لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

تیمم کے احکام

710۔ اگر ایک شخص پیشانی یا ہاتھوں کی پشت کے ذرا سے حصے کا بھی مسح نہ کرے تو اس کا تیمم باطل ہے قطع نظر اس سے کہ اس نے عمداً مسح نہ کیا ہو یا مسئلہ بھول گیا ہو لیکن بال کی کھال نکالنے کی ضرورت بھی نہیں۔ اگر یہ کہا جاسکے کہ تمام پیشانی اور ہاتھوں کا مسح ہو گیاہے تو اتنا ہی کافی ہے۔

711۔ اگر کسی شخص کو یقین نہ ہو کہ ہاتھ کہ تمام پشت پر مسح کر لیا ہے تو یقین حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ کلائی سے کچھ اورپر والے حصے کا بھی مسح کرے لیکن انگلیوں کے درمیان مسح کرنا ضروری نہیں ہے۔

712۔ تیمم کرنے والے کو پیشانی اور ہاتھوں کو پشت کا مسح احتیاط کی بنا پر اوپر سے نیچے کی جانب کرنا ضروری ہے اور یہ افعال ایک دوسرے سے متصل ہونے چاہیئں اور اگر ان افعال کے درمیان اتنا فاصلہ دے کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ تیمم کر رہا ہے تو تیمم باطل ہے۔

713۔ نیت کرنے وقت لازم نہیں کہ اس بات کا تعین کرے کہ اس کا تیمم غسل کے بدلے ہے یا وضو کے بدلے لیکن جہاں دو تیمم انجام دینا ضروری ہوں تولازم ہے کہ ان میں سے ہرایک کو معین کرے اور اگر اس پر ایک تیمم واجب ہو

ص:145

اور نیت کرے کہ میں اس وقت اپنا وظیفہ انجام دے رہا ہوں تو اگرچہ وہ معین کرنے میں غلطی کرے (کہ یہ تیمم غسل کے بدلے ہے یا وضو کے بدلے) اس کا تیمم صحیح ہے۔

714۔ احتیاط مستحب کہ بنا پر تیمم میں پیشانی، ہاتھوں کی ہتھیلیاں اور ہاتھوں کی پشت جہاں تک ممکن ہو ضروری ہے کہ پاک ہوں۔

715۔ انسان کو چاہئے کہ ہاتھ پر مسح کرتے وقت انگوٹھی اتار دے اور اگر پیشانی یا ہاتھوں کی پشت یا ہتھیلیوں پر کوئی رکاوٹ ہو مثلا ان پر کوئی چیز چپکی ہوئی ہو تو ضروری ہے کہ اسے ہٹا دے۔

716۔ اگر کسی شخص کی پیشانی یا ہاتھوں کی پشت پر زخم ہو اور اس پر کپڑا یا پٹی وغیرہ بندھی ہو جس کو کھولا نہ جاسکتا ہو تو ضروری ہے کہ اس کے اوپر ہاتھ پھیرے۔ اور اگر ہتھیلی زخمی ہو اور اس پر کپڑا یا پٹی وغیرہ بندھی ہو جسے کھولانہ جاسکتا ہو تو ضروری ہے کہ کپڑےیا پٹی وغیرہ سمیت ہاتھ اس چیز مارے جس پر تیمم کرنا صحیح ہو اور پھر پیشانی اور ہاتھوں کی پشت پر پھیرے۔

717۔ اگر کسی شخص کی پیشانی اور ہاتھوں کی پشت پر بال ہوں تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر سر کے بال پیشانی پر آگرے ہوں تو ضروری ہے کہ انہیں پیچھے ہٹا دے۔

718۔ اگر احتمال ہو کہ پیشانی اور ہتھیلیوں یا ہاتھوں کی پشت پر کوئی رکاوٹ ہے اور یہ احتمال لوگوں کی نظروں میں معقول ہو تو ضروری ہے کہ چھان بین کرے تاکہ اسے یقین یا اطمینان ہو جائے کہ رکاوٹ موجود نہیں ہے۔

