لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
1863۔ زکوٰۃ کوره دس چیزوں پر اس صورت میں واجب هوتی هے جب مال اس نصاب کی مقدار تک پهنچ جائے جس کا ذکر بعد میں کیاجائے گا اور وه مال انسان کی اپنی ملکیت هو اور اس کا مالک آزادهو۔
1864۔ اگر انسان گیاره مهینے گائے، بھیڑ بکری، اونٹ، سونے یا چاندی کا مالک رهے تو اگرچه بارھویں مهینے کی پهلی تاریخ کو زکوٰۃ اس پر واجب هو جائے گی لیکن ضروری هے که اگلے سال کی ابتدا کی حساب بارھویں مهینے کے خاتمے کے بعد سے کرے۔
1865۔ سونے، چاندی اور مال تجارت پر زکوۃ کے واجب هونے کی شرط یه هے که ان چیزوں کا مالک، بالغ اور عاقل هو۔ لیکن گیهوں،جَو، کھجور، کشمش اور اسی طرح اونٹ، گائے اور بھیڑ بکریوں میں مالک کا بالغ اور عاقل هونا شرط نهیں هے۔
1866۔ گیهوں اور جَو پر زکوۃ اس وقت واجب هوتی هے جب انهیں "گیهوں" اور "جَو" کها جائے۔ کشمش پر زکوۃ اس وقت واجب هوتی هے جب وه ابھی انگور هی کی صورت میں هوں۔ اور کھجور پر زکوۃ اس وقت واجب هوتی هے جب (وه پک جائیں اور) عرب اسے تمر کهیں لیکن گیهوں اور جَو میں زکوۃ کا نصاب دیکھنے اور زکوۃ دینے کا وقت وه هوتا هے جب یه غله کھلیان میں پهنچے اور ان (کی بالیوں) سے بھوسا اور (دانه) الگ کیا جائے۔ جبکه کھجور اور کشمش میں یه وقت وه هوتا هے جب انهیں اتار لیتے هیں۔ اس وقت کو خشک هونے کا وقت بھی کهتے هیں۔
ص:347
1867۔ گیهوں، جَو، کشمش اور کھجور میں زکوۃ ثابت هونے کے لئے جیسا که سابقه مسئلے میں بتایا گیا هے اقوی کی بنا پر معتبر نهیں هے که ان کا مالک ان میں تصرف کر سکے۔ پس اگر مالک غائب هو اور مال بھی اس کے یا اس کے وکیل کے هاتھ میں نه هو مثلا کسی نے ان چیزوں کو غصب کر لیا هو تب بھی زکوۃ ان چیزوں میں ثابت هے۔
1868۔ سونے، چاندی اور مال تجارت میں زکوۃ ثابت هونے کے لئے ۔ جیسا که بیان هو چکا ۔ ضروری هے که مالک عاقل هو اگر مالک پورا سال یا سال کا کچھ حصه دیوانه رهے تو اس پر زکوٰۃ واجب نهیں هے۔
1869۔ اگر گائے، بھیڑ، اونٹ، سونے اور چاندی کا مالک سال کا کچھ حصه مست (بے حواس) یا بے هوش رهے تو زکوۃ اس پر سے ساقط نهیں هوتی اور اسی طرح گیهوں، جَو، اور کشمش کا مالک زکوٰۃ واجب هونے کے موقع پر مست یا بے هوش هوجائے تو بھی یهی حکم هے۔
1870۔گیهوں، جَو، کھجور اور کشمش کے علاوه دوسری چیزوں میں زکوۃ ثابت هونے کے لئے یه شرط هے که مالک اس مال میں تصرف کرنے کی قدرت رکھتا هو پس اگر کسی نے اس مال کی غصب کر لیا هو اور مالک اس مال میں تصرف نه کر سکتا هو تو اس میں زکوٰۃ نهیں هے۔
1871۔ اگر کسی نے سونا اور چاندی یا کوئی اور چیز جس پر زکوۃ دینا واجب هو کسی سے قرض لی هو اور وه چیز ایک سال تک اس کے پاس رهے تو ضروری هے که اس کی زکوٰۃ دے اور جس نے قرض دیا هو اس پر کچھ واجب نهیں هے۔