لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
2150۔ دو آدمی اگر باهم طے کریں که اپنے مشترک مال سے بیوپار کرکے جو کچھ نفع کمائیں گے اسے آپس میں تقسیم کر لیں گے اور وه عربی یا کسی اور زبان میں شراکت کا صیغه پڑھیں یا کوئی ایسا کام کریں جس سے ظاهر هوتا هو که وه ایک دوسرے کے شریک بننا چاهتے هیں تو ان کی شراکت صحیح هے۔
2151۔ اگر چند اشخاص اس مزدوری میں جو وه اپنی محنت سے حاصل کرتے هوں ایک دوسرے کے ساتھ شراکت کریں مثلاً چند حجام آپس میں طے کریں که جو اجرت حاصل هوگی اسے آپس میں تقسیم کر لیں گے تو ان کی شراکت صحیح نهیں هے۔ لیکن اگر باهم طے کر لیں که مثلاً هر ایک آدھی مزدوری معین مدت تک کے لئے دوسرے کی آدھی مزدوری کے بدلے میں هوگی تو معامله صحیح هے۔ اور ان میں سے هر ایک دوسرے کی مزدوری میں شریک هوگا۔
2152۔ اگر وه اشخاص آپس میں اس طرح شراکت کریں که ان میں سے هر ایک اپنی ذمے داری پر جنس خریدے اور اس کی قیمت کی ادائیگی کا بھی خود ذمے دار هو لیکن جو جنس انهوں نے خریدی هو اس کے نفع میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک هوں تو ایسی شراکت صحیح نهیں، البته اگر ان میں سے هر ایک دوسرے کو اپنا وکیل بنائے که جو کچھ وه ادھار لے رها هے اس میں اسے شریک کر لے یعنی جنس کو اپنے اور اپنے حصه دار کے لئے خریدے۔ جس کی بنا پر دونوں مقروض هوجائیں تو دونوں میں سے هر ایک جنس میں شریک هو جائے گا۔
2153۔ جو اشخاص شراکت کے ذریعے ایک دوسرے کے شریک کار بن جائیں ان کے لئے ضروری هے که بالغ اور عاقل هوں نیز یه که ارادے اور اختیار کے ساتھ شراکت کریں اور یه بھی ضروری هے که وه اپنے مال میں تصرف کر سکتے
ص:404
هوں لهذا چونکه سفیه ۔ جو اپنا بال احمقانه اور فضول کاموں پر خرچ کرتا هے۔ اپنے مال میں تصرف کا حق نهیں رکھتا اگر وه کسی کے ساتھ شراکت کرے تو صحیح نهیں هے۔
2154۔ اگر شراکت کے معاهدے میں یه شرط لگائی جائے که جو شخص کام کرے گا یا جو دوسرے شریک سے زیاده حصه ملے گا تو ضروری هے که جیسا طے کیا گیا هو متعلقه شخص کو اس کے مطابق دیں اور اسی طرح اگر شرط لگائی جائے که جو شخص کام نهیں کرے گا یا زیاده کام نهیں کرے گا یا جس کے کام کی دوسرے کے کام کے مقابلے میں زیاده اهمیت نهیں هے اسے منافع کا زیاده حصه ملے گا تب بھی شرط صحیح هے اور جیسا طے کیا گیا هو متعلقه شخص کو اس کے مطابق دیں۔
2155۔اگر شرکاء طے کریں که سارا منافع کسی ایک شخص کا هوگا یا سار نقصان کسی ایک کو برداشت کرنا هوگا تو شراکت صحیح هونے میں اشکال هے۔
2156۔ اگر شرکاء یه طے نه کریں که کسی ایک شریک کو زیاده منافع ملے گا تو اگر ان میں سے هر ایک کا سرمایه ایک جتنا هو تو نفع نقصان بھی ان کے مابین برابر تقسیم هوگا اور ان کا سرمایه برابر برابر نه هو تو ضروری هے که نفع نقصان سرمائے کی نسبت سے تقسیم کریں مثلاً اگر دو افراد شراکت کریں اور ایک کا سرمایه دوسرے کے سرمائے سے دُگنا هو تو نفع نقصان میں بھی اس کا حصه دوسرے سے دگنا هوگا خواه دونوں ایک جتنا کام کریں یا ایک تھوڑا کام کرے یا بالکل کام نه کرے۔
2157۔ اگر شراکت کے معاهدے میں یه طے کیا جائے که دونوں شریک مل کر خریدوفروخت کریں گے یا هر ایک انفرادی طور پر لین دین کرنے کا مجاز هوگا یا ان میں سے فقط ایک شخص لین دین کرے گا یا تیسرا شخص اجرت پر لین دین کرے گا تو ضروری هے که اس معاهدے پر عمل کریں۔
2158۔ اگر شرکاء یه معین نه کریں که ان میں سے کون سرمائے کے ساتھ خریدوفروخت کرے گا تو ان میں سے کوئی بھی دوسرے کی اجازت کے بغیر اس سرمائے سے لین دین نهیں کر سکتا۔
