مناسک حج

رمی جمرات

واجبات حج میں سے تیرھواں واجب تین جمرات اولی وسطی اور جمرہ عقبہ کو رمی کرنا (کنکر مارنا) ہے واجب ہے کہ رمی گیارھویں اور بارھویں ذی الحجہ کو کی جائے اور تیرھویں شب منی میں گزارنے والوں پر بنی بر احوط تیرھویں ذی الحجہ کے دن میں بھی رمی کرنا واجب ہے حالت اختیار میں خود رمی کرنا واجب ہے اور نیابت کافی نہیں ہو گی۔
۴۳۱۔ واجب ہے کہ رمی جمرہ اولی سے شروع کرے پھر جمرہ وسطی کو اور پھر جمرہ عقبہ کو رمی کرے اگر بھول یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے اس سے مختلف عمل کرے تو ضروری ہے کہ پھر وہیں سے رمی شروع کرے جہاں سے ترتیب حاصل ہو جائے لیکن اگر پہلے جمرہ کو چار کنکر مارنا شروع کر دے تو پہلے والے کو باقی تین کنکر مارنا کافی ہے اور دوسرے جمرہ کو دوبارہ کنکر مارنا ضروری نہیں ہے ۔
۴۳۲۔ وہ واجب چیزیں جو واجبات حج کے چوتھے واجب جمرہ عقبہ کی رمی کی ذیل میں بیان ہوئیں تینوں جمرات کی رمی میں بھی واجب ہے ۔
۴۳۳۔ واجب ہے کہ رمی جمرات دن کے وقت کی جائے اس حکم سے چرواہے اور ہر وہ شخص جو خوف بیماری یا کسی اور وجہ سے دن کے وقت منی میں نہ رہ سکتا ہو مستثنی ہیں چنانچہ ان افراد کیلئے ہر دن کی رمی اس دن کی رات میں کرنا جائز ہے لیکن اگر ہر شب میں بھی ممکن نہ ہو تو تمام راتوں کی رمی ایک شب میں کرنا جائز ہے۔
۴۳۴۔ جو شخص گیارہ تاریخ کو دن کے وقت بھول کر یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے رمی نہ کرے تو واجب ہے کہ گیارہ تاریخ کو اس کی قضا کرے اور جو بارہ تاریخ کی رمی کو بھول کر یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے نہ کر سکے تو وہ تیرہ تاریخ کو اس کی قضاء کرے احوط یہ ہے کہ جان بوجھ کر رمی نہ کرنے والے کا بھی یہی حکم ہے بناء بر احتیاط ادا اور قضا میں فرق رکھے اور قضا کو ادا سے پہلے انجام دے احوط اولی یہ ہے کہ قضا کو دن کے شروع میں اور ادا کو زوال کے وقت انجام دے ۔

(۴۳۵) جو شخص جان بوجھ کر یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے رمی جمرات کو انجام نہ دے اور پھر مکہ میں اسے یاد آئے یا مسلہ پتہ چلے تو واجب ہے کہ منی واپس جائے اور وہاں رمی کرے۔ اگر دو یا تین دن کی رمی چھوڑ دے تو احوط یہ ہے کہ جس دن کی رمی پہلے چھوٹی ہو اس کی قضا پہلے انجام دے اور دونوں کی رمی کے درمیان کچھ فاصلہ رکھے۔ اگر مکہ سے نکلنے کے بعد یاد آئے یا مسئلہ کا پتہ چلے تو رمی بجا لانے کے لیے واپس جانا لازم نہیں ہے تاہم احوط اولی یہ ہے کہ اگر اگلے سال خود حج پر جائے تو قضا کرے اور اگر خود نہ جائے تو اس کی قضا کے لیے نائب بنائے ۔

(۴۳۶) وہ شخص جو خود رمی نہ کر سکے مثلا مریض ہو تو کسی کو نائب بنائے تو بہتر یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو رمی کے وقت وہاں موجود ہو اور نائب اس کے سامنے رمی انجام دے ۔ اگر نایب اس کی جانب سے رمی انجام دے اور خود رمی کا وقت ختم ہونے سے پہلے عذر ختم ہونے سے مایوس ہو اور اتفاقا عذر ختم ہو جائے تو احوط یہ ہے کہ خود بھی رمی کرے۔ لیکن جو شخص نائب نہ بنا سکتا ہو مثلا بیہوش ہو تو تو اس کا ولی یا کوئی شخص اس کی جانب سے رمی کرے۔

(۴۳۷) جو شخص ایام تشریق (۱۱،۱۲،۱۳ذی الحجہ) میں جان بوجھ کر رمی چھوڑ دے تو اس کا حج باطل نہیں ہوگا، احوط یہ ہے کہ اگر آئندہ سے خود حج کرے تو خود ورنہ نایب کے ذریعے اس کی قضا کرے ۔