لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

خرید و فروخت کے احکام

ص:382

2059۔ ایک بیوپاری کے لئے مناسب هے که خرید و فروخت کے سلسلے میں جن مسائل کا (عموماً) سامنا کرنا پڑتا هے ان کے احکام سیکھ لے بلکه اگر مسائل نه سیکھنے کی وجه سے کسی واجب حکم کی مخالفت کرنے کا اندیشه هو تو مسائل لازم ولابد هے۔ حضرت امام جعفر صادق عَلَیهِ الصّلوٰۃُ وَالسّلام سے روایت هے که "جو پهلے خرید و فروخت کرے گا باطِل یا مُشتَبَه معامله کرنے کی وجه سے هلاکت میں پڑے گا۔"

2060۔ اگر کوئی مسئلے سے ناواقفیت کی بنا پر یه نه جانتا هو که اس نے جو معامله کیا هے وه صحیح هے یا باطل تو جو مال اس نے حاصل کیا هو اسے استعمال نهیں کر سکتا مگر یه که اسے علم هوجائے که دوسرا فریق اس مال کو استعمال کرنے پر راضی هے تو اس صورت میں وه استعمال کر سکتا هے اگرچه معامله باطل هو۔

2061۔ جس شخص کے پاس مال نه هو اور کچھ اخراجات اس پر واجب هوں، مثلاً بیوی بچوں کا خرچ، تو ضروری هے که کاروبار کرے۔ اور مستحب کاموں کے لئے مثلاً اهل و عیال کی خوشحالی اور فقیروں کی مدد کرنے کے لئے کاروبار کرنا مستحب هے۔