لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
1669۔ ماه رمضان کا روزه توڑنے کے کفارے کے طور پر ضروری هے که انسان ایک غلام آزاد کرے یا ان احکام کے مطابق جو آئنده مسئلے میں بیان کئے جائیں گے دو مهینے روزے رکھے یا ساٹھ فقیروں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے یا هر فقیر کو ایک مد تقریباً 4۔3 کلو طعام یعنی گندم یا جو یا روٹی وغیره دے اور اگر یه افعال انجام دینا اس کے لئے ممکن نه هو تو بقدر امکان صدقه دینا ضروری هے اور اگر یه ممکن نه هو تو توبه و استغفار کرے اور احتیاط واجب یه هے که جس وقت (کفاره دینے کے) قابل هو جائے کفاره دے۔
1670۔ جو شخص ماه رمضان کے روزے کے کفارے کے طور پر دو ماه روزے رکھنا چاهے تو ضروری هے که ایک پورا مهینه اور اس سے اگلے مهینے کے ایک دن تک مسلسل روزے رکھے اور اگر باقی مانده روزے مسلسل نه بھی رکھے تو کوئی اشکال نهیں۔
1671۔جو شخص ماه رمضان کے روزے کے کفارے کے طور پر دو ماه روزے رکھنا چاهے ضروری هے که وه روزے ایسے وقت نه رکھے جس کے بارے میں وه جانتا هو که ایک مهینے اور ایک دن کے درمیان عید قربان کی طرح کوئی ایسا دن آجائے گا جس کا روزه رکھنا حرام هے۔
ص:313
1672۔ جس شخص کو مسلسل روزے رکھنے ضروری هیں اگر وه ان کے بیچ میں بغیر عذر کے ایک دن روزه نه رکھے تو ضروری هے که دوباره از سر نو روزے رکھے۔
1673۔اگر ان دنوں کے درمیان جن میں مسلسل روزے رکھنے ضروری هیں روزه دار کو کوئی غیر اختیار عذر پیش آجائے مثلاً حیض یا نفاس یا ایسا سفر جسے اختیار کرنے پر وه مجبور هو تو عذر کے دور هونے کے بعد روزوں کا از سر نو رکھنا اس کے لئے واجب نهیں بلکه وه عذر دور هونے کے بعد باقیمانده روزے رکھے۔
1674۔ اگر کوئی شخص حرام چیز سے اپنا روزه باطل کر دے خواه وه چیز بذات خود حرام هو جیسے شراب اور زنا یا کسی وجه سے حرام هو جائے جیسے که حلال غذا جس کا کھانا انسان کے لئے بالعموم مضر هویا وه اپنی بیوی سے حالت حیض میں مجامعت کرے تو احتیاط مستحب یه هے که کفاره جمع دے۔ یعنی اسے چاهئے که ایک غلام آزاد کرے اور دو مهینے روزے رکھے اور ساٹھ فقیروں کو پیٹ بھر کر کھنا کھلائے یا ان میں سے هر فقیر کو ایک مد گندم یا جَو یا روٹی وغیره دے اور اگر یه تینوں چیزیں اس کے لئے ممکن هوں تو ان میں سے جو کفاره ممکن هو، دے۔
1675۔اگر روزه دار جان بوجھ کر الله تعالی یا نبی اکرم (صلی الله علیه وآله) سے کوئی جھوٹی بات منسوب کرے تو احتیاط مستحب یه هے که کفاره جمع دے جس کی تفصیل گزشته مسئله میں بیان کی گئی هے۔
1676۔اگر روزه دار ماه رمضان کے ایک دن میں کئی دفعه جماع یا استمناء کرے تو اس پر ایک کفاره واجب هے لیکن احتیاط مستحب یه هے که هر دفعه کے لئے ایک ایک کفاره دے۔
1677۔اگر روزه دار ماه رمضان کے ایک دن میں جماع اور استمناء کے علاوه کئی دفعه کوئی دوسرا ایسا کام کرے جو روزے کے باطل کرتا هو تو ان سب کےلئے بلااشکال صرف ایک کفاره کافی هے۔
1678۔اگر روزه دار جماع کے علاوه کوئی دوسرا ایسا کام کرے جو روزے کو باطل کرتا هو اور پھر اپنی زوجه سے مجامعت بھی کرے تو دونوں کے لئے ایک کفاره کافی هے۔
1679۔ اگر روزه دار کوئی ایسا کام کرے جو حلال هو اور روزے کو باطل کرتا هو مثلاً پانی پی لے اور اس کے بعد کوئی دوسرا ایسا کام کرے جو حرام هو اور روزے کو باطل کرتا هو مثلاً حرام غذا کھالے تو ایک کفاره کافی هے۔
ص:314
1680۔اگر روزے دار ڈکار لے اور کوئی چیز اس کے منه میں آجائے تو اگر وه اسے جان بوجھ کر نگل لے تو اس کا روزه باطل هے اور ضروری هے که اس کی قضا کرے اور کفاره بھی اس پر واجب هوجاتا هے اور اگر اس چیز کا کھانا حرام هو مثلاً ڈکار لیتے وقت خون یا ایسی خوراک جو غذا کی تعریف میں نه آتی هو اس کے منه میں آجائے اور وه اسے جان بوجھ کر نگل لے تو ضروری هے که اس روزے کی قضا بجا لائے اور احتیاط مستحب کی بنا پر کفاره جمع بھی دے۔
