور اس سے نفرت کرتی هو اپنا مهر یا کوئی اور مال اسے بخش دے تاکه وه اسے طلاق دے دے طلاق خلع کهتے هیں۔ اور طلاق خلع میں اظهر کی بنا پر معتبر هے که عورت اپنے شوهر سے اس قدر شدید نفرت کرتی هو که اسے وظیفه زوجیت ادا نه کرنے کی دھکمی دے۔

2538۔ جب شوهر خود طلاق خلع کا صیغه پڑھنا چاهے تو اگر اس کی بیوی کا نام مثلاً فاطمه هو تو عوض لینے کے بعد کهے :" زَوجَتِی فَاطِمَۃُ کَالَعتُھَا عَلٰی مَا بَذَلَت" اور احتیاط مستحب کی بنا پر "ھِیَ طَالِقٌ" بھی کهے یعنی میں نے اپنی بیوی فاطمه کو اس مال کے عوض جو اس نے مجھے دیا هے طلاق خلع دے رها هوں اور وه آزاد هے ۔ اور اگر عورت معین هو تو طلاق خلع میں اور نیز طلاق مبارات میں اس کا نام لینا لازم نهیں ۔

2539۔ اگر کوئی عورت کسی شخص کو وکیل مقرر کرے تاکه وه اس کا مهر اس کے شوهر کو بخش دے اور شوهر بھی اسی شخص کو وکیل مقرر کرے تاکه وه اس کی بیوی کو طلاق دے دے تو اگر مثال کے طور پر شوهر کا نام محمد اور بیوی کا نام فاطمه هو تو وکیل صیغه طلاق یوں پڑھے "عن مَوَکِّلَتِی فَاطِمَۃَ بَذَلتُ مَهرَھَا لِمُوَکِّلِی مُحَمَّدٍ لِیَخلَعَھَا عَلَیهِ" اور اس کے بعد بلافاصله کهے "زَوجۃُ مَوَکِّلِی خَالَعتُھا عَلٰی مَابَذَلَت ھِیَ طَالِقٌ۔ اور اگر عورت کسی کو وکیل مقرر کرے که اس کے شوهر کو مهر کے علاوه کوئی اور چیز بخش دے تاکه اس کا شوهر اسے طلاق دے دے تو ضروری هے که وکیل لفظ "مَهرَھَا" کی بجائے اس چیز کا نام لے مثلاً اگر عورت نے سو روپے دیئے هوں تو ضروری هے که کهے: بَذّلَت مِاَۃَ رُوبِیَۃ۔"