لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
1208۔اگر کسی کو نو صورتوں میں چار رکعتی نماز کی رکعتوں کی تعداد کے بارے میں شک هو تو اسے چاهئے که فوراً غور و فکر کرے اور اگر یقین یا گمان شک کی کسی ایک طرف هو جائے تو اسی کی اختیار کرے اور نماز کو تمام کرے ورنه ان احکام کے مطابق عمل کرے جو ذیل میں بتائے جارهے هیں۔
ص:239
وه نو صورتیں یه هیں:
1۔ دوسرے سجدے کے دوران شک کرے که دو رکعتیں پڑھی هیں یا تین ۔ اس صورت میں اسے یوں سمجھ لینا چاهئے که تین رکعتیں پڑھی هیں اور ایک اور رکعت پڑھے پھر نماز کو تمام کرے اور احتیاط واجب کی بنا پر نماز کے بعد ایک رکعت نماز احتیاط کھڑے هو کر بجالائے۔
2۔ دوسرے سجدے کے دوران اگر شک کرے که دو رکعتیں پڑھی هیں یا چار تو یه سمجھ لے که چار پڑھی هیں اور نماز کو تمام کرے اور بعد میں دو رکعت نماز احتیاط کھڑے هو کر بجالائے۔
3۔ اگر کسی کو دوسرے سجدے کے دوران شک هو جائے که دو رکعتیں پڑھی هیں یا تین یا چار تو اسے یه سمجھ لینا چاهئے که چار پڑھی هیں اور وه نماز ختم هونے کے بعد دو رکعت نماز احتیاط کھڑے هو کر اور بعد میں دو رکعت بیٹھ کر بجالائے۔
4۔ اگر کسی شخص کو دوسرے سجدے کے دوران شک هو که اس نے چار رکعتیں پڑھی هیں یا پانچ تو وه یه سمجھے که چار پڑھی هیں اور اس بنیاد پر نماز پوری کرے اور نماز کے بعد دو سجده سهو بجا لائے۔ اور بعید نهیں که یهی حکم هر اس صورت میں هو جهاں کم از کم شک چار رکعت پر هو مثلاً چار اور چھ رکعتوں کے درمیان شک هو اور یه بھی بعید نهیں که هر اس صورت میں جهاں چار رکعت اور اس سے کم یا اس سے زیاده رکعتوں میں دوسرے سجدے کے دوران شک هو تو چار رکعتیں قرار دے کر دونوں شک کے اعمال انجام دے یعنی اس احتمال کی بنا پر که چار رکعت سے کم پڑھی هیں نماز احتیاط پڑھے اور اس احتمال کی بنا پر که چار رکعت سے زیاده پڑھی هیں بعد میں دو سجده سهو بھی کرے۔ اور تمام صورتوں میں اگر پهلے سجدے کے بعد اور دوسرے سجدے میں داخل هونے سے پهلے سابقه چار شک میں سے ایک اسے پیش آئے تو اس کی نماز باطل هے ۔
5۔ نماز کے دوران جس وقت بھی کسی کو تین رکعت اور چار رکعت کے درمیان شک هو ضروری هے که یه سمجھ لے که چار رکعتیں پڑھی هیں اور نماز کو تمام کرے اور بعد میں ایک رکعت نماز احتیاط کھڑے هو که یا دو رکعت بیٹھ کر پڑھے۔
6۔ اگر قیام کے دوران کسی کو چار رکعتوں اور پانچ رکعتوں کے بارے میں شک هو جائے تو ضروری هے که بیٹھ جائے اور تشهد اور کا سلام پڑھے اور ایک رکعت نماز احتیاط کھڑے هوکر یا دو رکعت بیٹھ کر پڑھے۔
ص:240
7۔ اگر قیام کے دوران کسی کو تین اور پانچ رکعتوں کے بارے میں شک هو جائے تو ضروری هے که بیٹھ جائے اور تشهد اور نماز کا سلام پڑھے اور دو رکعت نماز احتیاط کھڑے هو کر پڑھے۔
8۔ اگر قیام کے دوران کسی کو تین، چار اور پانچ رکعتوں کے بارے میں شک هو جائے تو ضروری هے که بیٹھ جائے اور تشهد پڑھے اور سلام نماز کے بعد دو رکعت نماز احتیاط کھرے هو هو کر اور بعد میں دو رکعت بیٹھ کر پڑھے۔