2159۔ جو شریک شراکت کے سرمائے پر اختیار رکھتا هو اس کے لئے ضروری هے که شراکت کے معاهدے پر عمل کرے مثلاً اگر اس سے طے کیا گیا هو که ادھار خریدے گا یا نقد بیچے گا یا کسی خاص جگه سے خریدے گا تو جو معاهده طے پایا هے اس کے مطابق عمل کرنا ضروری هے اور اگر اسکے ساتھ کچھ طے نه هوا هو تو ضروری هے که معمول کے مطابق لین
ص:405
دین کرے تاکه شراکت کو نقصان نه هو۔ نیز اگر عام روش کے عَلَی الرَّغم هو تو سفر میں شراکت کا مال اپنے همراه نه لے جائے۔
2160۔ جو شریک شراکت کے سرمائے سے سودے کرتا هو اگر جو کچھ اس کے ساتھ طے کیا گیا هو اس کے برخلاف خریدوفروخت کرے یا اگر کچھ طے نه کیا گیا هو اور معمول کے خلاف سودا کرے تو ان دونوں صورتوں میں اگرچه اقوی قول کی بنا پر معامله صحیح هے لیکن اگر معامله نقصان ده هو یا شراکت کے مال میں سے کچھ مال ضائع هو جائے تو جس شریک نے معاهدے یا عام روش کے عَلَی الَّرغم عمل کیا هو وه ذمے دار هے۔
2161۔ جو شریک شراکت کے سرمائے سے کاروبار کرتا هو اگر وه فضول خرچی نه کرے اور سرمائے کی نگهداشت میں بھی کوتاهی نه کرے اور پھر اتفاقاً اس سرمائے کی کچھ مقدار یا سارے کا سار سرمایه تلف هوجائے تو وه ذمے دار نهیں هے۔
2162۔ جو شریک شراکت کے سرمائے سے کاروبار کرتا هو اگر وه کهے که سرمایه تلف هوگیا هے تو اگر وه دوسرے شرکاء کے نزدیک معتبر شخص هو تو ضروری هے که اس کا کهنا لیں۔ اور اگر دوسرے شرکاء کے نزدیک وه معتبر شخص نه هو تو شرکاء حاکم شرع کے پاس اس کے خلاف دعوی کر سکتے هیں تاکه حاکم شرع قضاوت کے اصولوں کے مطابق تنازع کا فیصله کرے۔
2163۔ اگر تمام شریک اس اجازت سے جو انهوں نے ایک دوسرے کو مال میں تصرف کے لئے دے رکھی هو پھر جائیں تو ان میں سے کوئی بھی شراکت کے مال میں تصرف نهیں کر سکتا اور اگر ان میں سے ایک اپنی دی هوئی اجازت سے پھر جائے تو دوسرے شرکاء کو تصرف کا کوئی حق نهیں لیکن جو شخص اپنی دی هوئی اجازت سے پھر گیا هو وه شراکت کے مال میں تصرف کر سکتا هے۔
2164۔ جب شرکاء میں سے کوئی ایک تقاضا کرے که شراکت کا سرمایه تقسیم کر دیا جائے تو اگرچه شراکت کی معینه مدت میں ابھی کچھ وقت باقی هو دوسروں کو اس کا کهنا مان لینا ضروری هے مگر یه که انهوں نے پهلے هی (معاهده کرتے وقت) سرمائے کی تقسیم کو رد کر دیا هو (یعنی قبول نه کیا هو) یا مال کی تقسیم شرکاء کے لئے قابل ذکر نقصان کا موجب هو (تو اسکی بات قبول نهیں کرنی چاهئے)۔
ص:406
2165۔ اگر شرکاء میں سے کوئی مرجائے یا دیوانه یا بے حواس هو جائے تو دوسرے شرکاء شراکت کے مال میں تصرف نهیں کرسکتے اور اگر ان میں سے کوئی سفیه هو جائے یعنی اپنا مال احمقانه اور فضول کاموں میں خرچ کرے تو اس کا بھی یهی حکم هے۔
2166۔ اگر شریک اپنے لئے کوئی چیز ادھار خریدے تو اس نفع نقصان کا وه خود ذمے دار هے لیکن اگر شراکت کےلئے خریدے اور شراکت کے معاهدے میں ادھار معامله کرنا بھی شامل هو تو پھر نفع نقصان میں دونوں شریک هوں گے۔
2167۔ اگر شراکت کے سرمائے سے کوئی معامله کیا جائے اور بعد میں معلوم هو که شراکت باطل تھی تو اگر صورت یه هو که معامله کرنے کی اجازت میں شراکت کے صحیح هونے کی قید نه تھی یعنی اگر شرکاء جانتے هوتے که شراکت درست نهیں هے تب بھی وه ایک دوسرے کے مال میں تصرف پر راضی هوتے تو معامله صحیح هے اور جو کچھ اس معاملے سے حاصل هو وه ان سب کا مال هے۔ اور اگر صورت یه نه هو تو جو لوگ دوسروں کے تصرف پر راضی نه هوں اگر وه یه کهه دیں که هم اس معاملے پر راضی هیں تو معامله صحیح هے۔ ورنه باطل هے۔ دونوں صورتوں میں ان میں سے جس نے بھی شراکت کے لئے کام کیا هو اگر اس نے بلامعاوضه کام کرنے کے ارادے سے نه کیا هو تو وه اپنی محنت کا معاوضه معمول کےمطابق دوسرے شرکاء سے ان کے مفاد کا خیال رکھتے هوئے لے سکتا هے۔ لیکن اگر کام کرنے کا معاوضه اس فائده کی مقدار سے زیاده هو جو وه شراکت صحیح هونے کی صورت میں لیتا تو وه بس اسی قدر فائده لے سکتا هے۔