لندن میں گرینڈ آیت اللہ سید علی امام سیستانی (دام ظله)، یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے رابطہ دفتر.
2452۔ جو شخص شادی نه کرنے کی وجه سے حرام "فعل" میں مبتلا هوتا هو اس پر واجب هے که شادی کرے۔
2453۔ اگر شوهر نکاح میں مثلاً یه شرط عائد کرے که عورت کنوای هو اور نکاح کے بعد معلوم هو که وه کنواری نهیں تو شوهر نکاح کو فسخ کرسکتا هے البته اگر فسخ کرے تو کنواری هونے اور کنوارے نه هونے کے مابین مقرر کرده مهر میں جو فرق هو وه لے سکتا هے۔
2454۔ نامحرم مرد اور عورت کا کسی ایسی جگه ساتھ هونا جهاں اور کوئی نه هو جب که اس صورت میں بهکنے کا اندیشه بھی هو حرام هے چاهے وه جگه ایسی هو جهاں کوئی اور بھی آسکتا هو، البته اگر بهکنے کا اندیشه نه هو تو کوئی اشکال نهیں هے۔
2455۔ اگر کوئی مرد عورت کا مهر نکاح میں معین کردے اور اس کا اراده یه هو که وه مهر نهیں دے گا تو (اس سے نکاح نهیں ٹوٹتا بلکه) صحیح هے لیکن ضروری هے که مهر ادا کرے۔
2456۔جو مسلمان اسلام سے خارج هوجائے اور کفر اختیاط کرے تو اسے "مرتد" کهتے هیں اور مرتد کی دو قسمیں هیں: 1۔ مرتد فطری 2۔ مرتد ملی۔ مرتد فطری وه شخص هے جس کی پیدائش کے وقت اس کے ماں باپ دونوں یا ان میں کوئی ایک مسلمان هو اور وه خود بھی اچھے برے کو پهچاننے کے بعد مسلمان هو هوا هو لیکن بعد میں کافر هوجائے، اور مرتد ملی اس کے برعکس هے (یعنی وه شخص هے جس کی پیدائش کے وقت ماں باپ دونوں یا ان میں سے ایک بھی مسلمان نه هو)۔
2457۔ اگر عورت شادی کے بعد مرتد هوجاۓ تو اس کا نکاح ٹوٹ جاتا هے اور اگر اس کے شوهر نے اس کے ساتھ جماع نه کیا هو تو اس کے لیے عدت نهیں هے۔ اور اگر جماع کے بعد مرتد هوجائے لیکن یائسه هوچکی هو یا بهت چھوٹی هو تب بھی یهی حکم هے لیکن اگر اس کی عمر حیض آنے والے عورتوں کے برابر هو تو اسے چاهئے که اس دستور کے مطابق جس کا ذکر طلاق کے احکام میں کیا جائے گا عدت گزارے اور (علماء کے مابین) مشهور یه هے که اگر عدت کے دوران
ص:462
مسلمان هوجائے تو اس کا نکاح (نهیں ٹوٹتا یعنی) باقی رهتا هے۔ اور یه حکم وجه سے خالی نهیں هے اگرچه بهتر یه هے که احتیاط کی رعایت ترک نه هو۔ اور یائسه اس عورت کو کهتے هیں جس کی عمر پچاس سال هوگئی هو اور عمر رسیده هونے کی وجه سے اسے حیض نه آتا هو اور دوباره آنے کی امید بھی نه هو۔
2458۔ اگر کوئی مرد شادی کے بعد مرتد فطری هوجائے تو اس کی بیوی اس پر حرام هوجاتی هے اور اس عورت کے لئے ضروری هے که وفات کے عدت کے برابر جس کا بیان طلاق کے احکام میں هوگا عدت رکھے۔
2459۔اگر کوئی مرد شادی کے بعد مرتد ملی هوجائے تو اس کا نکاح ٹوٹ جاتا هے لهذا اگر اس نے اپنی بیوی کے ساتھ جماع کیا هو یا وه عورت یائسه یا بهت چھوٹی هو تو اس کے لیے عدت نهیں هے اور اگر وه مرد جماع کے بعد مرتد هو اور اس کی بیوی ان عورتوں کی هم سن هو جنهیں حیض آتا هے تو ضروری هے که وه عورت طلاق کی عدت کے برابر جس کا ذکر طلاق کے احکام میں آئے گا عدت رکھے۔ اور مشهور یه هے که اگر اس کی عدت ختم هونے سے پهلے اس کا شوهر مسلمان هوجائے تو اس کا نکاح قائم رهتا هے۔ اور یه حکم بھی وجه سے خالی نهیں هے البته احتیاط کا خیال رکھنا بهتر هے۔
2460۔ اگر عورت عقد میں مرد پر شرط عائد کرے که اسے (ایک معین) شهر سے باهر نه لے جائے اور مرد بھی اس شرط کو قبول کرلے تو ضروری هے که اس عورت کو اس کی رضامندی کے بغیر اس شهر سے باهر نه لے جائے۔
