لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
1933۔ زکوٰۃ کا مال آٹھ مصرف میں خرچ هوسکتا هے۔
1۔ فقیر۔ وه (غریب محتاج)شخص جس کے پاس اپنے اور اپنے اهل و عیال کے لئے سال بھر کے اخراجات نه هوں فقیر هے لیکن جس شخص کے پاس کوئی هنر یا جائداد یا سرمایه هو جس سے وه اپنے سال بھر کے اخراجات پورے کر سکتا هو وه فقیر نهیں هے۔
2۔ مَسکِین۔ وه شخص جو فقیر سے زیاده تنگدست هو، مسکین هے۔
3۔ وه شخص جو امام عصر علیه السلام یا نائب امام کی جانب سے اس کام پر مامور هو که زکوٰۃ جمع کرے، اس کی نگهداشت کرے، حساب کی جانچ پڑتال کرے اور جمع کیا هوا مال امام علیه السلام یا نائب امام یا فقراء (و مساکین) کو پهنچائے۔
4۔ وه کفار جنهیں زکوٰۃ دی جائے تو وه دین اسلام کی جانب مائل هوں یا جنگ میں یا جنگ کے علاوه مسلمانوں کی مدد کریں۔ اسی طرح وه مسلمان جن کا ایمان ان بعض چیزوں پر جو پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم لائے هیں کمزور هو لیکن اگر ان کو زکوٰۃ دی جائے تو ان کے ایمان کی تقویت کا سبب بن جائے یا جو مسلمان (شهنشاه ولایت) امام علی علیه السلام کی ولایت پر ایمان نهیں رکھتے لیکن اگر ان کو زکوٰۃ دی جائے تو وه امیرالمومنین علیه السلام کی ولایت (کبری) کی طرف مائل هوں اور اس پر ایمان لے آئیں۔
5۔ غلاموں کو خرید کر انهیں آزاد کرنا۔ جس کی تفصیل اس کے باب میں بیان هوئی هے۔
6۔ وه مقروض جو اپنا قرض ادا نه کرسکتا هو۔
7۔ فِی سَبِیلِ الله یعنی وه کام جن کا فائده تمام مسلمانوں کو پهنچتا هو مثلاً مسجد بنانا، ایسا مدرسه تعمیر کرنا جهاں دینی تعلیم دی جاتی هو، شهر کی صفائی کرنا نیز سڑکوں کو پخته بنانا اور انهیں چوڑا کرنا اور انھی جیسے دوسرے کام کرنا۔
ص:363
8۔ اِبنُ السَّبِیل یعنی وه مسافر جو سفر میں ناچار هوگیا هو۔
یه وه مدیں هیں جهاں زکوٰۃ خرچ هوتی هے لیکن اقوی کی بنا پر مالک زکوٰۃ کو امام یا نائب امام کی اجازت کے بغیر مد نمبر 3 اور مد نمبر 4 میں خرچ نهیں کر سکتا اور اسی طرح احتیاط لازم کی بنا پر مد نمبر 7 کا حکم بھی یهی هے اور مذکوره مدوں کے احکام آئنده مسائل میں بیان کئے جائیں گے۔
1934۔ احتیاط واجب یه هے که فقیر اور مسکین اپنے اور اپنے اهل و عیال کے سال بھر کے اخراجات سے زیاده زکوٰۃ نه لے اور اگر اس کے پاس کچھ رقم یا جنس هو تو فقط اتنی زکوٰۃ لے جتنی رقم یا جنس اس کے سال بھر کے اخراجات کے لئے کم پڑتی هو۔
1935۔ جس شخص کے پاس اپنا پورے سال کا خرچ هو اگر وه اس کا کچھ حصه استعمال کر لے اور بعد میں شک کرے که جو کچھ باقی بچا هے وه اس کے سال بھر کے اخراجات کے لئے کافی هے یا نهیں تو وه زکوٰۃ نهیں لے سکتا ۔
1936۔ جس هنرمند یا صاحب جائداد یا تاجر کی آمدنی اس کے سال بھر کے اخراجات سے کم هو وه اپنے اخراجات کی کمی پوری کرنے کے لئے زکوٰۃ لے سکتا هے اور لازم نهیں هے که وه اپنے کام کے اوزار یا جائداد یا سرمایه اپنے اخراجات کے مصرف میں لے آئے۔
1937۔ جس فقیر کے پاس اپنے اور اپنے اهل وعیال کے لئے سال بھر کا خرچ نه هو لیکن ایک گھر کا مالک هو جس میں وه رهتا هو یا سواری کی چیز رکھتا هو اور ان کے بغیر گزر بسر نه کرسکتا هو خواه یه صورت اپنے عزت رکھنے کے لئے هی هو وه زکوٰۃ لے سکتا هے اور گھر کے سامان، برتنوں اور گرمی و سردی کے کپڑوں اور جن چیزوں کی اسے ضرورت هو ان کے لئے بھی یهی حکم هے اور جو فقیر یه چیزیں نه رکھتا هو اگر اسے ان کی ضرورت هو تو وه زکوٰۃ میں سے خرید سکتا هے۔
