مناسک حج

حج کا طوا ف، نماز طواف اور سعی

واجبات حج میں سے ساتواں آٹھواں اور نواں واجب طواف، نماز طواف اور سعی ہیں ۔
۴۱۰۔ حج کے طواف، نماز طواف اور سعی کے طریقے اور شرائط ہیں جو عمرہ کے طواف، نماز طواف اور سعی میں بیان کی جا چکی ہیں ۔
۴۱۱۔ مستحب ہے کہ طواف حج عید قربانی کے دن انجام دیا جائے اور بنا بر احوط گیارھیوں ذی الحجہ سے زیادہ تاخیر نہ کی جائے اگرچہ ظاہر یہ ہے کہ تاخیر کرنا جائز ہے بلکہ ایام تشریق سے کچھ مقدار دیر کرنا بلکہ آخری ذی الحجہ تک تاخیر کا جائز ہونا قوت سے کالی نہیں ہے
۴۱۲۔ احوط یہ ہے کہ حج کے دو وقوف عرفات و مزدلفہ سے پہلے حج کے طواف نماز طواف اور سعی کو انجام نہ دیا جائے اگر کوئی مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے پہلے انجام دے تو کافیہونے میں اشکال ہے اگرچہ وجہ سے خالی نہیں ہے ۔
درج بالا حکم سے بعض موارد مسثنی ہیں:
۱۔ وہ عورتیں جنہیں حیض یا نفاس آنے کا خوف ہے ۔
۲۔ بوڑھا شخص مریض زخمی اور وہ افراد جن کیلئے مکہ واپس آنا مشکل ہو یا وہ افراد جن کیلئے ہجوم وغیرہ کی وجہ سے واپس آ کر طواف کرنا مشکل ہے ۔
۳۔ وہ شخص جو کسی ایسی چیز سے ڈرتا ہو جس کی وجہ سے وہ مکہ واپس نہیں آ سکے گا ۔ چنانچہ درج بالا افراد کیلئے طواف نماز طواف اور سعی کو احرام حج کے بعد دونوں وقوف سے پہلے انجام دینا جائز ہے احوط اولی یہ ہے کہ اگر بعد میں آخری ذی الحجہ تک ممکن ہو تو دوبارہ بھی انجام دیں ۔
۴۱۳۔ طواف حج کو دونوں وقوف کے بعد انجام دینے والے کیلئے ضروری ہے کہ وہ طواف کو حلق و تقصیر کے بعد انجام دے تو طواف کو دوبارہ انجام دینا واجب ہے اور ضروری ہے کہ ایک بکری کفارہ دے ۔
۴۱۴۔ جو شخص حج میں طواف نماز طواف اور سعی خود انجام دینے سے عاجز ہو تو اس کا وہی حکم ہے جو عمرہ میں یہ اعمال انجام نہ دے سکنے والے کا ہے جو مسئلہ ۳۲۶ اور۳۴۲ میں بیاں ہوا وہ عورت جسے حیض یا نفاس آ جائے اور اتنا ٹھہرنا کہ پاک ہو کر طواف بجا لائے ممکن نہ ہو تو اس کیلئے ضروری ہے کہ طواف اور نماز طواف کے لئے کسی کو نائب بنائے بنائے پھر نائب کے طواف کے بعد سعی کو خود انجام دے ۔
۴۱۵۔ حج تمتع کرنے والے پر طواف نماز طواف اور سعی سے فارغ ہو جانے کے بعد خوشبو بھی حلال ہو جائے گی جبکہ بیوی مسئلہ ۴۰۷ میں موجود تفصیل کے مطابق اور احوط کی بناء پر شکار حرام رہیں گے ۔
۴۱۶۔ جس شخص کیلئے طواف اور سعی کی آدائیگی دونوں وقوف سے پہلے جائز ہو اور وہ طواف اور سعی دونوں وقوف سے پہلے انجام دے تو ایسے شخص کیلئے خوشبو اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک کہ وہ منی کے اعمال مژلا رمی و ذبح و حلق یا تقصیر انجام نہ دیدے ۔