لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

حائض کے احکام

ص:93

456۔ چند چیزیں حائض پر حرام ہیں:

1۔ نماز اور اس جیسی دیگر عبادتیں جنہیں وضو یا غسل یا تیمم کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے۔ لیکن ان عبادتوں کے ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں جن کے لئے وضو، غسل یا تیمم کرنا ضروری نہیں جیسے نماز میت۔

2۔ وہ تمام چیزیں جو مجنب پر حرام ہیں اور جن کا ذکر جنابت کے احکام میں آچکا ہے۔

3۔ عورت کی فرج میں جماع کرنا اور جو مرد اور عورت دونوں کے لئے حرام ہے خواہ دخول صرف سپاری کی حد تک ہی ہو اور منی بھی خارج نہ ہو بلکہ احتیاط واجب یہ ہے کہ سپاری سے کم مقدار میں بھی دخول نہ کیا جائے نیز احتیاط کی بنا پر عورت کی دبر میں مجامعت نہ کرے خوہ وہ حائض ہو یا نہ ہو۔

457۔ ان دنوں میں بھی جماع کرنا حرام ہے جن میں عورت کا حیض یقینی نہ ہو لیکن شرعاً اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنے آپ کو حائض قرار دے۔ پس جس عورت کو دس دن سے زیادہ خون آیا ہو اور اس کے لئے ضروری ہو کہ اس حکم کے مطابق جس کا ذکر بعد میں کیا جائے گا اپنے آپ کو اتنے دن کے لئے حائض قرار دے جتنے دن کی اس کے کنبے کی عورتوں کو عادت ہو تو اس کا شوہر ان دنوں میں اس سے مجامعت نہیں کر سکتا۔

458۔ اگر مرد اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں مجامعت کرے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ استغفار کرے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ کفارہ بھی ادا کرے، اس کا کفارہ مسئلہ 460 میں بیان ہوگا۔

459۔ حائض سے مجامعت کے علاوہ دوسری لطف اندوزیوں مثلاً بوس و کنار کی ممانعت نہیں ہے۔

460۔ حیض کی حالت میں مجامعت کا کفارہ حیض کے پہلے حصے میں اٹھارہ چنوں کے برابر، دوسرے حصے میں نو چنوں کے برابر اور تیسرے حصے میں ساڑھے چار چنوں کے برابر سکہ دار سونا ہے مثلاً اگر کسی عورت کو چھ دن حیض کا خون آئے اور اس کا شوہر پہلی یا دوسری رات یا دن میں اس سے جماع کرے تو اٹھارہ چنوں کے برابر سونا دے اور اگر تیسری یا چوتھی رات یا دن میں جماع کرے تو نو چنوں کے برابر سونا دے اور اگر پانچویں یا چھٹی رات یا دن میں جماع کرے تو ساڑھے چار چنوں کے برابر سونا دے۔

ص:94

461۔ اگر سکہ دار سونا ممکن نہ ہو تو متعلقہ شخص اس کی قیمت دے اور اگر سونے کی اس وقت کی قیمت ہے جب کہ اس نے جماع کیا تھا اس وقت کی قیمت جب کہ وہ غریب محتاج کو دینا چاہتا ہو مختلف ہو گئی ہو تو اس وقت کی قیمت کے مطابق حساب لگائے جب وہ غریب محتاج کو دینا چاہتا ہو۔

462۔ اگر کسی شخص نے حیض کے پہلے حصے میں بھی دوسرے حصے میں بھی اور تیسرے حصے میں بھی اپنی بیوی سے جماع کیا ہو تو وہ تینوں کفارے دے جو سب مل کر ساڑھے اکتیس چنے (05ء6 گرام) ہو جاتے ہیں۔

463۔ اگر مرد کو جماع کے دوران معلوم ہو جائے کہ عورت کو حیض آنے لگا ہے تو ضروری ہے کہ فورا اس سے جدا ہو جائے اور اگر جدا نہ ہو تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ کفارہ دے۔

465۔ اگر کوئی مرد حائض سے زنا کرے یا یہ گمان کرتے ہوئے نامحرم حائض سے جماع کرے کہ وہ اس کی اپنی بیوی ہے تب بھی احتیاط مستحب یہ ہے کہ کفارہ دے۔