719۔ اگر کسی شخص کا وظیفہ تیمم ہو اور خود تیمم نہ کرسکتا ہو تو ضروری ہے کہ کسی دوسرے شخص سے مدد لے تاکہ وہ مددگار متعلقہ شخص کے ہاتھوں کو اس چیز پر مارے جس پر تیمم کرنا صحیح ہو اور پھر معتلقہ شخص کے ہاتھوں کو اس کی پیشانی اور دونوں ہاتھوں کی پشت پر رکھ دے تاکہ امکان کی صورت میں وہ خود اپنی دونوں ہتھیلیوں کو پیشانی اور دونوں ہاتھوں کی پشت پر پھیرے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو نائب کے لئے ضروری ہے کہ متعلقہ شخص کو خود اس کے ہاتھوں سے تیمم کرائے اور اگر ایسا کرنا ممکن نہ تو تو نائب کے لئے ضروری ہے کہ اپنے ہاتھوں کو اس چیز پر مارے جس پر تیمم کرنا صحیح ہو اور پھر متعلقہ شخص کی پیشانی اور ہاتھوں کی پشت پر پھیرے۔ ان دونوں صورتوں میں احتیاط لازم کی بنا پر دونوں شخص تیمم کی نیت کریں لیکن پہلی صورت میں خود مکلف کی نیت کافی ہے۔

ص:146

720۔ اگر کوئی شخص تیمم کے دوران شک کرے کہ وہ اس کا کوئی حصہ بھول گیا ہے یا نہیں اور اس حصے کا موقع گزر گیا ہو تو وہ اپنے شک کا لحاظ نہ کرے اور اگر موقع نہ گزرا ہو تو ضروری ہے کہ اس حصے کا تیمم کرے۔

721۔ اگر کسی شخص کو بائیں ہاتھ کا مسح کرنے کے بعد شک ہو کہ آیا اس نے تیمم درست کیا ہے یا نہیں تو اس کا تیم صحیح ہے اور اگر اس کا شک بائیں ہاتھ کے مسح کے بارے میں ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کا مسح کرے سوائے اس کے کہ لوگ یہ کہیں کہ تیمم سے فارغ ہوچکا ہے مثلاً اس شخص نے کوئی ایسا کام کیا ہو جس کے لئے طہارت شرط ہے یا تسلسل ختم ہو گیا ہو۔

722۔ جس شخص کا وظیفہ تیمم ہو اگر وہ نماز کے پورے وقت میں عذر کے ختم ہونے سے مایوس ہو جائے تو تیمم کر سکتا ہے اور اگر اس نے کسی دوسرے واجب یا مستحب کام کے لئے تیمم کیا ہو اور نماز کے وقت تک اس کا عذر باقی ہو(جس کی وجہ سے اس کا وظیفہ تیمم ہے) تو اسی تیمم کے ساتھ نماز پڑھ سکتا ہے۔

723۔ جس شخص کا وظیفہ تیمم ہو اگر اسے علم ہو کہ آخر وقت تک اس کا عذر باقی رہے گا یا وہ عذر کے ختم ہونے سے مایوس ہو تو وقت کے وسیع ہوتے ہوئے وہ تیمم کے ساتھ نماز پڑھ سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ جانتا ہو کہ آخر وقت تک اس کا عذر دور ہو جائے گا تو ضروری ہے کہ انتظار کرے اور وضو یا غسل کرکے نماز پڑھے۔ بلکہ اگر وہ آخر وقت تک عذر کے ختم ہونے سے مایوس نہ ہو تو مایوس ہونے سے پہلے تیمم کر کے نماز نہیں پڑھ سکتا۔

724۔ اگر کوئی شخص وضو یا غسل نہ کر سکتا ہو اور اسے یقین ہو کہ اس کا عذر دور ہونے والا نہیں ہے یا دور ہونے سے مایوس ہو تو وہ اپنی قضا نمازیں تیمم کے ساتھ پڑھ سکتا ہے لیکن اگر بعد میں عذر ختم ہو جائے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ وہ نمازیں وضو یا غسل کرکے دوبارہ پڑھے اور اگر اسے عذر دور ہونے سے مایوسی نہ ہو تو احتیاط لازم کی بنا پر قضا نمازوں کے لئے تیمم نہیں کرسکتا۔

725۔ جو شخص وضو یا غسل نہ کر سکتا ہو اس کے لئے جائز ہے کہ مستحب نمازیں دن رات کے ان نوافل کی طرح جن کا وقت معین ہے تیمم کرکے پڑھے لیکن اگر مایوس نہ ہو کہ آخر وقت تک اس کا عذر دور ہو جائے گا تو احتیاط لازم یہ ہے کہ وہ نمازیں ان کے اول وقت میں نہ پڑھے۔

ص:147

726۔ جس شخص نے احتیاطاً گسل جبیرہ اور تیمم کیا ہو اگر وہ غسل اور تیمم کے بعد نماز پڑھے اور نماز کے بعد اس سے حدث اصغر صادر ہو مثلاً اگر وہ پیشاب کرے تو بعد کی نمازوں کے لئے ضروری ہے کہ وضو کرے اور اگر حدث نماز سے پہلے صادر ہو تو ضروری ہے کہ اس نماز کے لئے بھی وضو کرے۔