9۔ اگر قیام کے دوران کسی کو پانچ اور چھ رکعتوں کے بارے میں شک هو جائے تو ضروری هے که بیٹھ جائے اور تشهد اور نماز کا سلام پڑھے اور دو سجده سهو بجالائے اور احتیاط مستحب کی بنا پر ان چار صورتوں میں بےجا قیام کے لئے دو سجده سهو بھی بجالائے۔
1209۔ اگر کسی کو صحیح شکوک میں سے کوئی شک هو جائے اور نماز کو وقت اتنا تنگ هو که ناز از سرنو نه پڑھ سکے تو نماز نهیں توڑنی چاهئے اور ضروری هے که جو مسئله بیان کیا گیا هے اس کے مطابق عمل کرے۔ بلکه اگر نماز کا وقت وسیع هو تب بھی احتیاط مستحب یه هے که نماز نه توڑے اور جو مسئله پهلے بیان کیا گیا هے اس پر عمل کرے۔
1210۔ اگر نماز کے دوران انسان کو ان شکوک میں سے کوئی شک لاحق هو جائے جن کے لئے نماز احتیاط واجب هے اور وه نماز کو تمام کرے تو احتیاط مستحب یه هے که نماز احتیاط پڑھے اور نماز احتیاط پڑھے بغیر از سر نو نماز نه پڑھے اور اگر وه کوئی ایسا فعل انجام دینے سے پهلے جونماز کو باطل کرتا هو از سر نو نماز پرھے تو احتیاط کی بنا پر اس کی دوسری نماز بھی باطل هے لیکن اگر کوئی ایسا فعل انجام دینے کے بعد جونماز کو باطل کرتا هو نماز میں مشغول هو جائے تو اس کی دوسری نماز صحیح هے۔
1211۔جب نماز کو باطل کرنے والے شکوک میں سے کوئی شک انسان کو لاحق هو جائے اور وه جانتا هو که بعد کی حالت میں منتقل هو جانے پر اس کے لئے یقین یا گمان پیدا هوجائے گا تو اس صورت میں جبکه اس کا باطل شک شروع کی دو رکعت میں هو اس کے لئے شک کی حالت میں نماز جاری رکھنا جائز نهیں هے۔ مثلاً اگر قیام کی حالت میں اسے شک هو که ایک رکعت پڑھی هے یا زیاده پڑھی هیں اور وه جانتا هو که اگر رکوع میں جائے تو کسی ایک طرف یقین یا گمان پیدا کرے گا تو اس حالت میں اس کے لئے رکوع کرنا جائز نهیں هے اور باقی باطل شکوک میں بظاهر اپنی نماز جاری رکھ سکتا هے تاکه اسے یقین یا گمان حاصل هو جائے۔
ص:241
1212۔ اگر کسی شخص کا گمان پهلے ایک طرف زیاده هو اور بعد میں اس کی نظر میں دونوں اطراف برابر هوجائیں تو ضروری هے که شک کے احکام پر عمل کرے اور اگر پهلے هی دونوں اطراف اس کی نظر میں برابر هوں اور احکام کے مطابق جو کچھ اس کا وظیفه هے اس پر عمل کی بنیاد رکھے اور بعد میں اس کا گمان دوسری طرف چلاجائے تو ضروری هے که اسی طرف کو اختیار کرے اور نماز کو تمام کرے۔
1213۔ جو شخص یه نه جانتا هو که اس کا گمان ایک طرف زیاده هے یا دونوں اطراف اس کی نظر میں برابر هیں تو ضروری هے که شک کے احکام پر عمل کرے۔
1214۔اگرکسی شخص کو نماز کے بعد معلوم هو که نماز کے دوران وه شک کی حالت میں تھا مثلاً اسے شک تھا که اس نے دو رکعتیں پڑھی هیں یا تین رکعتیں هیں اور اس نے اپنے افعال کی بنیاد تین رکعتوں پر رکھی هو لیکن اسے یه علم نه هو که اس کے گمان میں یه تھا که اس نے تین رکعتیں پڑھی هیں یا دونوں اطراف اس کی نظر میں برابر تھیں تو نماز احتیاط پڑھنا ضروری هے۔