2461۔ اگر کسی عورت کی پهلے شوهر سے لڑکی هو تو بعد میں اس کا دوسرا شوهر اس لڑکی کا نکاح اپنے اس لڑکے سے کرسکتا هے جو اس بیوی سے نه هو نیز اگر کسی لڑکی کا نکاح اپنے بیٹے سے کرے تو بعد میں اس لڑکی کی ماں سے خود بھی نکاح کرسکتا هے۔
2462۔ اگر کوئی عورت زنا سے حامله هوجائے تو بچے کو گرانا اس کے لئے جائز نهیں هے۔
2463۔ اگر کوئی مرد کسی ایسی عورت سے زنا کرے جو شوهر دار نه هو اور کسی دوسرے کی عدت میں بھی نه هو چنانچه بعد میں اس عورت سے شادی کرلے اور کوئی بچه پیدا هوجائے تو اس صورت میں که جب وه یه نه جانتے هو که بچه حلال نطفے سے هے یا حرام نطفے سے تو وه بچه حلال زاده هے۔
ص:463
2464۔ اگر کسی مرد کو یه معلوم نه هو که ایک عورت عدت میں هے اور وه اس سے نکاح کرے تو اگر عورت کو بھی اس بارے میں علم نه هو اور ان کے هاں بچه پیدا هو تو وه حلال زاده هوگا اور شرعاً ان دونوں کا بچه هوگا لیکن اگر عورت کو علم تھا که وه عدت میں هے اور عدت کے دوران نکاح کرنا حرام هے تو شرعاً وه بچه باپ کا هوگا۔ اور مذکوره دونوں صورتوں میں ان دونوں کا نکاح باطل هے اور جیسے که بیان هوچکا هے وه دونوں ایک دوسرے پر حرام هیں۔
2465۔ اگر کوئی عورت یه کهے که میں یائسه هوں تو اس کی یه بات قبول نهیں کرنی چاهئے لیکن اگر کهے که میں شوهر دار نهیں هوں تو اس کی بات مان لینا چاهئے۔ لیکن اگر وه غلط بیاں هو تو اس صورت میں احتیاط یه هے که اس کے بارے میں تحقیق کی جائے۔
2466۔اگر کوئی شخس کسی ایسی عورت سے شادی کرے جس نے کها هو که میرا شوهر نهیں هے اور بعد میں کوئی اور شخص کهے که وه عورت اس کی بیوی هے تو جب تک شرعاً یه بات ثابت نه هوجائے که وه سچ کهه رها هے اس کی بات کو قبول نهیں کرنا چاهئے۔
2467۔جب تک لڑکا یا لڑکی دو سال کے نه هوجائیں باپ، بچوں کو ان کی ماں سے جدا نهیں کرسکتا اور احوط اور اولی یه هے که بچے کو سات سال تک اس کی ماں سے جدا نه کرے۔
2468۔اگر رشته مانگنے والے کی دیانت داری اور اخلاق سے خوش هو تو بهتر یه هے که لڑکی کا هاتھ اس کے هاتھ میں دینے سے انکار نه کرے۔ پیغمبر اکرم (صلی الله علیه وآله) سے روایت هے که "جب بھی کوئی شخص تمهاری لڑکی کا رشته مانگنے آئے اور تم اس شخص کے اخلاق اور دیانت داری سے خوش هو تو اپنی لڑکی کی شادی اس سے کردو۔ اگر ایسا نه کرو گے تو گویا زمین پر ایک بهت بڑا فتنه پھیل جائے گا۔"
2469۔اگر بیوی شوهر کے ساتھ اس شرط پر اپنے مهر کی مصالحت کرے (یعنی اسے مهر بخش دے) که وه دوسری شادی نهیں کرے گا تو واجب هے که وه دوسری شادی نه کرے۔ اور بیوی کو بھی مهر لینے کا کوئی حق نهیں هے۔
2470۔ جو شخص ولد الزنا هو اگر وه شادی کرلے اور اس کے هاں بچه پیدا هو تو وه حلال زاده هے۔
ص:464
2471۔ اگر کوئی شخص ماه رمضان المبارک کے روزوں میں یا عورت کے حائض هونے کی حالت میں اس سے جماع کرے تو گنهگار هے لیکن اگر اس جماع کے نتیجے میں ان کے هاں کوئی بچه پیدا هو تو وه حلال زاده هے۔
2472۔ جس عورت کو یقین هو که اس کا شوهر سفر میں فوت هوگیا هے اگر وه وفات کی عدت کے بعد شادی کرے اور بعد ازاں اس کا پهلا شوهر سفر سے (زنده سلامت) واپس آجائے تو ضروری هے که دوسرے شوهر سے جدا هو جائے اور وه پهلے شوهر پر حلال هوگی لیکن اگر دوسرے شوهر نے اس سے جماع کیا هو تو عورت کے لئے ضروری هے که عدت گزارے اور دوسرے شوهر کو چاهئے که اس جیسی عورتوں کے مهر کے مطابق اسے مهر ادا کرے لیکن عدت (کے زمانے) کا خرچ (دوسرے شوهر کے ذمے) نهیں هے۔