لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.

توضیح المسائل

تیمم کی دوسری صورت

672۔ اگر کوئی شخص بڑھاپے یا کمزوری کی وجہ سے یا چور ڈاکو اور جانور وغیرہ کے خوف سے یا کنویں سے پانی نکالنے کے وسائل میسر نہ ہونے کی وجہ سے پانی حاصل نہ کر سکے تو اسے چاہئے کہ تیمم کرے۔ اور اگر پانی مہیا کرنے یا اسے استعمال کرنے میں اسے اتنی تکلیف اٹھانی پڑے جو ناقابل برداشت ہو تو اس صورت میں بھی یہی حکم ہے۔ لیکن آخری صورت میں اگر تیمم نہ کرے اور وضو کرے تو اس کا وضو صحیح ہوگا۔

673۔ اگر کنویں سے پانی نکالنے کے لئے ڈول اور رسی وغیرہ ضروری ہوں اور متعلقہ شخص مجبور ہو کہ اس انہیں خریدے یا کرایہ پر حاصل کرے تو خواہ ان کی قیمت عام بھاو سے کئی گنا زیادہ ہی کیوں نہ ہو اسے چاہئے کہ انہیں حاصل کرے۔ اور اگر پانی اپنی اصلی قیمت سے مہنگا بیچا جا رہا ہو تو اس کے لئے بھی یہی حکم ہے لیکن اگر ان چیزوں کے حصول پر اتنا خرچ اٹھتا ہو کہ اس کے جیب اجازت نہ دیتی ہو تو پھر ان چیزوں کا مہیا کرنا واجب نہیں ہے۔

674۔ اگر کوئی شخص مجبور ہو کہ پانی مہیا کرنے کے لئے قرض لے تو فرض لینا ضروری ہے لیکن جس شخص کو علم ہو یاگمان ہو کہ وہ اپنے قرضے کی ادائیگی نہیں کرسکتا اس کے لئے قرض لینا واجب نہیں ہے۔

675۔ اگر کنواں کھودنے میں کوئی مشقت نہ ہو تو متعلقہ شخص کو چاہئے کہ پانی مہیا کرنے کے لئے کنواں کھودے۔

676۔ اگر کوئی شخص بغیر احسان رکھے کچھ پانی دے تو اسے قبول کر لینا چاہئے۔