466۔ اگر کوئی شخص لاعلمی کی بنا پر یا بھول کر عورت سے حالت حیض میں مجامعت کرے تو اس پر کفارہ نہیں۔

467۔ اگر ایک مرد یہ خیال کرتے ہوئے کہ عورت حائض ہے اس سے مجامعت کرے لیکن بعد میں معلوم ہو کہ حائض نہ تھی تو اس پر کفارہ نہیں۔

468۔ جیسا کہ طلاق کے احکام میں بتایا جائے گا عورت کو حیض کی حالت میں طلاق دینا باطل ہے۔

469۔ اگر عورت کہیے کہ میں حائض ہوں یا یہ کہے کہ میں حیض سے پاک ہوں اور وہ غلط بیانی نہ کرتی ہو تو اس کی بات قبول کی جائے لیکن اگر غلط بیاں ہو تو اس کی بات قبول کرنے میں اشکال ہے۔

470۔ اگر کوئی عورت نماز کے دوران حائض ہو جائے تو اس کی نماز باطل ہے۔

471۔ اگر عورت نماز کے دوران شک کرے کہ حائض ہوئی ہے یا نہیں تو اس کی نماز صحیح ہے لیکن اگر نماز کے بعد اسے پتہ چلے کہ نماز کے دوران حائض ہوگئی تھی تو جو نماز اس نے پڑھی ہے وہ باطل ہے۔

ص:95

472۔ عورت کے حیض سے پاک ہوجانے کے بعد اس پر واجب ہے کہ نماز اور دوسری عبادات کے لئے جو وضو، غسل یا تیمم کرکے بجالانا چاہئیں غسل کرے اور اس کا طریقہ غسل جنابت کی طرح ہے اور بہتر یہ ہے کہ غسل سے پہلے وضو بھی کرے۔

473۔ عورت کے حیض سے پاک ہوجانے کے بعد اگرچہ اس نے غسل نہ کیا ہو اسے طلاق دینا صحیح ہے اور اس کا شوہر اس سے جماع بھی کرسکتا لیکن احتیاط لازم یہ ہے کہ جماع شرم گاہ دھونے کے بعد کیا جائے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس کے غسل کرنے سے پہلے مرد اس سے جماع نہ کرے۔

البتہ جب تک وہ عورت غسل نہ کرلے وہ دوسرے کام جو حیض کے وقت اس پر حرام تھے مثلاً مسجد میں ٹھہرنا یا قرآن مجید کے الفاظ کو چھوٹا اس پر حلال نہیں ہوتے۔

474۔ اگر پانی (عورت کے) وضو اور غسل کے لئے کافی نہ ہو اور تقریباً اتنا ہو کہ اس سے غسل کر سکے تو ضروری ہے کہ غسل کرے اور بہتر یہ ہے کہ وضو کے بدلے تیمم کرے اور اگر پانی صرف وضو کے لئے کافی ہو اور اتنا نہ ہو کہ اس سے غسل کیا جاسکے تو بہتر یہ ہے کہ وضو کرے اور غسل کے بدلے تیمم کرنا ضروری ہے اور اگر دونوں میں سے کسی کے لئے بھی پانی نہ ہو تو غسل کے بدلے تیمم کرنا ضروری ہے۔ اور بہتر یہ ہے کہ وضو کے بدلے بھی تیمم کرے۔

475۔ جو نمازیں عورت نے حیض کی حالت میں نہ پڑھی ہوں ان کی قضا نہیں لیکن رمضان کے وہ روزے جو حیض کی حالت میں نہ رکھے ہوں ضروری ہے کہ ان کے قضا کرے اور اسی طرح احتیاط لازم کی بنا پر جو روزے منت کی وجہ سے معین دنوں میں واجب ہوئے ہوں اور اس نے حیض کی حالت میں وہ روزے نہ رکھے ہوں تو ضروری ہے کہ ان کی قضا کرے۔

