کرونا سے متعلق چند سوال
٢٧رجب ١٤٤١ہجری

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دفتر مرجع عالیقدر تشیع آقای سید علی سیستانی( دام ظلہ )
سلام علکیم

کرونا وائرس دنیا کے بہت سے ملکوں میں پھیل رہا ہے اور روز بروز اس کے مریضوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ ہمارے لیے واضح ہےکہ مرجعیت اعلیٰ کا اس خطرناک وائرس کے بارے میں کیا موقف ہے (صاحب صلاحیت ذمہ دار افراد کی طرف سے کرونا وائرس نہ پھیلنے کے لئے ضروری دستورالعمل کی پیروی کرنا واجب ہے من جملہ کسی بھی عنوان سے افراد کا ایک جگہ جمع ہونا ) اس حوالہ سے مرجع عالیقدر کی خدمت میں کچھ سوال ہیں جن کے جواب کےہم متمنی ہیں:

۱:جن افراد کو کرونا ہونے کا امکان پایاجاتا ہے كيا ان سے ہر طرح کے جسمی رابطے جیسے ہاتھ ملانا، گلے ملنا وغیرہ سے اجتناب کرنا لازم ہے؟

اور ایسے لوگوں سے احتیاطی تدابیر جیسے ماسک، دستانہ وغیرہ کے بغیر رفت و آمد کرنا جائز ہے؟

۲۔ اگر کوئی شخص اس بیماری میں مبتلاء ہے یا اس کے اندر کرونا کی علامت پائے جانے کا شک ہو، اس کے لئے ایسے افراد کے ساتھ جو اس کے حال سے باخبر نہیں ہیں رفت و آمد کرنا، ملنا جلنا جائز ہے؟

اور اگر ایسا کیا اور دوسروں تک وائرس کے منتقل ہونے کا باعث بنا تو اس کے اوپر کیا شرعی ذمہ داری ہوگی؟

۳۔ اگر کوئی شخص ایسے ملک سے آرہا ہے جہاں پر کرونا وائس پھیل چکاہے، یا یہ کہ مریضوں سے رابطہ میں تھا تو کیا بطور احتیاط واجب ہے کہ خود کو گھر میں کورینٹین رکھے یا ہاسپٹل جائے۔

۴۔ رقوم شرعی خمس و زکات وغیرہ کا استعمال ( تاکہ بیماروں کے لئے ضروری اشیاء جیسے ماسک، دستانہ، ہاتھ دھونے کا لکوٹ وغیرہ کی فراہمی کی جاسکے) جائز ہے؟

۵۔ ان سخت حالات میں جب کہ مومنین اس بیماری میں مبتلاء ہونے کے خطرات سے روبرو ہیں آپ کیانصیحت کرتے ہیں؟

مومنين كا ايك گروه



بسم اللہ الرحمن الرحیم
۱۔ جس شخص کو خوف ہیکہ دوسروں سے جسمی رابطہ اور ان کے ساتھ رفت و آمد اس بیماری کے سرایت کا باعث ہے جس کے نتیجے میں بہت زیادہ نقصان ہوسکتا ہے گرچہ موت کا باعث نہ بھی ہو تو ضروری ہیکہ ایسے کام سے پرہیز کرے مگر یہ کہ احتیاطی تدابیر کرنے کی وجہ سے جیسے ماسک، دستانہ، ہاتھ دھونے کا لکوٹ وغیرہ خود بیماری میں مبتلاء ہونے سے محفوظ ہو اور اگر ان چیزوں کی رعایت نہیں کی اور اسی بیماری میں جس كا خوف تھا مبتلاء ہوگیا تو وہ شرعاً معذور نہیں ہوگا۔

دوسروں کے ساتھ رفت و آمد جبکہ وائرس کے منتقل ہونے کا امکان پایا جاتا ہو جائز نہیں ہے اور اگر ایسا کرے اور دوسروں کے بیمار ہونے کا باعث بنے جب کہ دوسرے اس کے حال سے بے خبر رہے ہوں تو وہ تمام نقصان جو دوسرے پر وارد ہو اس کا شرعی ذمہ دار ہوگا اور اس سبب سے اگر کوئی اس بیماری میں مبتلاء ہوکر انتقال کر جائے تو اس کی دیت بھی دینی ہوگی۔

ایسے شخص پر لازم ہے کہ ان تمام دستور العمل کو اجراء کرے اور انجام دے جو ذمہ دار با صلاحیت افراد کی طرف سے لاگو کیا جارہا ہے۔

۴۔ زکات کا سہم (فی سبیل اللہ) اور اسی طرح خمس سہم امامؑ شرعی ضوابط کی رعایت کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں۔

۵۔ مومنین کرام كو مندرجہ ذیل امور کی نصیحت کرتے ہیں:

(الف)خدا وند متعال کی بارگاہ میں اس بلاء سے نجات پانے کے لئے تضرع، استغاثہ، گریہ و زاری کریں اور کثرت سے نیک کام جیسے غریبوں کی مدد، نیاز مند اور ناتوان افراد کی مدد، تلاوت قرآن اورپیغمبر اسلام اور ائمہ طاہرینؑ سے احادیث میں منقول دعائیں پڑھیں۔

(ب)اس بیماری کے شایع ہونے اور پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے لوگوں میں بے وجہ خوف و اضطراب پیدا کئے بغیر افراد احتیاط برتیں اور اس کے نہ پھیلنے کے لئے تمام تر احتیاطی تدابیر کی رعایت کریں اور جو دوستور العمل ذمہ دار با صلاحیت افراد کی طرف سے دیا جارہا ہے اسی پر پابندی کریں، اور اس کی مخالفت نہ کریں۔

(د)جن افراد کا کام کاج بند ہونے اور رفت و آمد کی محدودیت کی وجہ مالی نقصان ہو رہا ہے ان کی مدد کریں۔

(ہ)جو افراد اس بیماری میں مبتلاء ہیں ان کی تیمارداری کریں اور ان کا خیال رکھیں اور اس میں مذہب و ملت کی کوئی قید نہ ہو اور ان کو تسلی دینے کے ساتھ ان کی ضروریات کو برطرف کرنے کی کوشش کریں۔

خدا وندمتعال ہر طرح کی بلاء اور مصیبت سے سب کو محفوظ رکھے۔

و السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

٢٧رجب ١٤٤١ہجری
دفتر مرجع عالیقدر آیت اللہ سیستانی (دام ظلہ) / نجف اشرف