مناسک حج

منی اور اس کے واجبات

حاجی پر واجب ہے کہ وقوف مزدلفہ کے بعد منی جانے کے لیے نکلے تا کہ وہ اعمال جو منی میں واجب ہیں انہیں انجام دے سکے اور یہ تین اعمال ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
رمی جمراہ عقبہ (جمرہ عقبہ کو کنکر مارنا)
واجبات حج میں سے چوتھا واجب عید قربان کے دن جمرہ عقبہ کو کنکر مارنا ہے اس میں چند چیزیں معتبر ہیں:
۱۔ قصد قربت اور خلوص نیت ۔
۲۔ رمی سات کنکروں سے ہو، اس سے کم کافی نہیں، اسی طرح کنکروں کے علاوہ کسی اور چیز سے مارنا بھی کافی نہیں ہے ۔
۳۔ ایک ایک کرکے سات کنکر مارے جائیں چنانچہ ایک ہی مرتبہ میں دو یا زیادہ کنکر مارنا کافی نہیں ہے ۔
۴۔ جو کنکر جمرہ تک پہنچے وہی شمار ہوگا چنانچہ جو کنکر جمرہ تک نہ پہنچے وہ شمار نہیں ہوگا۔
۵۔ کنکر پھینکنے کی وجہ سے جمرہ تک پہنچے، چنانچہ جمرہ پر رکھ دینا کافی نہیں ہے ۔
۶۔ کنکر کو پھینکنا اور جمرہ تک پہنچنا حاجی کے پھینکنے کی وجہ سے ہو چنانچہ اگر کنکر حاجی کے ہاتھ میں اور حیوان یا کسی اور انسان کے ٹکرانے کی وجہ سے کنکر جمرہ کو لگ جائیے تو یہ کافی نہیں ہے اسی طرح اگر حاجی کنکر پھینکے اور وہ حیوان یا کسی انسان پر جا گرے اور اس کے حرکت کرنے کے وجہ سے جمرہ کو لگ جائے تو کافی نہیں ہے ۔ لیکن کنکر اپنے راستے میں کسی چیز کو لگ کر پھر جمرہ کو لگے مثلا کنکر سخت زمیں کو لگ کر پھر جمرہ کو لگے تو ظاہر یہ ہے کہ یہ کافی ہے ۔
۷۔ رمی ہاتھ سے کرے پس اگر منہ سے یا پاؤں سے کرے تو کافی نہیں ہے اسی طرح احوط یہ ہے کہ کسی آلے سے مثلا غلیل وغیرہ کے ذریعے سے رمی کرنا کافی نہیں ہے ۔
۸۔ رمی طلوع آفتاب سے غروب آفتاب کے درمیان ہو، تاہم عورتیں اور وہ تمام افراد جن کے لیے مشعر سے رات نکلنا جائز ہے شب عید رمی کر سکتے ہیں ۔

(۳۷۷) کنکروں میں دو چیزیں معتبر ہیں :
۱۔ اگر کسی کو کنکر لگنے میں شک ہو تو وہ سمجھے کہ نہیں لگا سوائے اس کے کہ شک موقع گزرنے کے بعد ہو مثلا قربانی کے بعد یا حلق کے بعد یا رات شروع ہونے کے بعد شک ہو ۔

(۳۷۸) کنکروں میں دو چیزیں معتبر ہیں:
۱۔ کنکروں حرم کی حدود سے سوائے مسجد الحرام اور مسجد الخیف کے، اٹھائیں جائیں۔ افضل یہ ہیں کہ مشعر سے اٹھایا جائے ۔
۲۔ بنابر احتیاط کنکر پہلے سے استعمال شدہ نہ ہوں یعنی کنکروں کو پہلے رمی کے لے استعمال نہ کیا گیا ہو، مستحب ہے کہ کنکر رنگدار، نقطہ دار اور نرم ہوں نیز حجم کی لحاظ سے انگلی کے پور کے برابر ہوں جسے رمی کر نے والا کھڑا ہو کر اور با طہارت ہو کر رمی کرے ۔
۳۷۹۔ اگر جمرہ کی لمبائی کو بڑھایا جائے اور اس زائد مقدار پر رمی کے کافی ہونے میں اشکال ہے احوط یہ ہے کہ جمرہ کی پہلے جو مقدار تھی اسی پر رمی کی جائے اگر پرانی مقدار پر رمی کرنا ممکن نہ ہو تو خود زائد مقدار پر رمی کی جائے اور پرانی مقدار پر رمی کرنے کے لئے کسی کو نائب بھی بنایا جائے اس مسئلہ میں مسئلہ جاننے اور نہ جاننے اور بھول جانے والے میں فرق نہیں ہے ۔
۳۸۰۔ اگر کوئی بھولنے یا مسئلہ نہ جاننے یا کسی اور وجہ سے عید کے دن رمی نہ کرے تو جب یاد آئے یا عذر دور ہو جائے تو رمی انجام دے اگر یہ عذر رات میں دور ہو تو ضروری ہے کہ دن تک تاخیر کرے جس کا بیان جمروں کی رمی کی بحث میں آئے گا ظاہر یہ ہے کہ عذر دور ہونے کے بعد جبران کرنا اس وقت واجب ہے جب حاجی منی میں بلکہ مکہ میں ہو حتی کہ اگر عذر و سبب تیرہویں ذی الحجہ کے بعد دور ہو اگر چہ احوط یہ ہے کہ اس صورت میں رمی کو آئندہ سال خود یا نائب کے ذریعے دوبارہ انجام دے اگر مکہ سے نکلنے کے بعد عذر زائل ہو تو مکہ واپس جانا واجب نہیں ہے بلکہ احوط اولی یہ ہے کہ آئندہ سال خود یا نائب کے ذریعے رمی انجام دے ۔
۳۸۱۔ اگر کوئی بھول جانے یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے عید کے دن رمی نہ کرے پھر اسے طواف کے بعد یاد آئے یا مسئلہ پتہ چلے اور وہ رمی انجام دے تو دوبارہ طواف کرنا واجب نہیں ہے تاہم احتیاط یہ ہے کہ اسے دوبارہ انجام دے اور اگر رمی کو بھولنے یا مسئلہ نہ جاننے کے علاوہ کسی اور وجہ سے چھوڑا ہو تو ظاہر یہ ہے کہ اس کا طواف باطل ہوگا، لہذا رمی کرنے کے بعد طواف کو دوبارہ انجام دینا واجب ہے ۔