لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
ص:467
2483۔بچے کو جو دودھ پلانا محرم بننے کا سبب بنتا هے اس کی آٹھ شرطیں هیں :
1۔ بچه زنده عورت کا دودھ پئے۔ پس اگروه مرده عورت کے پستان سے دودھ پئے تو اس کا کوئی فائده نهیں۔
2۔ عورت کا دودھ فعل حرام کا نتیجه نه هو۔ پس اگر ایسے بچے کا دودھ جو ولدالزنا هو کسی دوسرے بچے کو دیا جائے تو اس دودھ کے توسط سے وه دوسرا بچه کسی کا محرم نهیں بنے گا۔
3۔ بچه پستان سے دودھ پئے۔ پس اگر دودھ اس کے حلق میں انڈیلا جائے تو بیکار هے۔
4۔ دودھ خالص هو اور کسی دوسری چیز سے ملا هو نه هو۔
5۔ دودھ ایک هی شوهر کا هو۔ پس جس عورت کو دودھ اترتا هو اگر اسے کو طلاق هو جائے اور وه عقد ثانی کرلے اور دوسرے شوهر سے حامله هو جائے اور بچه جننے تک اس کے پهلے شوهر کا دودھ اس میں باقی هو مثلاً اگر اس بچے کو خود بچه جننے سے قبل پهلے شوهر کا دود آٹھ دفعه اور وضع حمل کے بعد دوسرے شوهر کا دودھ سات دفعه پلائے تو وه بچه کسی کا بھی محرم نهیں بنتا۔
6۔ بچه کسی بیماری کی وجه سے دودھ کی قے نه کردے اور اگر قے کردے تو بچه محرم نهیں بنتا هے۔
7۔ بچے کو اس قدر دودھ پلاجائے که اس کی هڈیاں اس دودھ سے مضبوط هوں اور بدن کا گوشت بھی اس سے بنے اور اگر اس بات کا علم نه هو که اس قدر دودھ پیا هے یا نهیں تو اگر اس نے ایک دن اور ایک رات یا پندره دفعه پیٹ بھر کر دودھ پیاهو تب بھی (محرم هونے کے لئے) کافی هے جیسا که اس کا (تفصیلی) ذکر آنے والے مسئلے میں کیا جائے گا۔ لیکن اگر اس بات کا علم هو که اس کی هڈیاں اس دودھ سے مضبوط نهیں هوئیں اور اس کا گوشت بھی اس سے نهیں بنا حالانکه بچے نے ایک دن اور ایک رات یا پندره دفعه دودھ پیا هو تو اس جیسی صورت میں احتیاط کا خیال کرنا ضروری هے۔
8۔ بچے کی عمر کے دو سال مکمل نه هوئے هوں اور اگر اس کی عمر دو سال هونے کے بعد اسے دودھ پلایا جائے تو وه کسی کا محرم نهیں بنتا بلکه اگر مثال کے طور پر وه عمر کے دو سال مکمل هونے سے پهلے آٹھ دفعه اور اس کے بعد ساتھ دفعه دودھ پئے تب بھی وه کسی کا محرم نهیں بنتا۔ لیکن اگر دودھ پلانے والی عورت کو بچه جنے هوئے دو سال سے زیاده مدت گزر چکی
ص:468
هو اور اس کا دودھ ابھی باقی هو اور وه کسی بچے کو دودھ پلائے تو وه بچه ان لوگوں کا محرم بن جاتا هے جن کا ذکر اوپر کیا گیا هے۔
2484۔ دودھ پینے کی وجه سے محرم بننے کے لئے ضروری هے که ایک دن رات میں بچه نه غذا کھائے اور نه کسی دوسری عورت کا دودھ پئے لیکن اگر اتنی تھوڑی غذا کھائے که لوگ یه نه کهیں که اس نے بیچ میں غذا کھائی هے تو پھر کوئی اشکال نهیں۔ نیز یه بھی ضروری هے که پندره مرتبه ایک هی عورت کا دودھ پئے اور اس پندره مرتبه دودھ پینے کے درمیان کسی دوسری عورت کا دودھ نه پئے اور هر بار بلافاصله دودھ پئے۔ هاں اگر دودھ پیتے هوئے سانس لے یا تھوڑا ساصبر کرے گویا که جب اس نے پهلی بار پستان منه میں لیا تھا اس وقت سے لے کر اس کے سیر هوجانے تک ایک دفعه دودھ پینا هی شمار کیا جائے تو اس میں کوئی اشکال نهیں۔