1938۔ جس فقیر کے لئے هنر سیکھنا مشکل نه هو احتیاط واجب کی بنا پر زکوٰۃ پرزندگی بسر نه کرے لیکن جب تک هنر سکیھنے میں مشغول هو زکوٰۃ لے سکتا هے۔
ص:364
1939۔جو شخص پهلے فقیر رها هو اور وه کهتا هو که میں فقیر هوں تو اگرچه اس کے کهنے پر انسان کو اطمینان نه هو پھر بھی اسے زکوٰۃ دے سکتا هے۔ لیکن جس شخص کے بارے میں معلوم نه هو که وه پهلے فقیر رها هے یا نهیں تو احتیاط کی بنا پر جب تک اس کے فقیر هونے کا اطمینان نه هو پھر بھی اسے زکوٰۃ دے سکتا هے۔
1940۔ جو شخص کهے که میں فقیر هوں اور پهلے فقیر نه رها هو اگر اس کے کهنے سے اطمینان نه هوتا هو تو احتیاط واجب یه هے که اسے زکوٰۃ نه دی جائے۔
1941۔ جس شخص پر زکوٰۃ واجب هو اگر کوئی فقیر اس کا مقروض هو تو وه زکوٰۃ دیتے هوئے اپنا قرض اس میں سے وصول کر سکتا هے۔
1941۔ اگر فقیر مر جائے اور اس کا مال اتنا نه هو جتنا اس نے قرضه دینا هو تو قرض خواه قرضے کو زکوٰۃ میں شمار کر سکتا هے بلکه متوفی کا مال اس پر واجب الادا قرضے کے برابر هو اور اس کے ورثا اس کا قرضه ادا نه کریں یا کسی اور وجه سے قرض خواه اپنا قرضه واپس نه لے سکتا هو تب بھی وه اپنا قرضه واپس نه لے سکتا هو تب بھی وه اپنا قرضه زکوٰۃ میں شمار کر سکتا هے۔
1943۔ یه ضروری نهیں که کوئی شخص جو چیز فقیر کو بطور زکوٰۃ دے اس کے بارے میں اسے بتائے که یه زکوٰۃ هے بلکه اگر فقیر زکوٰۃ لینے میں خفت محسوس کرتا هو تو مستحب هے که اسے مال تو زکوٰۃ کی نیت سے دیا جائے لیکن اس کا زکوٰۃ هونا اس پر ظاهر نه کیا جائے۔
1944۔ اگر کوئی شخص یه خیال کرتے هوئے کسی کو زکوٰۃ دے که وه فقیر هے اور بعد میں اسے پته چلے که وه فقیر نه تھا یا مسئلے سے ناواقف هونے کی بنا پر کسی ایسے شخص کو زکوٰۃ دے دے جس کے متعلق اسے علم هو که وه فقیر نهیں هے تو یه کافی نهیں هے لهذا اس نے جو چیز اس شخص کو بطور زکوٰۃ دی تھی اگر وه باقی هو تو ضروری هے که اس شخص سے واپس لے کر مستحق کو دے سکتا هے اور اگر لینے والے کو یه علم نه تھا که وه مال زکوٰۃ هے تو اس سے کچھ نهیں لے سکتا اور انسان کو اپنے مال سے زکوٰۃ کا عوض مستحق کو دینا ضروری هے۔
1945۔جو شخص مقروض هو اور قرضه ادا نه کرسکتا هو اگر اس کے پاس اپنا سال بھر کا خرچ بھی هو تب بھی اپنا قرضه ادا کرنے کے لئے زکوٰۃ لے سکتا هے لیکن ضروری هے که اس نے جو مال بطور قرض لیا هو اسے کسی گناه کے کام میں خرچ نه کیا هو۔
ص:365
1946۔ اگر انسان ایک ایسے شخص کو زکوٰۃ دے جو مقروض هو اور اپنا قرضه ادا نه کرسکتا هو اور بعد میں اسے پته چلے که اس شخص نے جو قرضه لیا تھا وه گناه کے کام پر خرچ کیا تھا تو اگر وه مقروض فقیر هو تو انسان نے جو کچھ اسے دیا هوا اسے سَهم فقراء میں شمار کر سکتا هے۔
1947۔ جو شخص مقروض هو اور اپنا قرضه ادا نه کرسکتا هو اگرچه وه فقیر نه هو تب بھی قرض خواه قرضے کو جو اسے مقروض سے وصول کرنا هے زکوٰۃ میں شمار کر سکتا هے۔
1948۔ جس مسافر کا زاد راه ختم هو جائے یا اس کی سواری قابل استعمال نه رهے اگر اس کا سفر گناه کی غرض سے نه هو اور وه قرض لے کر یا اپنی کوئی چیز بیچ کر منزل مقصود تک نه پهنچ سکتا هو تو اگرچه وه اپنے سفر کے اخراجات حاصل کر سکتا هو تو وه فقط اتنی مقدار میں زکوٰۃ لے سکتا هے جس کے ذریعے وه اپنی منزل تک پهنچ جائے۔
1949۔جو مسافر سفر میں ناچار هوجائے اور زکوٰۃ لے اگر اس کے وطن پهنچ جانے کے بعد زکوٰۃ میں سے کچھ بچ جائے اسے زکوٰۃ دینے والے کو واپس نه پهنچا سکتا هو تو ضروری هے که وه زائد مال حاکم شرع کو پهنچا دے اور اسے بتا دے که یه مال زکوٰۃ هے۔