1681۔ اگر کوئی شخص میت مانے کی ایک خاص دن روزه رکھے گا تو اگر وه اس دن جان بوجھ کر اپنے روزے کو باطل کر دے تو ضروری هے که کفاره دے اور اس کا کفاره اسی طرح هے جیسے که منت توڑنے کا کفاره هے۔
1682۔ اگر روزه دار ایک ایسے شخص کے کهنے پر جو کهے که مغرب کا وقت هوگیا هے اور جس کےکهنے پر اسے اعتماد نه هو روزه افطار کرلے اور بعد میں اسے پته چلے که مغرب کا وقت نهیں هوا یا شک کرے که مغرب کا وقت هوا هے یا نهیں تو اس پر قضا اور کفاره دونوں واجب هو جاتے هیں۔
1683۔ جو شخص جان بوجھ کر اپنا روزه باطل کرلے اور اگر وه ظهر کے بعد سفر کرے یا کفارے سے بچنے کے لئے ظهر سے پهلے سفر کرے تو اس پر سے کفاره ساقط نهیں هوتا بلکه اگر ظهر سے پهلے اتفاقاً اسے سفر کرنا پڑھے تب بھی کفاره اس پر واجب هے۔
1684۔ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر اپنا روزه توڑ دے اور اس کے بعد کوئی عذر پیدا هو جائے مثلاً حیض یا نفاس یا بیماری میں مبتلا هو جائے تو احتیاط مستحب یه هے که کفاره دے۔
1685۔ اگر کسی شخص کو یقین هو که آج ماه رمضان المبارک کی پهلی تاریخ هے اور وه جان بوجھ کر روزه توڑ دے لیکن بعد میں اسے پته چلے که شعبان که آخری تاریخ هے تو اس پر کفاره واجب نهیں هے۔
1686۔ اگر کسی شخص کو شک هو کر آج رمضان کی آخری تاریخ هے یا شوال کی پهلی تاریخ اور وه جان بوجھ کر روزه توڑ دے اور بعد میں پته چلے که پهلی شوال هے تو اس پر کفاره واجب نهیں هے۔
ص:315
1687۔ اگر ایک روزه دار ماه رمضان میں اپنی روزه دار بیوی سے جماع کرے تو اگر اس نے بیوی کو مجبور کیا هو تو اپنے روزے کا کفاره اور احتیاط کی بنا پر ضروری هے که اپنی بیوی کے روزے کا بھی کفاره دے اور اگر بیوی جماع پر راضی هو تو هر ایک پر ایک ایک کفاره واجب هو جاتا هے۔
1688۔ اگر کوئی عورت اپنے روزه دار شوهر کو جماع کرنے پر مجبور کرے تو اس پر شوهر کے روزے کا کفاره ادا کرنا واجب نهیں هے۔
1689۔ اگر روزه دار ماه رمضان میں اپنی بیوی کو جماع پر مجبور کرے تو اس پر شوهر کے روزے کا کفاره ادا کرنا واجب نهیں هے۔
1690۔ اگر روزه دار ماه رمضان المبارک میں اپنی روزه دار بیوی سے جو سو رهی هو جماع کرے تو اس پر ایک کفاره واجب هو جاتا هے اور عورت کا روزه صحیح هے اور اس پر کفاره بھی واجب نهیں هے۔
1691۔ اگر شوهر اپنی بیوی کو یا بیوی اپنے شوهر کو جماع کے علاوه کوئی ایسا کام کرنے پر مجبور کرے جس سے روزه باطل هو جاتا هو تو ان دونوں میں سے کسی پر بھی کفاره واجب نهیں هے۔
1692۔ جو آدمی سفر یا بیماری کی وجه سے روزه نه رکھے وه اپنی روزه دار بیوی کو جماع پر مجبور نهیں کرسکتا لیکن اگر مجبور کرے تب بھی مرد پر کفاره واجب نهیں۔
1693۔ ضروری هے که انسان کفاره دینے میں کوتا هی نه کرے لیکن فوری طور پر دینا بھی ضروری نهیں۔
1694۔ اگر کسی شخص پر کفاره واجب هو اور وه کئی سال تک نه دے تو کفارے میں کوئی اضافه نهیں هوتا۔
1695۔ جس شخص کو بطور کفاره ایک دن ساٹھ فقیروں کو کھانا کھلانا ضروری هو اگر ساٹھ فقیر موجود هوں تو وه ایک فقیر کو ایک مد سے زیاده کھانا نهیں دے سکتا یا ایک فقیر کو ایک سے زائد مرتبه پیٹ بھر کر کھلائے اور اسے اپنے کفارے میں زیاده افراد کو کھانا کھلانا شمار کرے البته وه فقیر کے اهل و عیال میں سے هر ایک کو ایک مد دے سکتا هے خواه وه چھوٹے چھوٹے هی کیوں نه هوں۔
ص:316
1696۔ جو شخص ماه رمضان المبارک کے روزے کی قضا کرے اگر وه ظهر کے بعد جان بوجھ کر کوئی ایسا کام کرے جو روزے کے باطل کرتا هو تو ضروری هے که دس فقیروں کو فرداً فرداً ایک مد کھانا دے اور اگر نه دے سکتا هو تو تین روزے رکھے۔