لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

خدا و رسول پر بهتان باندھنا

1605۔ اگر روزه دار زبان سے یا لکھ کر یا اشارے سے یا کسی اور طریقے سے الله تعالی یا رسول اکرم (صلی الله علیه وآله) یا آپ کے (برحق) جانشینوں میں سے کسی سے جان بوجھ کر کوئی جھوٹی بات منسوب کرے تو اگرچه وه فوراً کهه دے که میں نے جھوٹ کهاهے یا توبه کرلے تب بھی احتیاط لازم کی بنا پر اس کا روزه باطل هے اور احتیاط مستحب کی بنا پر حضرت فاطمه زَهرا سَلاَمُ اللهِ عَلَیهَا اور تمام انبیائے مرسلین اور ان کے جانشینوں سے بھی کوئی جھوٹی بات منسوب کرنےکا یهی حکم هے۔

1606۔ اگر (روزه دار) کوئی ایسی روایت نقل کرنا چاهے جس کے قطعی هونے کی دلیل نه هو اور اس کے بارے میں اسے یه علم نه هو که سچ هے یا جھوٹ تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری هے که جس شخص سے وه روایت هو یا جس کتاب میں لکھی دیکھی هو اس کا حواله دے۔

1607۔ اگر (روزه دار) کسی چیز کے بارے میں اعتقاد رکھتا هو که وه واقعی قول خدایا قول پیغمبر (صلی الله علیه وآله) هے اور اسے الله تعالی یا پیغمبر اکرم (صلی الله علیه وآله) سے منسوب کرنے اور بعد میں معلوم هو که یه نسبت صحیح نهیں تھی تو اس کا روزه باطل نهیں هوگا۔

ص:303

1608۔ اگر روزے دار کسی چیز کے بارے میں یه جانتے هوئے که جھوٹ هے اسے الله تعالی اور رسول اکرم (صلی الله علیه وآله) سے منسوب کرے اور بعد میں اسے پته چلے که جو کچھ اس نے کها تھا وه درست تھا تو احتیاط لازم کی بنا پر ضروری هے که روزے کو تمام کرے اور اس کی قضا بھی بجالائے۔

1609۔ اگر روزے دار کسی ایسے جھوٹ کو جو خود روزے دار نے نهیں بلکه کسی دوسرے نے گھڑا هو جان بوجھ کر الله تعالی یا رسول اکرم (صلی الله علیه وآله) یا آپ کے (برحق) جانشینوں سے منسوب کر دے تو احتیاط لازم کی بنا پر اس کا روزه باطل هو جائے لیکن اگر جس نے جھوٹ گھڑا هو اس کا قول نقل کرے تو کوئی حرج نهیں ۔

1610۔ اگر روزے دار سے سوال کیا جائے که کیا رسول محتشم (صلی الله علیه وآله) نے ایسا فرمایا هے اور وه عمداً جهاں جواب نهیں دینا چاهئے وهاں اثبات میں دے اور جهاں اثبات میں دینا چاهئے وهاں عمداً نفی میں دے تو احتیاط لازم کی بنا پر اس کا روزه باطل هو جاتا هے۔

1611۔ اگر کوئی شخص الله تعالی یا رسول کریم (صلی الله علیه وآله) کا قول درست نقل کرے اور بعد میں کهے که میں نے جھوٹ کهاهے یا رات کو کوئی جھوٹی بات ان سے منسوب کرے اور دوسرے دن جب که روزه رکھا هو هو کهے که جو کچھ میں نے گزشته رات کها تھا وه درست هے تو اس کا روزه باطل هو جاتا هے لیکن اگر وه روایت کے (صحیح یا غلط هونے کے) بارے میں بتائے (تو اس کا روزه باطل نهیں هوتا)۔