727۔ اگر کوئی شخص پانی نہ ملنے کی وجہ سے یا کسی اور عذر کی بنا پر تیمم کرے تو عذر کے ختم ہو جانے کے بعد اس کا تیمم باطل ہو جاتا ہے۔

728۔ جو چیزیں وضو کو باطل کرتی ہیں وہ وضو کے بدلے کئے ہوئے تیمم کو بھی باطل کرتی ہیں اور جو چیزیں غسل کو باطل کرتی ہیں وہ غسل کے بدلے کئے ہوئے تیمم کو بھی باطل کرتی ہیں۔

729۔ اگر کوئی شخص غسل نہ کر سکتا ہو اور چند غسل اس پر واجب ہوں تو اس کے لئے جائز ہے کہ ان غسلوں کے بدلے ایک تیمم کرے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ ان غسلوں میں سے ہر ایک کے بدلے ایک تیمم کرے۔

730۔ جو شخص غسل نہ کر سکتا ہو اگر وہ کوئی ایسا کام انجام دینا چاہے جس کے لئے غسل واجب ہو تو ضروری ہے کہ غسل کے بدلے تیمم کرے اور جو شخص وضو نہ کر سکتا ہو اگر وہ کوئی ایسا کام انجام دینا چاہے جس کے لئے وضو واجب ہو تو ضروری ہے کہ وضو کے بدلے تیمم کرے۔

731۔ اگر کوئی شخص غسل جنابت کے بدلے تیمم کرے تو نماز کے لئے وضو کرنا ضروری نہیں ہے لیکن اگر دوسرے غسلوں کے بدلے تیمم کرے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ وضو بھی کرے اور اگر وہ وضو نہ کرسکے تو وضو کے بدلے ایک اور تیمم کرے۔

732۔ اگر کوئی شخص غسل جنابت کے بدلے تیمم کرے لیکن بعد میں اسے کسی ایسی صورت سے دو چار ہونا پڑے جو وضو کو باطل کر دیتی ہو اور بعد کی نمازوں کے لئے غسل بھی نہ کر سکتا ہو تو ضروری ہے کہ وضو کرے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ تیمم بھی کرے۔ اور اگر وضو نہ کر سکتا ہو تو ضروری ہے کہ اس کے بدلے تیمم کرے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس تیمم کو مافی الذمہ کی نیت سے بجا لائے (یعنی جو کچھ میرے ذمے ہے اسے انجام دے رہا ہوں)۔

ص:148

733۔ کسی شخص کو کوئی کام انجام دینے مثلاً نماز پڑھنے کے لئے وضو یا غسل کے بدلے تیمم کرنا ضروری ہو تو اگر وہ پہلے تیمم میں وضو کے بدلے تیمم یا غسل کے بدلے تیمم کی نیت کرے اور دوسرا تیمم اپنے وظیفے کو انجام دینے کی نیت سے کرے تو یہ کافی ہے۔

734۔ جس شخص کا فریضہ تیمم ہو اگر وہ کسی کام کے لئے تیمم کرے تو جب تک اس کا تیمم اور عذر باقی ہے وہ ان کاموں کو کر سکتا ہے جو وضو یا غسل کرکے کرنے چاہئیں لیکن اگر اس کا عذر وقت کی تنگی ہو یا اس نے پانی ہوتے ہوئے نماز میت یا سونے کے لئے تیمم کیا ہو تو وہ فقط ان کاموں کو انجام دے سکتا ہے جن کے لئے اس نے تیمم کیا ہو۔

735۔ چند صورتوں میں بہتر ہے کہ جو نمازیں انسان نے تیمم کے ساتھ پڑھی ہوں ان کی قضا کرے :

(اول) پانی کے استعمال سے ڈرتا ہو اور اس نے جان بوجھ کر اپنے آپ کو جنب کر لیا ہو اور تیمم کر کے نماز پڑھی ہو۔

(دوم) یہ جانتے ہوئے یا گمان کرتے ہوئے کہ اس پانی نہ مل سکے گا عمداً اپنے آپ کو جنب کر لیا ہو اور تیمم کرکے نماز پڑھی ہو۔

(سوم) آخر وقت تک پانی کی تلاش میں نہ جائے اور تیمم کرکے نماز پڑھے اور بعد میں اسے پتہ چلے کہ اگر تلاش کرتا تو اسے پانی مل جاتا۔

(چہارم) جان بوجھ کر نماز پڑھنے میں تاخیر کی ہو اور آخر وقت میں تیمم کرکے نماز پڑھی ہو۔

(پنجم) یہ جانتے ہوئے یا گمان کرتے ہوئے کہ پانی نہیں ملے گا جو پانی اس کے پاس تھا اسے گرا دیا ہو اور تیمم کرکے نماز پڑھی ہو۔