476۔ جب نماز کا وقت ہوجائے اور عورت یہ جان لے (یعنی اسے یقین ہو) کہ اگر وہ نماز پڑھنے میں دیر کرے گی تو خالص ہوجائے گی تو ضروری ہے کہ فوراً نماز پڑھے اور اگر اسے فقط احتمال ہو کہ نماز میں تاخیر کرنے سے وہ حائض ہوجائے گی احتیاط لازم کی بنا پر یہی حکم ہے۔

477۔ اگر عورت نماز پڑھنے میں تاخیر کرے اور اول وقت میں سے اتنا وقت گزر جائے جتنا کہ حدث سے پانی کے ذریعے، اور احتیاط لازم کی بنا پر تیمم کے ذریعے طہارت حاصل کرکے ایک نماز پرھنے میں لگتا اور اسے حیض آجائے تو

ص:96

اس نماز کی قضا اس عورت پر واجب ہے۔ لیکن جلدی پڑھنے اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور دوسری باتوں کے بارے میں ضروری ہے کہ اپنی عادت کا لحاظ کرے مثلاً اگر ایک عورت جو سفر میں نہیں ہے اول وقت میں نماز ظہر نہ پڑھے تو اس کی قضا اس پر اس صورت میں واجب ہوگی جب کہ حدث سے طہارت حاصل کرنے کے بعد چار رکعت نماز پرھنے کے برابر وقت اول ظہر سے گزر جائے اور وہ حائض ہو جائے اور اس عورت کے لئے جو سفر میں ہو طہارت حاصل کرنے کے بعد دو رکعت پڑھنے کے برابر وقت گزرجانا بھی کافی ہے۔

478۔ اگر ایک عورت نماز کے آخر وقت میں خون سے پاک ہو جائے اور اس کے پاس اندازاً اتنا وقت ہو کہ غسل کرکے ایک یا ایک سے زائد رکعت پڑھ سکے تو ضروری ہے کہ نماز پڑھے اور اگر نہ پڑھے تو ضروری ہے کہ اس کی قضا بجالائے۔

479۔ اگر ایک حائض کے پاس (حیض سے پاک ہونے کے بعد) غسل کے لئے وقت نہ ہو لیکن تیمم کر کے نماز وقت کے اندر پڑھ سکتی ہو تو احتیاط واجب یہ ہے کہ وہ نماز تیمم کے ساتھ پڑھے اور اگر نہ پڑھے تو قضا کرے۔ لیکن اگر وقت کی تنگی سے قطع نظر کسی اور وجہ سے اس کا فریضہ ہی تیمم کرنا ہو مثلاً اگر پانی اس کے لئے مضر ہو تو ضروری ہے کہ تیمم کرکے وہ نماز پڑھے اور اگر نہ پڑھے تو ضروری ہے کہ اس کی قضا کرے۔

480۔ اگر کسی عورت کو حیض سے پاک ہو جانے کے بعد شک ہو کہ نماز کے لئے وقت باقی ہے یا نہیں تو اسے چاہئے کہ نماز پرھ لے۔

481۔ اگر کوئی عورت اس خیال سے نماز نہ پڑھے کہ حدث سے پاک ہونے کے بعد ایک رکعت نماز پڑھنے کے لئے بھی اس کے پاس وقت نہیں ہے لیکن بعد میں اسے پتہ چلے کہ وقت تھا تو اس نماز کی قضا بجالانا ضروری ہے۔

482۔ حائض کے لئے مستحب ہے کہ نماز کے وقت اپنے آپ کو خون سے پاک کرے اور روئی اور کپڑے کا ٹکڑا بدلے اور وضو کرے اور اگر وضو نہ کرسکے تو تیمم کرے اور نماز کی جگہ پر روبقبلہ بیٹھ کر ذکر، دعا اور صلوات میں مشغول ہو جائے۔

483۔ حائض کے لئے قرآن مجید کا پڑھنا اور اسے اپنے ساتھ رکھنا اور اپنے بدن کا کوئی حصہ اس کے الفاظ کے درمیانی حصے سے چھونا نیز مہندی یا اس جیسی کسی اور چیز سے خضاب کرنا بعض فقہای عظام کی نظر میں مکروہ شمار کیا گیا ہے۔

ص:97