لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
1462۔ امام جماعت کے لئے ضروری هے که بالغ، عاقل، شیعه اثنا عشری، عادل اور حلال زاده هو اور نماز صحیح پڑھ سکتا هو نیز اگر مقتدی مرد هو تو اس کا امام بھی مرد هونا ضروری هے اور دس ساله بچے کی اقتدا صحیح هونا اگرچه وجه سے خالی نهیں، لیکن اشکال سے بھی خالی نهیں هے۔
1463۔ جو شخص پهلے ایک امام کو عادل سمجھتا تھا اگر شک کرے که وه اب بھی اپنی عدالت پرقائم هے یا نهیں تب بھی اس کی اقتدا کرسکتا هے۔
ص:281
1464۔ جو شخص کھڑا هو کر نماز پڑھتا هو وه کسی ایسے شخص کی اقتدا نهیں کر سکتا جو بیٹھ کر یا لیٹ کر نماز پڑھتا هو اور جو شخص بیٹھ کر نماز پڑھتا هو وه کسی ایسے شخص کی اقتدا نهیں کر سکتا جو لیٹ کر نماز پڑھتا هو۔
1465۔ جو شخص بیٹھ کر نماز پڑھتا هووه اس شخص کی اقتدا کر سکتا هے جو بیٹھ کر نماز پڑھتا هو لیکن جو شخص لیٹ کر نماز پڑھتا هو اس کا کسی ایسے شخص کی اقتدا کرنا جو لیٹ کر یا بیٹھ کر نماز پڑھتا هو محل اشکال هے۔
1466۔ اگر امام جماعت کسی عذر کی وجه سے نجس لباس یا تیمم یا جبیرے کے وضو سے نماز پڑھے تو اس کی اقتدا کی جاسکتی هے۔
1467۔ اگر امام کسی ایسی بیماری میں مبتلا هو جس کی وجه سے وه پیشاب اور پاخانه نه روک سکتا هو تو اس کی اقتدا کی جاسکتی هے نیز جو عورت مستحاضه نه هو وه مستحاضه عورت کی اقتدا کر سکتی هے۔
1468۔ بهتر هے که جو شخص جذام یا برص کا مریض هو وه امام جماعت نه بنے اور احتیاط واجب یه هے که اس (سزا یافته ) شخص کی جس پر شرعی حد جاری هوچکی هو اقتدا نه کی جائے۔