1215۔ اگر قیام کے بعد شک کرے که دو سجدے ادا کئے تھے یا نهیں اور اسی وقت اسے ان شکوک میں سے کوئی شک هو جائے جو دو سجدے تمام هونے کے بعد لاحق هوتا تو صحیح هوتا مثلاً وه شک کرے که میں نے دو رکعت پڑھی هیں یا تین اور وه اس شک کے مطابق عمل کرے تو اس کی نماز صحیح هے لیکن اگر اسے تشهد پڑھتے وقت ان شکوک میں سے کوئی شک لاحق هو جائے تو بالفرض اسے یه علم هو که دو سجدے ادا کئے هیں تو ضروری هے که یه سمجھے که یه ایسی دو رکعت میں سے هے جس میں تشهد نهیں هوتا تو اس کی نماز باطل هے۔ اس مثلا کی طرح جو گزر چکی هے ورنه اس کی نماز صحیح هے جیسے کوئی شک کرے که دو رکعت پڑھی هے یا چار رکعت۔
1216۔ اگر کوئی شخص تشهد میں مشغول هونے سے پهلے یا ان رکعتوں میں جن میں تشهد نهیں هے قیام سے پهلے شک کرے که ایک یا دو سجدے بجالایا هے یا نهیں اور اسی وقت اسے ان شکوک میں سے کوئی شک لاحق هو جائے جو دو سجدے تمام هونے کے بعد صحیح هو تو اس کی نماز باطل هے۔
ص:242
1217۔ اگر کوئی شخص قیام کی حالت میں تین اور چار رکعتوں کے بارے میں یا تین اور چار اور پانچ رکعتوں کے بارے میں شک کرے اور اسے یه بھی یاد آجائے که اس نے اس سے پهلی رکعت کا ایک سجده یا دونوں سجدے ادا نهیں کئے تو اس کی نماز باطل هے۔
1218۔ اگر کسی کا شک زائل هوجائے اور کوئی دوسرا شک اسے لاحق هو جائے مثلاً پهلے شک کرے که دو رکعتیں پڑھی هیں تین رکعتیں اور بعد میں شک کیا تھا تو هر دو شک کے حکم پر عمل کر سکتا هے۔ اور نماز کو بھی توڑ سکتا هے۔ اور جو کام نماز کو باطل کرتا هے اسے کرنے کے بعد نماز دوباره پڑھے۔
1220۔اگر کسی شخص کو نماز کے بعد پته چلے که نماز کی حالت میں اسے کوئی شک لاحق هو گیا تھا لیکن یه نه جانتا هو که وه شک نماز کو باطل کرنے والے شکوک میں سے تھا یا صحیح شکوک میں سے تھا اور اگر صحیح شکوک میں سے بھی تھا تو اس کا تعلق صحیح شکوک کی کون سے قسم سے تھا تو اس کے لئے جائز هے که نماز کو کالعدم قرار دے اور دوباره پڑھے۔
1221۔ جو شخص بیٹھ کر نماز پڑھ رها هو اگر اسے ایسا شک لاحق هو جائے جس کے لئے اسے ایک رکعت نماز احتیاط کھڑے هوکر یا دو رکعت بیٹھ کر پڑھنی چاهئے تو ضروری هے که ایک رکعت بیٹھ کر پڑھے اور اگر وه ایسا شک کرے جس کے لئے اسے دو رکعت نماز احتیاط کھڑے هو کر پڑھنی چاهئے تو ضروری هے که دو رکعت بیٹھ کر پڑھے۔
1222۔ جو شخص کھڑا هو کر نماز پڑھتا هو اگر وه نماز احتیاط پڑھنے کے وقت کھڑا هونے سے عاجز هو تو ضروری هے که نماز احتیاط اس شخص کی طرح پڑھے جو بیٹھ کر نماز پڑھتا هے اور جس کا حکم سابقه مسئلے میں بیان هو چکا هے۔
1223۔ جو شخص بیٹھ کر نماز پڑھتا هو اگر نماز احتیاط پڑھنے کے وقت کھڑا هوسکے تو ضروری هے که اس شخص کے وظیفے کے مطابق عمل کرے جو کھڑا هو کر نماز پڑھتا هے۔