مناسک حج

حج تمتع کی قربانی کا مصرف

احوط اولی یہ ہے کہ نقصان دہ نہ ہونے کی صورت میں حج تمتع کرنے والا اپنی قربانی کی کچھ مقدار کھائے چاہے کم مقدار ہی کھائے، قربانی کا ایک تہائی حصہ اپنے یا اپنے گھر والوں کیلئے مخصوص کرنا جائز ہے اسی طرح جائز ہے کہ اس کے دوسرے ایک تہائی حصے کو جس مسلمان کو چاہے ہدیہ دے اور تسیرا تہائی حصہ احتیاط واجب کی بناء پر مسلمان فقراء کو صدقہ دے اگر صدقہ دینا ممکن نہ ہو یا زیادہ زحمت و مشقت کا سبب ہو تو صدقہ دینا ساقط ہو جائے گا یہ واجب نہیں ہے کہ قربانی کا گوشت خود فقیر ہی کو دیا جائے بلکہ اس کے وکیل کو بھی دیا جا سکتا ہے چاہے قربانی کرنے والا فقیر کا وکیل ہی ہو وکیل اپنے موکل کی اجازت سے اس گوشت میں تصرف مثلا ھبہ فروخت یا واپس کر سکتا ہے اگر منی میں موجود افراد میں سے کسی کو گوشت کی ضرورت نہ ہو تو گوشت کو منی سے باہر لے جانا جائز ہے ۔
۴۰۰۔ وہ تہائی حصہ جو صدقہ دے رہا ہو اور وہ تہائی حصہ جو ھدیہ دے رہا ہو انہیں جدا کرنا شرط نہیں ہے بلکہ صرف وصول شرط ہے چنانچہ اگر تہائی مشاع کو صدقہ کرے اور فقیر وصول کر لے خواہ پورے جانور کو قبضے میں لینے کی وجہ سے تو یہ کافی ہے اور تہائی ھدیہ کی صورت بھی یہی ہے ۔
۴۰۱۔ صدقہ و ھدیہ کو قبضے میں لینے والوں کیلئے جائز ہے کہ اس حصے میں جس طرح سے چاہے تصرف کرے لہذا وہ اسے کسی غیر مسلم کو بھی دے سکتے ہیں ۔
۴۰۲۔ اگر کوئی جانور کی قربانی کرے اور بعد میں وہ چوری ہو جائے یا کوئی زبردستی اس سے چھین لے تو قربانی کرنے والا ضامن نہیں ہے لیکن اگر مالک خود اسے چھین لے تو قربانی کرنے والا ضامن نہیں ہے لیکن اگر مالک خود اسے ضائع کر دے چاہے غیر مستحق کو دینے کی وجہ سے تو احوط یہ ہے کہ فقراء کے حصے کا ضامن ہوگا ۔