مناسک حج

مستحب حج

(۱۳۰) جس شخص کے لیے حج کرنا ممکن ہو اسے چاہیے کہ وہ حج کرے چاہے وہ استطاعت نہ بھی رکھتا ہو یا حج الاسلام انجام دے چکا ہو۔ بلکہ اگر ممکن ہو تو ہر سال حج کرنا مستحب ہے۔

(۱۳۱) مناسب ہے کہ مکہ سے آتے وقت دوبارہ حج کے لیے آنے کی نیت ہو، بلکہ بعض رویات میں وارد ہے نہ آنے کی نیت کرنا موت کو قریب کرتا ہے۔

(۱۳۲) مستحب ہے کہ جس میں استطاعت نہ ہو اسے حج کرایا جائے ۔جس طرح حج کے لیے قرض کرنا مستحب ہے جب ادا کرنے کا اطمینان ہو اسی طرح حج میں زیادہ خرچ کرنا بھی مستحب ہے۔

(۱۳۳) فقیر کے لیے جائز ہے کہ جب اس کو سہم فقراء میں سے زکات دی جائے تو اس کو مستحب حج پر خرچ کرے ۔

(۱۳۴) شادی شدہ عورت کے لیے مستحب حج کی لیے شوہر کی اجازت ضروری ہے۔ طلاق رجعی کی عدت گزارنے والے کے لیے بھی یہی حکم ہے لیکن طلاق نائب والی عورت کے لیے شوہر کی اجازت معتبر نہیں ہے۔ اور جس عورت کا شوہر مرگیا ہو اس کے لیے عدہ وفات میں حج کرنا جائز ہے۔