لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
1489۔ اگر مقتدی صرف ایک مرد هو تو مستحب هے که وه امام کی دائیں طرف کھڑا هو اور اگر ایک عورت هو تب بھی مستحب هے که امام کی دائیں طرف کھڑی هو لیکن ضروری هے که اس کے سجده کرنے کی جگه امام سے اس کے سجدے کی حالت میں دو زانوں کے فاصلے پر هو۔ اور اگر ایک مرد اور ایک عورت یا ایک مرد اور چند عورتیں هوں تو مستحب هے که مرد امام کی دائیں طرف اور عورت یا عورتیں امام کے پیچھے کھڑی هوں۔ اور اگر چند مرد اور ایک یا چند عورتیں هوں تو مردوں کا امام کے پیچھے اور عورتوں کا مردوں کے پیچھے کھڑا هونا مستحب هے۔
1490۔ اگر امام اور مقتدی دونوں عورتیں هوں تو احتیاط واجب یه هے که سب ایک دوسری کے برابر برابر کھڑی هوں اور امام مقتدیوں سے آگے نه کھڑی هو۔
1491۔ مستحب هے که امام صف کے درمیان میں آگے کھڑا هو اور صاحبان علم و فضل اور تقوی و ورع پهلی صف میں کھڑے هوں۔
1492۔ مستحب هے که جماعت کی صفیں منظم هوں اور جو اشخاص ایک صف میں کھڑے هوں ان کے درمیان فاصله نه هو اور ان کے کندھے ایک دوسرے کے کندھوں سے ملے هوئے هوں۔
1493۔ مستحب هے که "قَدقَامَتِ الصَّلاَۃُ" کهنے کے بعد مقتدی کھڑے هوجائیں۔
ص:285
1494۔ مستحب هے که امام جماعت اس مقتدی کی حالت کا لحاظ کرے جو دوسروں سے کمزور هو اور قنوت اور رکوع اور سجود کو طول نه دے بجز اس صورت کے که اسے علم هو که تمام وه اشخاص جنهوں نے اس کی اقتدا کی هے طول دینے کی جانب مائل هیں۔
1495۔ مستحب هے که امام جماعت الحمد اور سوره نیز بلند آواز سے پڑھے جانے والے اَذ کار پڑھتے هوئے اپنی آواز کو اتنا بلند کرے که دوسرے سن سکیں لیکن ضروری هے که آواز مناسب حد سے زیاده بلند نه کرے۔
1496۔ اگر امام کی حالت رکوع میں معلوم هو جائے که کوئی شخص ابھی ابھی آیا هے اور اقتدا کرنا چاهتا هے تو مستحب هے که رکوع کو معمول سے دُگنا طُول دے اور پھر کھڑا هو جائے خواه اسے معلوم هو جائے که کوئی دوسرا شخص بھی اقتدا کے لئے آیا هے۔