لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
1748۔ عید فطر اور عید قربان کے دن روزه رکھنا حرام هے نیز جس دن کے بارے میں انسان کو یه علم نه هو که شعبان کی آخری تاریخ هے یا رمضان المبارک کی پهلی تو اگر وه اس دن پهلی رمضان المبارک کی نیت سے روزه رکھے تو حرام هے۔
1749۔اگر عورت کے مستحب (نفلی) روزه رکھنے سے شوهر کی حق تلفی هوتی هو تو عورت کا روزه رکھنا حرام هے اور احتیاط واجب یه هے که خواه شوهر کی حق تلفی نه بھی هوتی هو اس کی اجازت کے بغیر مستحب (نفلی) روزه نه رکھے۔
ص:326
1750۔اگر اولاد کا مستحب روزه ۔ ماں باپ کی اولاد سے شفقت کی وجه سے ۔ ماں باپ کے لئے اذیت کا موجب هو تو اولاد کے لئے مستحب روزه رکھنا حرام هے۔
1751۔ اگر بیٹا باپ کی اجازت کے بغیر مستحب روزه رکھ لے اور دن کے دوران باپ اسے (روزه رکھنے سے)منع کرے تو اگر بیٹے کا باپ کی بات نه ماننا فطری شفقت کی وجه سے اذیت کا موجب هو تو بیٹے کو چاهئے که روزه توڑ دے۔
1752۔ اگر کوئی شخص جانتا هو که روزه رکھنا اس کے لئے ایسا مضر نهیں هے که جس کی پروا کی جائے تو اگرچه طبیب کهے که مضمر هے اس کے لئے ضروری هے که روزه رکھے اور اگر کوئی شخص یقین یا گمان رکھتا هو که روزه اس کے لئے مضر هے تو اگرچه طبیب کهے که مضر نهیں هے ضروری هے که وه روزه نه رکھے اور اگر وه روزه رکھے جبکه روزه رکھنا واقعی مضر هو یا قصد قربت سے نه هو تو اس کا روزه صحیح نهیں هے۔
1753۔اگر کسی شخص کو احتمال هو که روزه رکھنا اس کے لئے ایسا مضر هے که جس کی پروا کی جائے اور اس احتمال کی بنا پر (اس کے دل میں) خوف پیدا هو جائے تو اگر اس کا احتمال لوگوں کی نظر میں صحیح هوتو اسے روزه نهیں رکھنا چاهئے۔ اور اگر وه روزه رکھ لے تو سابقه مسئلے کی طرح اس صورت میں بھی اس کا روزه صحیح نهیں هے۔
1754۔ جس شخص کو اعتماد هو که روزه رکھنا اس کے لئے مضر نهیں اگر وه روزه رکھ لے اور مغرب کے بعد اسے پته چلے که روزه رکھنا اس کے لئے ایسا مضر تھا که جس کی پروا کی جاتی تو احتیاط واجب کی بنا پر اس روزے کی قضا کرنا ضروری هے۔
1755۔ مندرجه بالا روزوں کے علاوه اور بھی حرام روزے هیں جو مفصل کتابوں میں مذکور هیں۔
1756۔ عاشور کے دن روزه رکھنا مکروه هے اور اس دن کا روزه بھی مکروه هے جس کے بارے میں شک هو که عرفه کا دن هے یا عید قربان کا دن۔