2485۔ اگر کوئی عورت اپنے شوهر کا دودھ کسی بچے کو پلائے۔ بعد ازاں عقد ثانی کرلے اور دوسرے شوهر کا دودھ کسی اور بچے آپس میں محرم نهیں بنتے اگر چه بهتر یه هے که وه آپس میں شادی نه کریں۔
2486۔ اگر کوئی عورت ایک شوهر کا دودھ کئی بچوں کو پلائے تو وه سب بچے آپس میں نیز اس آدمی کے اور اس عورت کے جنس نے انهیں دودھ پلایا هو محرم بن جاتے هیں۔
2487۔ اگر کسی شخص کی کئی بیویاں هوں اور ان میں سے هر ایک شرائط کے ساتھ جو بیان کی گئی هیں ایک ایک بچے کو دودھ پلادے تو وه سب بچے آپس میں اور اس آدمی اور ان تمام عورتوں کے محرم بن جاتے هیں۔
2488۔ اگر کسی شخص کو دو بیویوں کو دودھ اترتا هو اور ان میں سے ایک کسی بچے کو مثال کے طور پر آٹھ مرتبه اور دوسری سات مرتبه دودھ پلادے تو وه بچه کسی کا بھی محرم نهیں بنتے۔
2489۔ اگر کوئی عورت ایک شوهر کا پورا دودھ ایک لڑکے اور ایک لڑکی کو پلائے تو اس لڑکی کے بهن بھائی اس لڑکے کے بهن بھائیوں کے محرم نهیں بن جاتے۔
2490۔ کوئی شخص اپنی بیوی کی اجازت کے بغیر ان عورتوں سے نکاح نهیں کرسکتا جو دودھ پینے کی وجه سے اس کی بیوی کی بھانجیاں یا بھتیجیاں بن گئی هوں نیز اگر کوئی شخص کسی لڑکے سے اغلام کرے تو وه اس لڑکے کی رضاعی بیٹی، بهن، ماں
ص:469
اور دادی سے یعنی ان عورتوں سے جو دودھ پینے کی وجه سے اس کی بیٹی، بهن، ماں اور دادی بن گئی هوں نکاح نهیں کرسکتا۔اور احتیاط کی بنا پر اس صورت میں جبکه لواطت کرنے والا بالغ هو تب بھی یهی حکم هے۔
2491۔ جس عورت نے کسی شخص کے بھائی کو دودھ پلایا هو وه اس شخص کی محرم نهیں بن جاتی اگرچه احتیاط مسحب یه هے که اس شادی نه کرے۔
2492۔ کوئی آدمی دو بهنوں سے (ایک هی وقت میں) نکاح نهیں کرسکتا اگرچه وه رضا4ی بهنیں هی هوں یعنی دودھ پینے کی وجه سے ایک دوسری کی بهنیں بن گئی هوں اور اگر وه دو عورتوں سے شادی کرے اور بعد میں اسے پتا چلے که وه آپس میں بهنیں هیں تو اس صورت میں جب که ان کی شادی ایک هی وقت میں هوئی هو اظهر یه هے که دونوں نکاح باطل هیں۔ اور اگر نکاح ایک هی وقت میں نه هوا هو تو پهلا نکاح صحیح هو دوسرا باطل هے۔
2493۔ اگر کوئی عورت اپنے شوهر کا دودھ ان اشخاص کا پلائے جن کا ذکر ذیل میں کیا گیا هے تو اس عورت کا شوهر اس پر حرام نهیں هوتا اگرچه بهتر یه هے که احتیاط کی جائے۔
1۔ اپنے بھائی اور بهن کو۔
2۔ اپنے چچا، پھوپھی، اماموں اور خاله کو۔
3۔ اپنے چچا اور ماموں کی اولاد کو۔
4۔ اپنے بھتیجے کو۔
5۔ اپنے جیٹھ یا دیور اور نند کو۔
6۔ اپنے بھانجے یا اپنے شوهر کے بھانجے کو۔
8۔ اپنے شوهر کی دوسری بیوی کے نواسے یا نواسی کی۔
ص:470
2494۔ اگر کوئی عورت کسی شخص کی پھوپھی زاد یا خاله زاد بهن کو دودھ پلائے تو وه (عورت) اس شخص کی محرم نهیں بنتی لیکن احتیاط مستحب یه هے که وه شخص اس عورت سے شادی نه کرے۔
2495۔ جس شخص کی دو بیویاں هوں اگر اس کی ایک بیوی دوسری بیوی کے چچا کے بیٹے کو دودھ پلائے تو جس عورت کے چچا کے بیٹے نے دودھ پیا هے وه اپنے شوهر پر حرام نهیں هوگی۔